تازہ ترین

وادی میں 3فیصدپولنگ

بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ اختتام پذیر

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی

  سمبل میں سب سے زیادہ اور اننت ناگ میں سب سے کم لوگ ووٹ ڈالنے نکلے

 
سرینگر//سیکورٹی کے سخت انتظامات اور انتخابی علاقوں میں مکمل ہڑتال کے بیچ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں49انتخابی وارڈوں میں ووٹ ڈالے گئے،جس کے دوران 148 امیدواروں کی سیاسی تقدیر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں قید ہوگئی۔ وادی میں مجموعی طور پر ووٹوں کی شرح3فیصدر ہی ،جس کے دوران سب سے زیادہ ووٹنگ کی شرح سمبل میں36 جبکہ سب سے کم اننت ناگ میں ایک فیصد رہی۔سرینگر میں سب سے زیادہ ووٹ لاوئے پورہ میںڈالے گئے جبکہ چھتہ بل وارڈ میں کوئی بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔

سرینگر

 وسطی کشمیر کے بیروہ،چرار شریف اور ماگام میونسپل کمیٹیوں میں اگرچہ انتخابات نہیں ہوئے،اور بیشتر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے،تاہم کچھ نشستوں پر کوئی بھی امیدوار کھڑا نہیں ہوا تھا۔سرینگر کے19وارڈوں میںبدھ کو بلدیاتی انتخابات ہوئے ،جس کے دوران ووٹنگ کی مجموعی شرح2.24فیصد رہی۔ سرینگر کے بیشتر انتخابی مراکز پر سناٹا اور خاموشی چھائی رہی اور پولنگ عملہ بھی دھوپ سیکتا رہا۔چھتہ بل وارڈ میں ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیاجبکہ مضافاتی علاقوں مجہ گنڈ ،لاوے پورہ اور زینہ کوٹ میں درمیانہ درجے کی ووٹنگ دیکھنے کو ملی اور کئی پولنگ مراکز پر رائے دہندگان کی قطاریں بھی نظر آئیں۔ مجموعی طورپرسرینگرمیونسپل کارپوریشن کے19وارڈوں میں ایک لاکھ86ہزار85ووٹ تھے،جن میں سے4ہزار169ووٹ ڈالے گئے۔ ذرائع کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں منعقد ہونے والے ان انتخابات میں سولنہ میں5671ووٹوں میں335ووٹ ڈالے گئے۔آلوچی باغ میں7178ووٹوں میں84جبکہ شیخ دائود کالونی بٹہ مالو میں11ہزار114ووٹوں میں88ووٹ ڈالے گئے۔ انتخابی وارڈ زیارت بٹہ مالومیں مجموعی طور پر ووٹوں کی تعداد8795تھی جن میں0.70فیصد کی شرح سے62،جبکہ وارڈ شہید گنج میں1.68فیصد کی شرح سے7312میں سے123اور وارڈ نمبر23کرانگر میں 0.94فیصد کی شرح سے7480ووٹوں میں سے71ووٹ ڈالے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ چھتہ بل(وارڈ نمبر24)واحد ایسا واڑد رہا جس کے4پولنگ مراکز پر ایک بھی ووٹ نہیں پڑا۔اس پولنگ مرکز میں مجموعی طور پر ووٹوں کی تعداد8784تھی۔ الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق وارڈ نمبر25 قمروار ی میں مجموعی طور پر ووٹوں کی تعداد7291ہے،جہاں142جبکہ مشرقی بمنہ کے وارڈ نمبر26میں212ووٹ ڈالے گئے،جبکہ مجموعی طور پر اس وارڈ میں ووٹوں کی تعداد11ہزار29تھی۔وارڈ نمبر27 مغربی بمنہ میں ووٹوں کی مجموعی تعداد8038ہے۔جہاں228اور نند ریشی کالونی کے وارڈ نمبر28میں9248ووٹوں میں سے68جبکہ وارڈ نمبر29پارمپورہ میں9151ووٹوں میں سے116ووٹ ڈالے گئے۔ انتخابی وارڈ زینہ کوٹ میں مجموعی طور پر12ہزار747ووٹوں میںسے943ووٹ ڈالے گئے وہیںلاوے پورہ میں کل6493ووٹوں میں سے1020ووٹ ڈالے گئے،جبکہ وارڈ نمبر32مجہ گنڈ میں9693میں سے453ووٹ ڈالے گئے۔ وارڈ نمبر33ٹینکی پورہ میں 10ہزار369ووٹوں میںصرف8ووٹ ڈالے گئے۔یہی صورتحال وارڈ نمبر34سید علی اکبر نواب بازار میں بھی دیکھنے کو ملی جہاں مجموعی طور پر7762ووٹوں میں سے8ووٹ ڈالے گئے۔ وارڈ نمبر35بسنت باغ میںکل11ہزار267ووٹوں میں سے54ووٹ جبکہ 36 فتح کدل میں11ہزار267ووٹوں میں28ووٹ اور 37منور آباد میں13ہزار9 ووٹوں میں سے106ووٹ ڈالے گئے۔ سرینگر میں19وارڈوں کیلئے انتظامیہ نے86مقامات پر224ووٹنگ مراکز قام کئے تھے۔

