ٹرمپ کے نامزد متنازع جج نے عہدے کا حلف اٹھالیا

8 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
واشنگٹن//امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد متنازع جج بریٹ کیویناگ نے جنسی ہراسگی کے الزامات سے متعلق کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مباحثوں اور احتجاج کے بعد آخر کار سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھالیا۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز سینیٹ اجلاس میں بریٹ کیویناگ کی نامزدگی سے متعلق ووٹنگ ہوئی تھی جس میں ان کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 48 ووٹ دیے گئے تھے۔ تاہم ان کی حمایت میں زیادہ ووٹ ہونے کی وجہ سے امریکی سینیٹ نے بطور سپریم کورٹ جج ان کی تعیناتی کی توثیق کردی۔ 53 سالہ بریٹ کیویناگ نے ہفتہ کی شام ایک نجی تقریب میں سپریم کورٹ کے جج کی حیثت سے حلف اٹھایا تھا، وہ تاحیات جج تعینات ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے جج جسٹس انتھونی کینڈی کی جگہ پر مںصب سنبھالیں گے۔ بریٹ کیویناگ امریکی سپریم کورٹ کے 9 اعلیٰ جج صاحبان میں سے ایک ہیں۔ گزشتہ روز سینیٹ میں ووٹنگ سے قبل سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے لیکن بریٹ کیویناگ کی نامزدگی کے خلاف ایوان نمائندگان کی عمارت کے سامنے سیکڑوں مخالفین جن میں اکثریت خواتین کی تھی، انہوں نے احتجاج جاری رکھا تھا۔ اس موقع پر مظاہرین نے ٹرمپ مخالف نعرے بازی کی اور ’ نومبر آرہا ہے ‘ (نومبر از کمنگ ) کے نعرے بھی بلند کیے تاہم پولیس نے چند مظاہرین کو گرفتار بھی کیا تھا۔ خیال رہے کہ ٹرمپ کے نامزدہ سپریم کورٹ جج کی تعیناتی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اگلے ماہ نومبر میں مڈ ٹرم الیکشن بھی قریب ہیں اور اس اقدام سے ٹرمپ حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی کا قوی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ سینیٹ کی جانب سے بریٹ کیونیاگ کی بطور سپریم کورٹ جج توثیق کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کنساس میں ایک ریلی کے دوران اسے تاریخی دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں آپ کے سامنے ہماری قوم ، ہماری عوام اور عزیز ترین آئین کی زبردست فتح کے ساتھ موجود ہوں۔‘
 

تازہ ترین