مالی بحران:پاکستا ن کا عالمی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات کا فیصلہ

10 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اسلام آباد//گھریلو مسائل ،مالی بحران اور قرض سے بد حال پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ ایک بار پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی پناہ میں جائے ۔ اس سلسلہ میں پاکستان کے وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نے مالیاتی بحران سے بچنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیرخزانہ نے گزشتہ روز شام میں کیے جانے والے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ''گزشتہ چند ہفتوں سے اس پر کام ہو رہا تھا، ہم نے اندرونی فیصلہ بھی کیے ، دوست ممالک سے بھی مشاورت کی۔ وزیر اعظم نے پاکستانی ماہرین معاشیات سے بھی مشاورت کی، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی ابتدا کرنی چاہیے جس سے ہم اس معاشی بحران پر قابو پا سکیں۔'' اسد عمر نے بحران کے لیے گذشتہ حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ''لوگوں کو ادراک ہے کہ گزشتہ حکومت کیسے حالات چھوڑ کر گئی تھی۔ اسلئے جب یہ حکومت آئی تو اس وقت ہم نے کہا تھا کہ ہمیں ترجیحی بنیادوں پر اس بحران سے نکلنے کے لیے راستہ اختیار کرنا ہے اور اس کے لیے ایک سے زیادہ متبادل ذرائع کو تلاش کرنا ہے اور بیک وقت کرنا ہے کیوں کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے ۔'' بی بی سی کے مطابق اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی اتوار کو لاہور میں خطاب کے دوران کہا تھا شاید پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے ، کیونکہ ادائیگیوں کے بحران کا سامنا ہے ۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم آئی ایم ایف جانے سے قبل دوست ممالک سے مدد مانگیں گے ۔ پاکستانی وزیرخزانہ نے کہا کہ ''ہم کوشش کریں گے کہ کمزور طبقہ پر مشکل فیصلوں کا اثر کم پڑے ۔ یہ مشکل فیصلے اور چیلنج ہیں۔''  خیال رہے کہ انتخابات سے قبل تحریکِ انصاف آئی ایم ایف سے مالی مدد لینے کی شدید مخالفت کرتی رہی تھی اور وزیراعظم عمران خان نے بارہا اپنی تقاریر میں یہ بات کہی تھی کہ اگر وہ برسراقتدار آئے تو کبھی عالمی مالیاتی ادارے سے قرض کے لیے رجوع نہیں کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 1990 کے بعد سے اب تک پاکستانی حکومتیں دس بار کسی نہ کسی شکل میں آئی ایم ایف کے پاس جا چکی ہیں اور موجودہ حکومت کا چیلنج یہ ہے کہ ایسی بنیادی مالیاتی اصلاحات کی جائیں کہ ہر چند سال بعد آئی ایم ایف کے پاس جانے کا چکر توڑا جا سکے ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''وزیرخزانہ اسی ہفتہ انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے ۔'' وزارت نے یہ نہیں بتایا کہ حکومت کو کتنی ہنگامی امداد کی ضرورت ہے ، تاہم اسد عمر اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ملک کو اپنے قرضے چکانے کے لیے سال کے اختتام تک کم از کم آٹھ ارب ڈالر درکار ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ ''ہماری معاشی ترجیحات ہیں کہ ہم نے روزگار پیدا کرنا ہے تو ایسا نہ ہو کہ اس بحران پر قابو پانے کے اندر ہمیں اپنے بنیادی منشور میں بہت زیادہ تبدیلی کرنا پڑے ۔ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے اور قوم نے ثابت کیا ہے کہ جب قوم ملک کی بہتری کی لیے کوئی فیصلہ کر لے ، کسی گروہ یا فرد کی بہتری نہیں بلکہ قوم کی بہتری کے لیے تو ملک اس فیصلے پر محنت بھی کرتا ہے اور کامیاب بھی ہو کر دکھاتا ہے ۔'' اگر پاکستان آئی ایم ایف سے مدد مانگتا ہے کہ تو یہ پانچ سالوں میں دوسری بار ہو گا کہ پاکستان اس سے بیل آؤٹ پیکج لے گا۔ ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر ستمبر کے آخر میں نو ارب ڈالر سے زیادہ تھے جس میں 62 کروڑ ڈالر کمی آئی ہے اور اکتوبر میں زر مبادلہ کے ذخائر صرف 8.4 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جو قرض کی قسطیں ادا کرنے کے لیے بمشکل کافی ہیں۔ تحریکِ انصاف کی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے اعلان کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔ آئی ایم ایف میں جانے سے حکومتی فیصلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے کہا کہ''پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرضوں کے حالیہ معاہدے کے نتیجے میں روپے کی قدر میں مزید کمی ہوگی، مہنگائی اور بے روزگاری بڑھے گی۔ وزیر خارجہ جب اپوزیشن میں تھے تو اس وقت وہ آئی ایم ایف کے قرضوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ تبدیلی بہت جلدی آگئی ہے ۔'' پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے عمران خان کا ایک پرانا بیان'آئی ایم ایف سے قرض لے کر ملک چلانا ایسے ہی ہے جیسے کینسر کا علاج ڈسپرین سے کرنا' اس مصرع کے ساتھ ٹویٹ کیا گیا: یادماضی عذاب ہے یا رب۔ سابق وزیردفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے بھی کچھ اسی قسم کا ٹویٹ کیا اور کہا کہ ''وزیر اعظم صاحب آپ کی کم علمی اور جاہلانہ گفتگو اور اقتدار کی اندھی ہوس آپ کا تعاقب کرے گی۔اگر کینسر کا علاج ڈسپرین سے ہو سکتا ھے تو آپ کو چندہ مانگنے کی ضرورت نھیں رہی۔''۔ احسن اقبال کا لکھا کہ ''پی ٹی آئی حکومت پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے کے اپنے روڈ میپ کے مطابق بھینسوں اور گاڑیوں کی نیلامی سے اربوں ڈالر حاصل کرنے کے بعد اب آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینے جا رہی ہے ۔''یو این آئی
 

تازہ ترین