تازہ ترین

انتخابی عمل کی رپورٹ زیر داخلہ کو پیش

گورنر کی راجناتھ سنگھ کیساتھ دلی میں اہم ملاقات ، پنچایتی انتخابات کیلئے مزید فورسز کا مطالبہ

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
نئی دہلی // ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے بدھ کو نئی دلی میںمرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کیساتھ تفصیلی میٹنگ کی جس میں ریاست کی سیاسی اور سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران میونسپل انتخابا ت کے حوالے سے ریاستی گورنر نے مرکزی وزیر داخلہ کو مفصل رپورٹ پیش کی ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے گورنر ستیہ پال ملک کو یقین دلایا کہ کشمیر میں میونسپل اور پنچائتی انتخابات کا انعقاد ایک چیلنج تھا اور مرکزی حکومت ریاست کی گورنر انتظامیہ کی بھر پور مدد کریگی ۔معلوم ہو اہے کہ مرکزی وزیر داخلہ نے ریاستی گورنر کو یقین دلایا کہ ان کو انتظامی امور چلانے میں بھر پور مدد کی جائیگی اور پر امن انتخابات کیلئے جس طرح کی بھی سیکورٹی درکار ہوگی اسے فراہم کی جائیگی ۔ آدھ گھنٹے جاری رہنے والی میٹنگ میں امن وقانون کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مرکزی وزیر داخلہ نے گورنر  کے کل کے بیان پر بھی بات کی ہے جس پر دیگر سیاسی جماعتوں نے زبردست رد عمل ظاہر کیا ہے ۔اس معاملے کولیکر کانگریس نے دھمکی بھی دی ہے کہ اگر گورنر موصوف نے اس کی بھر پور وضاحت نہیں کی تو آئندہ کے انتخابات سے متعلق کانگریس اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریگی ۔مرکزی وزیر داخلہ نے انتخابی سرگرمیوںپر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت امن وامان اور پر امن انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن مدد دینے کیلئے تیار ہے ۔ گورنر انتظامیہ نے مرکزی وزیر داخلہ کو یہ تجویز پیش کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ رقومات فراہم کی جائیں تاکہ رکے پڑے بڑے تعمیراتی پروجیکٹوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جا سکے ۔اس پر مرکزی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پر امن اختتام کیساتھ ہی رقومات کی واگذار ی کا سلسلہ شروع کر دیا جائیگااور میونسپلٹیوں کے حوالے سے جو بھی رقومات ریاست کے حصے میں آئیں گی ان کویکمشت فراہم کیا جائیگا تاکہ ریاست کے اندر قصبوں کی تعمیر وترقی ہو ۔ گورنر موصوف نے پنچائتی انتخابات کو لیکر بھی مرکزی وزیر داخلہ کو تجویز پیش کی ہے کہ پنچایتی انتخابات کیلئے مزید فورسز درکار رہیںگے جس پر مرکزی وزیر داخلہ نییقین دلایا کہ مرکزی حکومت پر امن پنچایتی انتخابات کیلئے بھی بھر پور تعاون جاری رکھے گی ۔ملاقات میں ریاست میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ووٹنگ کی کم شرح پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا جس کے دوران گورنر ستیہ پال ملک نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ مختلف طریقوں سے دی گئی دھمکیوں کا اثر اگر چہ انتخابات پر رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی لوگوں نے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان دھمکیوں کے باوجود انتخابی راستے پر گامزن ہونے کو ترجیح دی اور جمہوری عمل میں حصہ لیکر یہ ثابت کر دیا کہ وہ اس سلسلے میں ملک کے آئین کی پاسدار ی کررہے ہیں۔ گورنر ستیہ پال ملک نے انہیں بتایا کہ کشمیر کے اندر دو اہم ترین علاقائی جماعتوںنے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا لیکن جب لوگ گھروں سے باہر آئے تو اب ان جماعتوں کو اپنے فیصلے پر یقینی طور پر افسوس رہیگا اور ان کا بائیکاٹ بھی ووٹنگ کی شرح میں کمی کامظہر ہے ۔