تازہ ترین

’’جب اہل کشمیر کو دشمن گردانا گیا‘‘ چندی گڑھ میں سمینار

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 سری نگر؍؍ رواںماہ کی 7 تاریخ کو چندی گڑھ کے پراچین کلا کیندر میں’’ ساہتیہ چنتن چندی گڑھ ‘‘کے زیر اہتمام ایک سمینارمنعقدہوا جس میں انگریزی کتاب Blood, Censored :when Kashmiris become the "Enemy" پر تبادلہ ٔ خیال ہوا ۔یہ کتاب بھارت کے پانچ مقتدر اشخاص فلم ساز تپن بوس، بشری حقوق کارکن ہرش مندر، آئی آئی ٹی دلی کے اعزازی پروفیسر دنیش موہن، صحافی پامیلا فلیپوز اور معروف سماجی کارکن وتحقیق کار نوشرن سنگھ نے تحریر کی ہے۔ کتاب میں ان چھ اصحاب کے دورہ ٔ کشمیر کے تاثرات،2016ء کو کشمیر میں خون خرابے کی وجوہات اور اہل کشمیر کی درد بھری داستان پر مشتمل ہے۔ساہتیہ چنتن چندی گڑھ کی دعوت پر سمینار میں انگریزی ناول The Half Widow کے مصنف شفیع احمد اور سابق بیروکریٹ شفاعت چشتی نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کی سابق صحافی ڈاکٹر منیشا گنگاہر نے کتاب پر مفصل روشنی ڈالی اور اپنی کتاب Kashmir's Narratives of Conflict  کا ذکر چھیڑتے ہوئے کہا کہ زمانے کو اہل کشمیر کی بات سننے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں۔ جن دوسرے سر کردہ مقررین نے مباحثے میں شرکت کرکے کشمیر کاز کی حمایت کا اعادہ کیا، اُن میں ڈاکٹر ہریش پوری، پروفیسر ہرکشن سنگھ مہتہ اور جوگندر سنگھ وغیرہ شامل ہیں ۔شفیع احمد نے اپنے مقالے میں کشمیر میںہزاروں زیر حراست لاپتہ افراد کے بازیاب نہ ہونے ، قصور واروں کو سزا نہ ملنے اور اسکولی بچوں پر تشدد روا رکھے جانے جیسے مسائل پر روشنی ڈالی۔کتاب کی ایک شریک قلم کار محترمہ نوشرن سنگھ نے بڑے ہی جذباتی الفاظ میں اس بات پر زور دیا کہ ظالم اور مظلوم کو ایک ہی پلڑے میں نہیں تولا جا سکتا ۔ا نہوں نے کہا اس نقطہ پر غور وفکر کی ضرورت ہے کہ آخر کشمیر میں ایسے گھمبیرحالات کیوں پیدا کئے گئے کہ کشمیری نوجوان مرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں جب کہ کم عمری کے عالم میں انہیں زندہ رہنے کی خواہش کرنی چاہئے تھی ۔