تازہ ترین

رام مندر کیلئے پارلیمنٹ میں اگر قانون بنتا ہے تو اسے بھی ہم کریں گے تسلیم: جماعت اسلامی ہند

7 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی// جماعت اسلامی ہند کا کہنا ہے کہ بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ہمیں ہر حال میں تسلیم ہوگا۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری نے کہا کہ بابری مسجد کا معاملہ عدالت میں ہے، اس لئے ہم اس پر کوئی بھی تبصرہ نہیں کرسکتے۔ بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس کا فیصلہ ہمارے لئے قابل قبول ہو گا۔جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس میں امیر جماعت مولانا جلال الدین عمری میڈیا اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے۔جامعہ نگر واقع جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس میں امیر جماعت مولانا جلال الدین عمری نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں آتا ہے تب بھی اور اگر خلاف آئے گا تب بھی وہ ہمارے لئے قابل قبول ہوگا۔مولانا جلال الدین عمری نے تاہم یہ بھی کہا کہ اگر حکومت پارلیمنٹ میں قانون بناتی ہے تو اسے بھی ہم مجبوری میں تسلیم کریں گے۔ لیکن ہم اس کی مخالفت بھی کریں گے۔ مولانا نے کہا کہ لیکن حکومت جانتی ہے کہ وہ ایسا قانون نہیں بنا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر ایسا قانون بناتی ہے تو پھر اسے پارلیمنٹ میں بھی قابل اطمینان جواب دینا ہوگا۔ لہٰذا حکومت جانتی ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے اراکین کو مطمئن نہیں کرسکتے۔خیال رہے کہ بابری مسجد۔ رام مندر معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور آئندہ 29 اکتوبر سے اس معاملہ پر عدالت عظمیٰ میں یومیہ سماعت ہونے جا رہی ہے۔ حالانکہ عدالت عظمیٰ کی سماعت سے پہلے ہی ملک کی مختلف ہندو تنظیموں نے لوک سبھا الیکشن سے قبل رام مندر کے معاملہ کو ایک پھر اچھال دیا ہے اور وہ مودی حکومت پر اس سلسلہ میں قانون بنانے کا دباو ڈال رہی ہیں۔اسی ضمن میں گزشتہ روز دلی میں وشو ہندو پریشد کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی جس میں پریشد کے عہدیداران اور کئی اکھاڑوں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ 
 

بنگلورو کی مسجد اہل حدیث چارمینار کی انوکھی پہل ہرماہ مریضوں کو دی جا رہی ہے مالی امداد

بنگلورو کی مسجد اہل حدیث چارمینار میں اللہ تعالی کی عبادت کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کا منظر بھی دیکھنے کوملا۔ مسجد میں گزشتہ روز منعقدہ ایک تقریب میں175 مریضوں میں مالی مدد تقسیم کی گئی۔ ان میں زیادہ تر ڈائلیسس کے مریض تھے۔ گزشتہ چارسالوں سے چارمینار مسجد کے ذریعہ ہر ماہ 175مریضوں کو مالی مدد دی جا رہی ہے۔ امداد پانے والوں میں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی سبھی شامل ہیں۔تقریب  میں راجیہ سبھا کے رکن ہنومنتیا اورڈاکٹر ناصرحسین نے شرکت کی اورمسجد کی اس سماجی خدمت پر خوشی کا اظہارکیا۔ اس موقع پر چارمینار مسجد کے ذمہ داروں نے کہا کہ ہر ماہ دو سے ڈھائی لاکھ روپئے کی امداد غریب مریضوں کو دی جا رہی ہے۔ علمائے دین نے کہا کہ شریعت میں مسجد کا کردار کافی وسیع ہے۔موجودہ دور میں جب کہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ ایسے ماحول میں بنگلورو کی چار مینارمسجد سماج کو جوڑنے، امن اوراتحاد کو فروغ دینے، اسلام کے پیغام کو برادران وطن تک بھی پہنچانیکا کام بحسن و خوبی انجام دے رہی ہے۔