تازہ ترین

درد پورہ اور ٹکی پورہ میں پینے کے پانی کی شدید قلت

لوگ پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے ہیں

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشرف چراغ
کپوارہ// کرالہ پورہ کپوارہ کے درد پورہ نامی گائوں میں پینے کے پانی کی عدم دستیابی نے سنگین رخ اختیار کیا ہے جبکہ لولاب کے ٹکی پورہ  میں لوگ پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے ہیں ۔درد پورہ کرالہ پورہ کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ پورے علاقہ میں سرکار نے 8 بورویل بنائے لیکن ان میں سے 5 سوکھ گئے ہیں اور صرف 3سے ہی پانی حاصل کیا جاتا ہے ۔ مقامی شہری غلام محی الدین خواجہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ 3 پنچائتو ں پر مشتمل اس علاقہ کی آ بادی 15 ہزار سے زائد ہے لیکن پینے کے صاف پانی کا کوئی ذریعہ دستیاب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل جب سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کپوارہ کا دورہ کیا تو درد پورہ کے ایک وفد نے انہیں اپنے اس اہم مسئلہ سے آگاہ کیا اور محبوبہ مفتی نے محکمہ پی ایچ ای کو ہدایت دی کہ وہ ایک پروجیکٹ مرتب کریں تاکہ ایک منظم واٹر سپلائی سکیم کے تحت لوگو ں کو پانی فراہم کیا جائے ۔مقامی لوگو ں کے مطابق شائد وہ پروجیکٹ بھی کسی سرکاری دفتر میں دھول چاٹ رہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ چھوٹے چھوٹے چشمو ں سے پانی حاصل کرتے تھے لیکن اب اُن میں بھی پانی مکمل طور ختم ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں لوگ پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔ مقامی لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ محکمہ نے واٹر ٹینکروں کے ذریعہ پینے کا پانی فراہم کرنے کایقین دلایا لیکن پہاڑ ی علاقہ ہونے کی وجہ سے وہ واٹر ٹینکر یہا ں تک نہیں پہنچ پائے ۔اس دوران ٹکی پورہ لولاب کے لوگو ںنے بھی پینے کے پانی کی عدم دستیابی کی شکایت کی ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ سرکار نے آج تک اس علاقے کیلئے کسی واٹر سپلائی سکیم کو منظوری نہیں دی جس کے نتیجے میں لوگوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت درپیش ہے۔ ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ پی ایچ ای کپوارہ نے اس ضمن میں کہا ’’ چیف سیکریٹری اور سیکرٹری پی ایچ ای کے علاوہ ضلع انتظامیہ کی پہلی ترجیح درد پورہ کو پینے کا پانی فراہم کرنا ہے اور اس کیلئے ضلع انتظامیہ نے کئی تجاویز سرکار کو پیش کی ہیں ‘‘۔انہوںنے کہا کہ درد پورہ کو مکمل طور کسی واٹر سپلائی سکیم سے پانی فراہم کیا جائے گا ۔