تازہ ترین

کشمیری نوجوانوں کی ملی ٹنسی میں شمولیت بڑا چلینج

آپریشن آل آوٹ میں فوج کوکامیابیاں مل رہی ہیں:وزیردفاع

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سرینگر //مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر ہر طرح کی دراندازی کو ناکام بنا دیا جائیگا اور جو بھی جنگجو دراندازی کرنے کی کوشش کریگا اس کو مار گرایا جائیگا ۔تاہم انہوںنے کہاکہ  کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جنگجو صفوں میں ریکروٹمنٹ پر مرکز کی کڑی نگاہ ہے اور وہ لوگ راڈار میں ہیں جو کہ اس ریکروٹمنٹ کو یقینی بنانے میں ملوث ہیں ۔ بنگلور میں میڈیا نمائندوں کیساتھ بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پاکستان کی جانب سے کشمیر میں دراندازی جاری ہے اور پاکستان کی حمایت یافتہ دراندازی کی وجہ سے ہی کشمیر میں حالات خراب ہورہے ہیں۔انہوںنے مزید کہاکہ جب جب بھی پاکستان کی طرف سے دراندازی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تب تب لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کی جاتی ہے جس کیو جہ سے اسی آڑ میں یہ دراندازی کویقینی بناتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں بھلے ہی نئی سرکار آئی ہو لیکن ابھی تک سرحد پار دراندازی جاری ہے جس کو دیکھتے ہوئے ہم یہ صاف کر نا چاہتے ہیں کہ پاکستان سے جو کوئی بھی دراندازی کشمیر میں ہوگی اس کو ناکام بنانے کیلئے فوج پوری طرح سے کوشش کریگا ۔انہوںنے مزید کہا کہ میں وزیر دفاع ہوں اور میں یہ بات سرحد پار پہنچانا چاہتی ہوں کہ کشمیر میں ہونے والی دراندازی کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائیگا ۔اس دوران مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے خبردار کیا کہ کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جنگجو صفوں میں ریکروٹمنٹ پر مرکز کی کڑی نگاہ ہے اور وہ لوگ راڈار میں ہیں جو کہ اس ریکروٹمنٹ کو یقینی بنانے میں ملوث ہیں ۔ اس دوران انہوںنے مزید کہاکہ کشمیر میں سرحد پار دراندازی کو روکنے کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں اور بہت سارے جنگجو مارے گئے ہیں ۔تاہم انہوںنے اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق رپورٹ کو مستر د کر دیا ۔نرملا سیتا رمن نے مزید کہاکہ کشمیر کی صورتحال میں گورنر راج کے دوران کافی ساری بہتری کے آثار دکھائی د ے رہے ہیں اور ایسے میں یہ بات صاف ہورہی ہے کہ لوگ کسی حد تک راحت محسوس کر نے لگے ہیں تاہم آپریشن آل آوٹ کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ یہ آپریشن جاری ہے اور ان میںفوج کو کافی ساری کامیابیاں مل رہی ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جنگجو صفوںمیں ریکرروٹمنٹ میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے تو انہوںنے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب زیادہ سے زیادہ نوجوان وہاں جنگجو صفوںمیںجارہے ہیں اور یہ ریکروٹمنٹ ابھی تک جاری ہے تاہم انہوںنے خبردار کیا کہ مقامی نوجوانوں کی جنگجو صفوںمیں ریکروٹمنٹ باعث تشویش ہے اور مرکزی حکومت نے اس معاملے پرکڑی نگاہ رکھی ہوئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان لوگوںکا پتہ لگارہے ہیںجو اس کام کیلئے نوجوانوںکو اکسارہے ہیں اور ایسے میں کونسا منظم گروپ یہ کام کررہا ہے وہ نئی دلی کی راڈار پر ہے ۔ لہذا بہت جلد اس سلسلے میںقابو پانے کی کوشش کی جائیگی ۔انہوںنے کہاکہ جنگجو اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیںکہ جنگجووںکا گراف کم ہوگیا ہے بلکہ یہ کہہ سکتے ہیںکہ کسی حد تک حالات میں سدھار کے آثار نمایاں ہورہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کنٹرول لائن پر بھی جنگجومارے جارہے ہیں کیونکہ سرحد پار سے دراندازی پر روک لگانے کیلئے سیکورٹی فورسز نے پختہ انتظامات کررکھے ہیںجس کی بدولت دراندازی ناکام ہورہی ہے اور وہاں جنگجووںکو ڈھیر کیاجارہاہے ۔انہوںنے کہاکہ پچھلے دو ماہ کے دوران ایک درجن کے قریب جنگجو کنٹرول لائن پر فوج کے ہاتھوں مارے گئے ہیں کیونکہ وہ دراندازی کرکے اس پار والے علاقوںمیں داخل ہوچکے تھے۔