تازہ ترین

رام بن کے نزدیک المناک سڑک حادثہ، 22 مسافر لقمہ ٔ اجل 15 زخمی

مرنے والوں میںباپ اسکی2بیٹیاں،10 سرکاری ملازمین اور ڈرائیور شامل

7 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد تسکین

 بانہال میں قیامت بپا، ہر طرف افراتفری اور چیخ و پکار، قصبہ میں ہڑتال

حکومت کی طرف سے فی کس 5لاکھ اور زخمیوں کو 50ہزار کی امداد کا اعلان

 
بانہال // جموں سرینگر شاہراہ پر رام بن کے نزدیک ایک المناک حادثے میں 22مسافر لقمہ اجل جبکہ 15دیگر زخمی ہوئے۔یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بانہال سے رام بن جارہا ایک میٹا ڈار زیر نمبرJK19/1593کیلاموڑ کے مقام پر سنیچر کی صبح قریب 10بجے ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوگیا اور200فٹ گہری کھائی میں جا گری۔جاں بحق ہونے والوں میں 2جواں سال جڑواں بہنیں انکا والد اور دیگر 2خواتین شامل ہیں۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

مسافروں سے کھچا کھچ بھری میٹا ڈار معمول کے مطابق سنیچر کی صبح آٹھ بجے بانہال سے رام بن کیلئے روزانہ ہوئی اور دس بجے کے قریب اپنی منزل سے محض پانچ کلومیٹر دور کیلا موڑ کے قریب شاہراہ سے لڑھک کر کم از کم دو سو فٹ گہری کھائی میں جا گری ۔حادثے کی خبر ملتے ہی ایس ایس پی رام بن انیتا شرما ، ڈپٹی کمشنر رام بن شوکت اعجاز بٹ اور بچاو کارروائیوں کیلئے مقامی رضاکار، پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور انہوں نے کمال ہمت اور جرات کا مظاہرہ کرکے اس ناقابل رسائی اور گہری کھائی  سے پہلے زخمیوں کو نکلانے کا عمل شروع کیا ،جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔حادثے کے مقام پرگہری کھائی تک پہنچنے کیلئے رضاکاررسیاں باندھ کر زخمیوں اور لقمہ اجل بنے افراد کو باہر نکالنے کی کارروائیوں میں جٹ گئے اورکئی گھنٹوں تک یہ کارروائی جاری رکھی۔ حادثے میں14مسافر موقع پر ہی لقمہ اجل بنے جبکہ مزید7 زخمیوں نے ضلع ہسپتال رام بن اور ادہمپور کے ملٹری ہسپتال میںمنتقلی کے دوران دم توڑدیا۔13 زخمیوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹرملٹری ہسپتال ادہمپوراور ایک کو برزلہ سرینگر منتقل کیا گیا ۔ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر کا تعلق بانہال سے ہے اور مرنیو الوں میں دو جڑواں بہنوں سمیت چار خواتین بھی شامل ہیں ۔بانہال سے روزانہ رام بن کیلئے نکلنے والی اس میٹاڈار میں بانہال کے بیشتر ملازم سفر کرتے تھے اور اس حادثے میں دس کے قریب سرکاری ملازمین بھی لقمہ اجل بنے ۔ 

مہلوکین کہاں کے تھے؟

اس حادثے میں لقمہ اجل بننے والوں کا تعلق بانہال اور اسکے آس پاس علاقوں سے تھا۔ان میں 12کا تعلق بانہال،اکڑال اور پوگل پرستان کے3 ، ڈگڈول کا ایک ، راجگڑھ کا ایک ، ماروگ کا ایک ، ادہمپور کا ایک ، میتراہ رام بن کا ایک اور ایک عدم  شناخت غیر ریاستی باشندہ شامل ہیں۔ مرنے والوں میں چنجلو بانہال سے تعلق رکھنے والی دو جواں سال جڑواں بہنیں بھی شامل ہیں جبکہ اْن کا والد حادثے میں شدید زخمی ہوا ہے۔ یہ جڑواں بہنیں اپنی چیچا زاد بہن کی شادی کے سلسلے میں بانہال سے رام بن جارہے تھے ۔ 

بانہال میں قیامت

حادثے کی خبر ملتے ہی بانہال کے پورے علاقے میں ماتم اور تشویش کی لہر دوڑ گئی اورلوگ رام بن کیلئے اپنے گھروں سے نکلے اپنے عزیز و اقارب کی خیریت کو لیکر فکر مند ہوگئے اور ہر طرف افراتفری پھیل گئی ۔ حادثے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جائے حادثہ کے علاوہ رام بن اور بانہال کے ہسپتال پہنچے اور رام بن سے بانہال تک ہرطرف سے کہرام ، افراتفری اور رنج والم کا عالم تھا۔فوری طور پر قصبہ بانہال ، ٹھٹھاڑ ، چنجلو ، ڈولیگام اور دیگر علاقوں میں دکانیں اور کارواباری ادارے بند کئے گئے اور سینکڑوں کی تعدا دمیں لوگوں نے نماز جنازوں میں شرکت کی۔ 

