تازہ ترین

ترکہ وانگام شہری ہلاکت معاملہ

پولیس نے مہلوک نوجوان کو شر پسند قرار دیا،بشری حقوق کے پاس سماعت جاری

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر//پولیس نے شوپیاں کے ترکہ وانگم علاقے میں فوج اور جنگجوئوں کے درمیان معرکہ آرائی کے بیچ جان بحق شہری عمر کمہار کو ’’شرپسند ‘‘ قرار دیتے ہوئے انکے خلاف بھی کیس درج کیا ہے۔ شوپیاں کے ترکہ وانگم علاقے میں2مئی2017کو فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی تھی،جس کے دوران اگر چہ عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے،تاہم ایک19برس کا نوجوان عمر کمہار جان بحق ہوا تھا۔اس سلسلے میں سینٹر فار پیس اینڈ پرٹیکشن آف ہیومن رائٹس نے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن کا درواہ کھٹکھٹایا تھا،جبکہ کیس کی سماعت کے دوران کمیشن کے چیئرمین جسٹس(ر) بلال نازکی نے ضلع پولیس سربراہ اور ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیاں کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔عرضی گزار ایم ایم شجاع کے مطابق کیس کی سماعت بدھ کو کمیشن کی ممبر دلشادہ شاہین کے سامنے ہوئی،جس دوران بتایا گیا کہ متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنر کی طرف سے رپورٹ ابھی تک پیش نہیں کی گئی۔ درخواست گزار نے مزید کہا کہ پولیس کی طرف سے اس دوران پہلی ہی رپورٹ پیش کی گئی ہے،جس میں عمر کمہار کو شرپسند قرار دیا گیا ہے۔پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر نمبر19/2918زیر دفعات148,149,336,307,332,353آر پی سی کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ2مئی کو فوج کے چیلی پورہ فوجی کیمپ سے وابستہ44آر آر  پر جنگجوئوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ فوج نے بھی جوابی کاروائی کی اور آستان محلہ ترکہ وانگم کو محاصرے میں لیا،جبکہ اس دوران ترکہ وانگم اور نواحی علاقوں کے ایک ہجوم نے سنگبازی کی اور پیٹرول بم داغے،تاکہ جنگجو جائے وقع سے فرار ہو۔رپورٹ کے مطابق کراس فائرنگ میں کچھ لوگ اور فوجی اہلکار زخمی ہوئے،جن میں عمر کمار بھی شامل تھا،جبکہ فوج نے جائے سے جھڑپ سے ایک بندوق بھی برآمد کیا،اور جنگجو تاریکی اور سنگبازی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوئے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران جان بحق نوجوان عمر کمہارساکن پنجورہ اور دیگر لوگوںکے خلاف زیر دفعہ148.149,336کے تحت جرم ثابت ہوا،جبکہ کیس کی تحقیقات جاری ہے۔ اس سے قبل ایم ایم شجاع نے کمیشن میں عرضی پیش کی،جس میں درخواست کی گئی،کہ اس واقعے کی تحقیقات کمیشن کے تحقیقاتی شعبے سے کیا جائے،جبکہ مہلوک نوجوان کے نزدیکی رشتہ داروں کو معاوضہ دیا جائے۔