بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر سیکورٹی متحرک

شہر میں تلاشی کاروائیاں تیز،مزاحمتی لیڈران کی نظر بندی جاری

10 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر// بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر شہر میں سیکورٹی کو متحرک کیا گیا ہے جبکہ مزاحمتی کارکنوں کی خانہ و تھانہ نظر بندی بھی جاری ہے۔سرینگر سمیت بارہمولہ اور کولگام کے علاقوں کے علاوہ بڈگام کی مونسپل کمیٹیوں میں آج دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ایک دن کی راحت کے بعد ایک مرتبہ پھر سیکورٹی دستوں کو متحرک کیا گیا ہے اور کسی بھی طرح کی صورتحال سے نپٹنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔منگل کو بھی شہر کے کئی علاقوں میں فورسز اور پولیس اہلکاروں نے مسافر بردار اور نجی گاڑیوں کی تلاشیاں لیںاور مسافروں اور راہگیروں کی جامہ تلاشی لینے کے علاوہ انکے شناختی کارڈوں کی بھی جانچ کی گئی۔شہر کے حساس علاقوں میں اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ انہیں سنگبازی سے نپٹنے کیلئے سازو سامان سے لیس کیا گیا ہے۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پہرے بٹھا دئیے گئے ہیں جبکہ حساس چوراہوں اور سڑکوں پر کیسپر گاڑیاں(بکتر بند گاڑیوں) کورکھا کیا گیا ہے۔ادھر بسنت باغ،فتح کدل، منور آباد، ٹنکی پورہ،سید علی اکبر،شہید گنج، شیخ دائود کالونی، زیارت بٹہ مالو، آلوچی باغ ،سولنہ،کرانگر، چھتہ بل، قمرواری،مشرقی بمنہ(ایسٹ)،مغربی بمنہ(ویسٹ) ،نند ریشی کالونی،پارمپورہ،زینہ کوٹ، لاوئے پورہ اور مجہ گنڈ علاقوں میں انتخابات کے پیش نظر اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کر کے متحرک کیا گیا ہے۔پائین شہر کے کئی علاقوں میں بھی سیکورٹی دستوں کو گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔سی آر پی ایف کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ انتخابات کے پیش نظر جنگجوئوں کی طرف سے اپنی موجودگی کا اظہار کرنے سے متعلق معلومات موصول ہوئی ہیں،جس کے بعد سیکورٹی کو سخت کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا’’سی آر پی ایف کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہے کہ جنگجوئوں ممکنہ طور پر بڑے حملے کی فراق میں ہیں‘‘۔تاہم انہوں نے کہا کہ اس طرح  کی کسی بھی صورتحال سے فورسز نپٹنے کیلئے تیار ہے۔ادھر مزاحمتی لیڈروں اور کارکنوں کی تھانہ و خانہ نظر بندی جاری ہے۔سید علی گیلانی، میر واعظ محمد عمر فاروق اور محمد اشرف صحرائی بدستور اپنے گھروں میں محصور رکھے گئے جبکہ محمد یٰسین ملک کوٹھی باغ میں بند ہیں۔حریت (گ)ترجمان غلام احمد گلزار اور حکیم عبدالرشید کو کوٹ بلوال منتقل کیا گیا اور شوکت احمد بخشی، بلال احمد صدیقی، نثار حسین راتھر، محمد یوسف نقاش، محمد اشرف لایا، میر حفیظ اللہ، رئیس احمد میر، عاشق حسین نارچور، بشیر احمد بویا، محمد یاسین عطائی،امتیاز حیدر،اسد اللہ شیخ،بشیر احمد بٹ،عبدارشید مغلو، دوائود احمد،سرتاج احمد، دانش احمد سمیت  دیگر مزاحمتی لیڈراں اور کارکن مختلف تھانوں میں بند ہیں۔ 

تازہ ترین