مہلوکین کی شناخت

چیف میڈیکل افسر رام بن ڈاکٹر سیف الدین خان نے حادثے میں لقمہ اجل بنے افراد کی شناخت کوآپریٹیو محکمہ کے مشکور احمد گیری ساکن بنکوٹ بانہال، آئی ٹی آئی رام بن کے محمد شفیع راتھر ساکن ڈولیگام بانہال ، سنیل سنگھ ساکن ڈگڈول رام بن ، محمد عرفان ساکن پنتھیال رام بن ، منظور احمد ساکن سینا بتی پوگل پرستان ،محکمہ مال کا نعیم احمد ساکن مالیگام پوگل پرستان ، جڑواں بہنیں رخشندہ بانواور فرحین بانو اورانکا والد محمد رفیق وانی ساکن جنجلو بانہال ،ایس ایف سی ملازم ریاض احمد خان ساکن ٹھٹھاڑ بانہال ، محمد اقبال شاہ ساکن راجگڑہ رام بن ، محمد رمضان وانی ساکن ڈولیگام بانہال ، مشتاق احمد گنائی ساکن ڈولیگام بانہال ، ریشمہ بیگم ساکن امکوٹ بانہال ، جموں وکشمیر پولیس وائرلیس آپریٹر تنویر احمد بیگ ساکن ہاڑبیر کسکوٹ بانہال ، کاجل دیوی ساکن ماروگ رام بن ، ٹیچر مدثر احمد میر ساکن بنکوٹ بانہال ، محمد یوسف کمہار ساکن درشی بانہال ، اْتکر ناتھ منگوتراہ ساکن ادہمپور ، ڈائیور رحمتہ اللہ راتھر ساکن تانترے پورہ بانہال، محمد اقبال ولد فتح محمد ساکن تتارسو رام بن  اور ایک عدم شناخت مسافر کے طور کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کو وارثین کے سپرد کیا گیا ہے اور ہفتے کی شام تک بیشتر کی تجہیز و تکفین اپنے اپنے علاقوں میں ادا کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں اور لاشوں کو لانے اور لیجانے کیلئے محکمہ صحت رام بن کی طرف سے ایک درجن کے قریب ایمبولینس گاڑیوں کو کام پر لگایا گیا ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈرائیور رحمتہ اللہ راتھر کی یہ میٹا ڈار عام سرکاری ملازموں کیلئے پسندیدہ سوار ی تھی کیونکہ رحمتہ اللہ راتھر ایک سلجھا ہوا ڈارئیورمانا جاتا تھا اور بیشتر ملازمین اور بانہال کے عام لوگ اسی گاڑی میں سفر کرنے کو تر جیح دیتے تھے۔

 زخمیوں کی شاخت

عبدالقیوم ولد محمد سلطان ساکن دردہی ، دمن دیپ ولد اشوک سنگھ ساکن ماروگ ، ماجد ولد عبدالمجید ساکن النباس اکرال ، شبیر احمد بیگ ولد احمد بیگ ساکن لامبر بانہال ، شوکت حسین ولد منظور حسین ساکن سانبہ ، جعفر علی ولد عبالعلی ساکن دھناڑ نوگام ، عبدالاحد ساکن زنہال بانہال ، محمد شریف ولد شمس الدین ساکن وگن بانہال ، محمد اسماعیل ولد نظام الدین ساکن چملواس ، رابیہ دختر محمد رفیع ساکن سوناواری سمبل ،  بشیر احمد ولد میر علی ساکن چملواس بانہال ، راجیش کمار ولد ہربنس لعل ساکن رامسو، رئیس احمد ولد غلام رسول تانترے ساکن نامعلوم اور دو نامعلوم افراد کے طور کی گئی ہے۔ پہلے تین کو چھوڑ کر بقیہ تمام زخمیوں کو ادہمپور اور ایک کو سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ 

ایکس گریشیاء ریلیف

رام بن پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے اور حادثے کی وجوہات کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر رام بن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ لقمہ اجل بنے افراد کے حق میں ریاستی سرکار نے پانچ لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کے حق میں پچاس ہزار فی کس کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کے علاج و معالجہ اوربچائو کارروائیوں کی ڈویژنل کمشنر جموں از خود نگرانی کر رہے تھے۔ 
 
 
 

 فاروق ، عمر ، محبوبہ اور آزاد رنجیدہ

سرینگر//صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور کارگذار صدر عمر عبداللہ نے حادثے میں لقمہ اجل بنے افراد کے اہل خانہ اور لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ زخمی ہوئے افرادکیلئے بہتر علاج و معالجہ یقینی بنائے اور لقمہ اجل بنے افراد کے پسمادگان کے حق میں ایکش گریشیا ریلیف فراہم کی جائے۔ سابق وزرائے اعلیٰ غلام نبی آزاد اور محبوبہ مفتی نے رام بن حادثے پرگہرے رنج والم اظہارکیاہے۔انہوں نے دکھ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ ان کے حق میں ایکس گریشیا کی امدار فراہم کی جائے ۔
 
 

گورنر کا صدمہ کا اظہار 

سرینگر//گورنر ستیہ پال ملک نے رام بن میں رونما ہوئے سڑک حادثے میں قیمتی جانوں کے زیاں ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے ایک پیغام میں گورنر نے فوت شدہ افراد کی ارواح کیلئے ابدی سکون کی دعا کی اور اُن کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔ گورنر نے اس حادثے میں زخمی ہوئے افراد کی جلد صحت یابی کی دعا کی ۔ گورنر نے ضلع انتظامیہ رام بن کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس حادثے میں زخمی ہوئے افراد کو سرکاری ہسپتالوں میں بہتر طبی سہولیات فراہم کریں ۔