’اولمپکس میں کوئی اتھلیٹ گولڈمیڈل حاصل کرے یہ میری آخری خواہش‘

نوجوان منشیات سے دوررہیں، تعلیم وکھیلوں کی طرف توجہ دیں:ملکھاسنگھ

8 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

وویک ماتھر
جموں//عالمی شہرت یافتہ اتھلیٹ(کھلاڑی) ملکھاسنگھ جو’فلائنگ سکھ‘کے طورپربھی جانے جانتے ہیں نے یہاں جموں میں ریاست کے نوجوانوں سے کہاہے کہ وہ منشیات سے دوررہیں ۔ملکھاسنگھ گذشتہ روز جموں کے گلشن گرائونڈ میں جے کے اتھلیٹکس ایسوسی ایشن کی طرف سے منعقدہ ’’جموں توی رن میراتھن ‘کررہے تھے۔انہوں نے کہاکہ میراتھن کامقصد نوجوانوں کومنشیات سے دوررکھنے کیلئے ان میںبیداری پیداکرناہے۔انہوں نے کہاکہ منشیات کااستعمال سماج میں تیزی کے ساتھ بڑھ رہاہے جس کی وجہ سے کئی نوجوان موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ملکھاسنگھ نے کہاکہ ایک دفعہ جب آپ منشیات کااستعمال شروع کردیتے ہیں توآپ کی موت یقینی ہے اورمنشیات سے چھٹکاراحاصل کرنالگ بھگ ناممکن ہوتاہے۔انہوں نے کہاکہ بہت سے کھلاڑیوں نے ایشین گیمزمیں کھیل حکام کی طرف سے منعقدکی گئی جانچ میں جن کھلاڑی کوڈرگس میں مبتلاپایاگیاان کے میڈل واپس لے لئے گئے۔انہوں نے کہاکہ میں نوجوانوں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ اپنی تعلیم اورکھیلوں کی طرف رکھیں ۔1960 روم اولمپکس میں گولڈمیڈل حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے پچھتاوے کے سلسلے میں ملکھاسنگھ نے کہاکہ جموں وکشمیرکے کھلاڑی میری آخری خواہش پوری کرنے کیلئے اولمپکس میں ایک گولڈمیڈل ضرورجیتیں۔انہوں نے کہاکہ میں ہرملک میں اپنے وطن کیلئے دوڑاہوں لیکن مجھے پچھتاواہے کہ میں روم اولمپکس میں گولڈمیڈل نہیں جیت سکا۔اس لیے میں چاہتاہوں کہ میری موت سے پہلے میں کسی ایک کھلاڑی کے گلے میں ایک گولڈمیڈل دیکھ سکوں۔
 

تازہ ترین