تازہ ترین

بُسر بُگ آلسٹینگ کی وسیع آبادی بنیادی سہولیات سے محروم

لوگوں کی علاقہ کو سرینگر میونسپل کارپوریشن سے منسلک رکھنے کی مانگ

9 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر // بُسر بُگ آلسٹینگ سرینگر کے مقامی باشندوں نے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ بُسربگ کو سرینگر مونسپل کارپویشن کے ساتھ منسلک رکھا جائے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ بُسر بگ علاقہ 40سال تک سرینگر مونسپل کارپوریشن کے زیر نگران ترقی کرتا رہا ہے مگر حالیہ دنوں بُسر بگ کو گاندربل بلاک میں شامل کیا گیاہے جسکی وجہ سے وہاں رہائش پذیر آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بُسر بگ سے تعلق رکھنے والے محمد اشرف میر نے کہا کہ پچھلے کئی دہائیوں سے شہر سرینگر کا پھیلائو ہورہا ہے اور ہرگزرتے دن کے ساتھ نئی رہائشی کالونیاں وجودمیں آرہی ہیںاور اسی طرز پر بھی بُسر بگ میں رہائشی کالونی وجود میں آگئی اور یہاںرہائش پذیر لوگوں کو گندے پانی کی نکاسی، ڈرینیج کی تعمیر اور مرمت، سٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور سڑکوں کی تعمیر و تجدید کی ضرورت ہے جو سرینگر مونسپل کارپوریشن فراہم کرسکتی ہے اور اسلئے بُسر بگ علاقے کو سرینگر مونسپل کارپوریشن کے ساتھ ہی رکھا جائے۔ علاقے میں گندگی کے ڈھیر کا تذکرہ کرتے ہوئے محمد اشرف میر نے بتایا ’’ 350کنبوں پر مشتمل آبادی شیر کشمیر یونیورسٹی آف اگریکلچر سائنسز کے بالکل سامنے ہے اور پچھلے تین سال سے لگاتار یہاں کوڑا کرکٹ جمع کیا جارہا ہے جبکہ پچھلے تین سال سے علاقہ سے نکلنے والا کوڑا کرکٹکو جھیل ڈل میں پھینکا جارہا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقہ میں موجودگلی، کوچوں اور سڑکوں کی صورتحال بھی کافی خستہ ہے جبکہ ڈرینیج نظام کی حالت خستہ ہے کیونکہ آر اینڈ بی ڈویژن گاندربل نے علاقے کو نظر انداز کیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ آلسٹینگ کو گلاب باغ سے جوڑنے والی سڑک کی مرمت اور اس پر میگڈم بچھانے کا کوئی بھی انتظام نہیں کیا جارہا ہے۔ مقامی آبادی نے ریاستی گورنر ، ڈویژنل کمشنر کشمیر بصیر احمد خان اور دیگر اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقے کے لوگوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے بُسر بگ کو واپس سرینگر مونسپل کارپوریشن کے حد اختیار میں رکھے۔