بچوں کا روشن مستقبل

فکر کیجئے کام کر یئے

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سبزار زیدی
انسان  کو اللّٰہ تعالیٰ نے بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں سے ایک عظیم نعمت اولاد بھی ہے۔نکاح کے بعد مرد و عورت ہر ایک کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے، اس کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں، اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اُسے اس نعمت سے نواز دیتا ہے، کسی کو لڑکا، کسی کو لڑکی اور کسی کو دونوں، جب کہ بعضوںکو اپنی کسی حکمت بالغہ کی بنا پر اولاد ہی نہیں دیتا۔جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
  ترجمہ:جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے۔ بیٹے عطا فرماتا ہے یا ان کو جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جس کو چاہے بے اولاد رکھتا ہے۔ (الشوریٰ49-50)
     اولاد کے متعلق شریعت نے ماں باپ پر کئی ذمہ داریاں عائد کی ہیں:ارشاد الہٰی ہے:ترجمہ:اے ایمان والوں تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی)اس آگ سے بچاؤ۔‘‘  (التحریم6)
    اس آیت میں اسی کی طرف اللّٰہ تعالیٰ نے توجہ دلائی اور بڑے پیار بھرے انداز میں انسان کو خطاب کیا: اے ایمان والو! یعنی اللہ نے انسان کو اس رشتہ سے پکارا جو بندے اور اس کے رب کے درمیان قائم ہے، اور وہ رشتہ ایمانی ہے، پھر فرمایا کہ:تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنّم کی آگ سے بچاؤ۔۔۔ یہ کیسی آگ ہے، اس کی صفت بیان کی ہے : جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، اور اس پر ایسے نگران فرشتے مقرر ہیں جو بڑے طاقت ور اور سخت ہیں، اللّٰہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم ملتا ہے، اسے وہ پورا کرتے ہیں۔۔۔اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اخروی کامیابی کے حصول کے لئے محض اپنی اصلاح کی فکر کرنا اور خود نیک عمل کرتے رہنا کافی نہیں ہے، کیونکہ اگر یہی کافی ہوتا تو پھر اتنا فرمایا جاتا کہ اپنے آپ کو جہنّم کی آگ سے بچاؤ، لیکن آگے فرمایا : اپنے اہل و عیال کو بھی اس آگ سے بچاؤ۔
      ہمارے معاشرے میں یہ بات عام طور ہر آدمی کہتا ہے کہ مجھے اپنی قبر میں جانا ہے، میری بیوی کو اپنی قبر میں جانا ہے، بچوں کو اپنی قبر میں جانا ہے، ان کو سمجھانے کے لئے کون دماغ خراشی کرتا پھرے، اپنی فکر کرو، خود صحیح ہوجاؤ، یہی کافی ہےاور اس کے لئے اپنے تئیں بظاہر دینداری کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے کہ خود نماز، روزہ کا پابند، نوافل کا عادی اور اپنے طور پر منکرات سے بچنے والا، لیکن گھر کا ماحول اور اولاد کا طرز عمل گھر کے سربراہ سے بالکل مختلف !!! اس فضا سے معلوم ہوا کہ گھر کے سربراہ نے اپنی ذمہ داری مکمل طور پر نہیں نبھائی، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ والدین اور اولاد دونوں کی سمتیں مختلف ہوتی ہیں۔ لہٰذا اس معاملہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم نے کوشش تو بہت کی،مگر بچے نہیں مانتے،ہم کیا کریں؟ قرآن کریم نے نار (آگ) کا لفظ ذکر کرکے ایسے لوگوں کو لاجواب کردیا کہ ذرا سوچو: اگر بہت بڑی آگ دہک رہی ہو اور تمہارے بچے خدا نخواستہ اس آگ میں کودنا چاہیں، تو کیا ان کے اصرار اور ضد پر ان کو اس آگ میں جانے دوگے؟ اور اس وقت یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم نے بہت سمجھا لیا، کیا تم ان کا آگ میں کودنا برداشت کرلو گے؟ جہنّم کی آگ تو اس دنیا کی آگ سے ستر گناہ زیادہ سخت کر ب انگیز ہے۔ تب کیا کرو گے؟ ٹھیک ہے اگر والدین یا سربراہ نے حتی المقدور کوشش کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے تو وہ عنداللہ بری الذمہ ہوجائیں گے، لیکن کہاں تک اپنی ذمہ داری نبھائی ہے؟ اور کس حد تک کوشش کی ہے؟ یہ ہر شخص اپنے بارے میں بخوبی جانتا ہے۔اولاد کے عقیدہ، اعمال،اخلاق اور تعلیم وتربیت کی فکر بہت ضروری ہے، عقائد کا تعلق ایمان سے ہے، اعمال کا تعلق اسلام سے ہے ،جب کہ اخلاق کا تعلق دین سے ہے۔قرآن کریم میں ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی اپنی اپنی اولاد کی فکر کی، حضرت یعقوب علیہ السلام نے دینی فکر کرتے ہوئے اپنی اولاد سے سوالیہ انداز میں استفسار کیا کہ:میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے؟(البقرہ۳۳۱)۔ یہ ہوتی ہے اولاد کے ایمان کی فکر ۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اپنی اولاد کو وصیت کی۔  ترجمہ:میرے بیٹو !اللّٰہ تعالیٰ نے اس دین (اسلام) کو تمہارے لئے منتخب فرمایا۔(البقرہ۲۳۱)حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اپنی اولاد کے متعلق یہ ارشاد ہے:ترجمہ:" اور اپنے متعلقین کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے رہے"۔(مریم۵۵) آج کےاکثر مسلمان اپنی اولاد کو اچھی باتوں کا حکم نہیں دیتا، اپنی اولاد اور بیوی بچوں کو خوش کرنے کے لئے دین وشریعت کی پرواہ نہیں کرتابلکہ اُلٹا ان کی ناجائز خواہشات کو پورا کر کے اللّٰہ اور اس کے رسولؐ کو ناراض کردیتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ السلام نے ہر انسان پر کسی نہ کسی درجہ میں ایک ذمہ داری عائد کی ہے اور فرمایا:  تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔
    آج ہمارے معاشرے میں ہر طرف بے دینی کا سیلاب ہے، مسلمان بچوں کے عقائد بگڑ رہے ہیں، ان کے اعمال واخلاق تباہ ہورہے ہیں اور ہم کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو جنم سے ہی اچھی باتوں کی طرف راغب کریں تاکہ بچوں کا دل و دماغ اچھی اور نیک کاموں کی طرف لگا رہے، اپنے بچوں سے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرایں، ساتھ میں دینی تعلیم بھی دیں تاکہ بچہ دینی اور دنیوی دونوں علوم باخبر رہیں۔ بچوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ نماز کی تلقین کرنا اچھے کاموں کی طرف راغب کرنا برے کاموں سے روکنا، یہی والدین کی ذمہ داری ہونی چاہیے تاکہ والدین کو جب آخرت میں اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ وہاں سزا سے بچ سکے۔
رابطہ9596571542
 

تازہ ترین