تازہ ترین

دلنہ بارہمولہ میں گھرکے واحد کمائو کا مبینہ قتل معاملہ

افراد خانہ کا پریس کالونی میں دھرنا،ملوثیں کی گرفتاری کا مطالبہ

7 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// بزرگ والدین نے مبینہ طور پر قتل کئے گئے انکے لخت جگر کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہا کہ پوسٹ مارٹم سے قبل ہی یک ڈاکٹر کس طرح یہ کہہ سکتا ہے کہ مہلوک نے خود کشی کی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کے تئیں کیس درج کر کے ملوثیں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ پریس کالونی میں سنیچر کو اس وقت جذباتی ماحول پیدا ہوااور رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے،جب ایک بزرگ خاتون نے رو رو کر مبینہ طور قتل کئے گئے ان کے لخت ہائے جگر پرویز احمد کو پکاراجبکہ شمس الدین نامی بزرگ نے ہاتھ جوڑ کر انہیں انصاف فرہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ویری ناڈ دلنہ بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے پرویز احمد کاندل کے اہل خانہ اور دیگر درجنوں لوگ پریس کالونی میں نمودار ہوئے اور بارہمولہ پولیس و انتظامیہ کے خلاف نعرے بلند کئے۔انہوں نے کہا کہ پرویز گھر کا واحد کمائو تھا اور مظاہرے میں مہلوک نوجوان کی بہنیں اور والدین بھی موجود تھے۔ اس موقعہ پر شمس الدین کاندل نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ19اپریل کو انکا بیٹا پرویز گھر سے نکلا اور کہا کہ وہ اپنی ہمشیرہ کے گھر واعہ گلی بل چندوسہ جا رہا ہے،تاہم شام کو گھر واپس نہیں آیااور انہوں نے جب پوچھ تاچھ کی تو پتہ چلا کہ وہ وہاں پہنچا ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ بعد میں دوسرے روز انہوں نے پولیس چوکی دلنہ میں رپورٹ بھی درج کرائی۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے پرویز کے موبائل فون کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ انہوں نے ایک لڑکی(نام محفوظ) کو آخری کال کی تھی۔شمس الدین نے کہا کہ پولیس نے  مذکورہ لڑکی سے جب پوچھ تاچھ کی تو پولیس نے انکے چاچا بشیر احمد کو حراست میں لیا اور ایک گھنٹہ بعد پرویز کی لاش برآمد ہوئی۔انہوںنے کہا کہ جب نعش کو بارہمولہ اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیلئے پہنچایا گیا تو معالج نے قبل از وقت ہی کہا کہ پرویز نے خود کشی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس معاملے کی نسبت سے کوئی بھی کیس درج نہیں کیاجبکہ بزرگ والدین اور انکی5 جواں سال بہنیں5ماہ سے پولیس تھانوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔انہوں نے دلنہ پولیس پر الزام عائد کیا ’’ متعلقہ چوکی افسر نے اہل خانہ کے ساتھ تذلیل آمیز سلوک کیا‘‘۔