اننت ناگ

جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں فرصل اور یاری پورہ میںامیدوار یا تو بلا مقابلہ کامیاب ہوئے یا نشستیں خالی رہیں۔تاہم دوسرے مرحلے میں اننت ناگ میونسپل کونسل کے 16وارڈوں میں انتخابات ہوئے۔بدھ کو یہاں ووٹ ڈالے گئے تاہم انکی شرح سب سے کم رہی۔اننت ناگ میں1.1 فیصد ووٹنگ کی شرح رہی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع کے16وارڈوں میں 32ہزار908ووٹ ہیں،جن میں سے4بجے تک368ووٹ ڈالے گئے تھے۔مجموعی طور پر میونسپل کونسل اننت ناگ میں38امیدوار میدان میں ہیں۔اننت ناگ میونسپل کونسل میںجہاں توقع سے زیادہ اُمیدوار میدان میں تھے وہیں توقع کے برعکس بیشتر ووٹروں نے چنائوی عمل سے اپنے آپ کو دور ہی رکھا ۔میونسپل کونسل میں کل 25وارڈ ہیں،جن میں سے 9 پر امیدوارپہلے ہی بلا مقابلہ کا میاب ہوچکے ہیں جبکہ16وارڈوں میں 38اُمیدوار میدان میں تھے ۔ یہاںووٹروں کی کل تعداد32908تھی جن میں سے کل 373  رائے دہندگان نے اپنی حق رائے دہی کا اظہار کیا ۔بنگ ڈار میں39 ،کھنہ بل A میں 61،کھنہ بل Bمیں 12 ،لالچوک  میں 26،ڈانگرپورہ میں 10،کرالہ ٹینگ میں 61،قاضی محلہ میں 4،ایس کے کالونی میں 25،کاڈی پورہ میں 11،پہرو A میں 26،پہرو B میں 12 ،سرنل A میں1 ،کھابازار 17،حضرتبل میں 15 ،شرپور بالا میں 38 اوراشاجی پورہ B میں 15 ووٹ ڈالے گئے۔انتخابی مراکز پر ووٹ ڈالے گئے ،اس بیچ اشاجی پورہ میں قائم ایک پولنگ مراکز پر ووٹنگ مشین خراب ہونے کے سبب ووٹنگ دن بھر کیلئے روک ی گئی ۔

وترگام و لنگیٹ

ادھرضلع بارہمولہ کے وتر گام رفیع آباد کے واحد بلدیاتی وارڈ میںصرف 19ووٹ ڈالے گئے۔یہاں کسی خاتون نے ووٹ نہیں ڈالا ۔ یہاں بھاجپا اور ایک آزاد امیدوار کے درمیان مقابلہ تھا۔اس وارڈ میں کل 270ووٹ تھے۔میونسپل کمیٹی رفیع آباد 13وارڈوں پر مشتمل ہے۔یہاں 8وارڈوں میں امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے جبکہ 4میں کوئی امیدوار نہیں تھا۔اس دوران سرحدی ضلع کپوارہ کی 2میونسپل کمیٹیوں ہندوارہ اور کپوارہ میں پہلے مرحلہ میں انتخابات ہوگئے ہیں جبکہ لنگیٹ میونسپل کمیٹی کے لئے بدھ کو دوسرے مرحلہ کے تحت انتخاب ہونا تھا ۔لنگیٹ میونسپل کمیٹی 13وارڈوں پر مشتمل ہے اور یہا ں ووٹوں کی کل تعداد 4635ہے۔یہاں 9وارڈوں کے لئے امیدوار پہلے ہی بلا مقا بلہ کا میاب ہو گئے ہیں جبکہ 2وارڈوں میں کسی نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کئے تھے۔ لیکن وارڈ 2اور 9میں الیکشن ہونا تھا جہا ں کل 4امیدوار میدان میں تھے۔ ان وارڈوں میں ووٹوں کی کل تعداد 650تھی ۔وارڈ نمبر 2 میں 329ووٹوں میں سے 18رائے دہندگان نے اپنی رائے کا استعمال کیا جبکہ واڑد 9میں 321ووٹ تھے اور یہا ں 15رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے۔ اس طرح کل ملاکر دو نو ں وارڈوں میں 33ووٹ ڈالے گئے جس کی شرح 6.22فی صدبنتی ہے ۔

سمبل

سمبل میونسپل کمیٹی کے انتخابات بھی دوسرے مرحلے میںمنعقد ہوئے۔اس میونسپل کمیٹی کے کل 13وارڈ ہیں ، جن میں دو امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب ہوئے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں 11بلدیاتی حلقوں میں ووٹنگ ہونا تھی۔سمبل میں مجموعی طور پر لوگوں نے جم کر ووٹ ڈالے۔ یہاں لوگوں کی قطاریں دیکھنے کو ملی اور مر و خواتین نے بھر پور شرکت کی۔یہاں کے 11بلدیاتی حلقوں میں کل ووٹ 7950تھے ، جن میں سے 2834 ووٹ ڈالے گئے۔ ان میں 1484 مرد اور 1350 خواتین نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔اعدادوشمار کے مطابق ونگی پورہ پائین میںکل 791 ووٹ تھے جن میں سے48 ووٹ ڈالے گئے۔بٹ محلہ میں 1038 ووٹ تھے جن میں سے37ڈالے گئے۔مین بازار سمبل میں کل  986 ووٹ تھے جن میں سے 73 ڈالے گئے۔آرم پور ہ میں822 ووٹوں میں سے184ڈالے گئے۔چھانہ محلہ میںکل ووٹوں288میں سے 262 ڈالے گے۔گنزری محلہ میں کل ووٹوں 693 میں سے504،ڈوم پورہ میںکل ووٹوں280میں سے صرف 5،سونہ برن میں کل ووٹوں1082 میں سے820،بونہ محلہ میں کل ووٹوں970 میں سے 699،منز محلہ میںکل ووٹوں870میں سے 174اوررکھ عشم میںکل ووٹوں 131میں سے 28 ووٹ ڈالے گئے۔