تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

5 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی
 سوال: ٹریفک نظام ابتر عوام کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔ اس وجہ سے لوگ مختلف مشکلات جھیل رہے ہیں۔ اسلام اس ضمن میں کیا رہنمائی کرتا ہے۔ مفصل بیان کریں؟
اعجاز احمد

ٹریفک نظام کی ابتری۔۔۔ ذمہ داریاں سمجھنے کی ضرورت

جواب: ٹریفک کے نظم و ضبط درہم برہم ہونے کے باعث جو مشکلات پیدا ہورہی ہیں اور ہر اگلے روز یہ فزوں تر ہونے کے خدشات ہیں اُن کی وجوہات اور شرعی اصولوں کے مطابق اُس کے تدارک کی تدابیر درج ذیل ہیں۔
(۱) یہاں کی سڑکیں نصف صدی پہلے کے رورکی ہیں جب کہ ٹریفک بہت کم تھا اُس وقت اکا دُکا گاڑیاں ہی ہوتی تھیں اس وقت کی ضرورت کے مطابق سڑکوں کی وسعت رکھی گئی تھی۔ اب آج اُس سے ہزار گنا ٹریفک بڑھ گیا ہے ۔ اسلئے سڑکوں کی ناکافی وسعت ٹریفک نظام کی ابتری کا ایک سبب ہے جو بالکل واضح ہے۔
(۲) ٹریفک قوانین اور ضوابط بنائے گئے ہیں اُن کی پابندی جیسی ہونی چاہئے ،ویسی بالکل نہیں ہوتی۔ اس کو تاہی میں خود ٹریفک قانون نافذ کرنے والے بہت سارے افراد بھی شریک ہیں اور پرائیوٹ گاڑیوں والے حضرات بھی اور عوامی ٹرانسپورٹ مثلاً میٹا ڈار ، بسیں اور دوسری چھوٹی گاڑیوں کے ڈرائیورں کی خلاف ورزی بھی اس کا ایک اہم سبب ہے۔
(۳) بڑی شاہروں پر ہی نہیں شہروں کی اندرونی گلیوں میں بھی سڑکوں کا غلط استعمال ان ٹریفک مشکلات کا ایک اہم سبب ہے۔ لوگ سڑکوں پر تعمیراتی میٹریل مثلاً اینٹیں، سیمنٹ ، بجری، لوہا وغیرہ سڑکوں پر ڈالتے ہیں، اسی طرح سڑکوں پر سامان بیچنے والے خاص کر میوہ فروش، چھاپٹری فروش وغیرہ جب اپنے ریڑے لگا دیتے ہیں تو اس کی وجہ سے بھی ٹریفک جام کی مشکلات پیدا ہونا یقینی ہے۔
(۴) سڑکوں کے دائیں بائیں کے دکاندار اپنی دکانوں کا سامان فٹ پاتھ پر لگا دیتے ہیں اس کی وجہ سے پیدل چلنے والے سڑکوں کے درمیان میں چلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اس بنا پر بھی ٹریفک کیروانی پر منفی اثر پڑتا ہے۔
(۵) عوامی ٹرانسپورٹ میں بکثرت میٹاڈار وغیرہ سواریاں لینے کیلئے ایسی جگہ کھڑی کی جاتی  ہیں جو دراصل گاڑیوں کی گذر گاہ ہوتی ہے نہ سواریوں کا سوار کرنے اور اتارنے کی اقامت گاہ اس کی وجہ سے بھی ٹریفک کے بہائو میں رکاوٹ آتی ہے۔
(۶) بکثرت یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ پرائیوٹ گاڑیوں والے انی گاڑیاں سڑکوں کے دائیں بائیں اُن جگہوں پر کھڑی کرتے ہیں جہاں سے گاڑیوں کا گذرنے اور چلنے کا راستہ ہوتا ہے۔ ٹریفک جام کا ایک اہم سبب بھی ہے۔
اس کے علاوہ ٹریفک پولیس کے اہلکار جب ٹریفک قوانین کے نفاذ میں خود خلاف ورزی کریں چاہئے وہ میوہ فروشوں ،چھاپڑی فروشوں اور اس طرح کے دوسرے افراد سے رقمیں لے کر ایسا کریں۔ یا ڈیوٹی نہ دینے کی وجہ سے تو اس کا واضح نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مشکلات پیدا ہوں اور عوام چاہئے وہ ٹرانسپورٹ والے ہوں یا ذاتی گاڑیوں والے جب وہ ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کریں اور اپنی چاہت یا آگے نکلنے کی دوڑ میں اپنی سمت چلنے کی پابندی نہ کریں یا ایسی جگہوں پر گاڑیاں کھڑی جہاں گاڑیاں کھڑا کرنا اصولاً و قانوناً درست نہ ہو تو یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔
نیز پارکنگ کا اطمینان بخش انتظام نہ ہونے اور سڑکوں کی مرمت کے کام میں سست رفتاری بھی ایک سبب ہے۔ٹریفک جامنگ کے یہ اہم اور بنیادی اسباب ہیں۔
ان وجوہات کے بعد اب یہ تدابیر اگر اختیار کی جائیں تو یقینا یہ ساری مشکلات مکمل طور پر نہ سہی کافی حد تک قابو میں آجائیں گی۔
اول۔ اسلام نے جہاں عبادات نماز روزہ وغیرہ مسلمان پر لازم کی ہیں وہاں معاشی ،معاشرتی و سماجی معاملات کے متعلق صاف صریح اور واضح احکام دئے ہیں پھر جیسے عبادات کے امور میں احکام شریعت پر عمل نہ کرنے والا گنہگار ہوتا ہے اسی طرح بہت سے معاشرتی تمدنی اور سماجی احکام بھی ایسے ہیں جن کی خلاف ورزی شرعی طور پر گناہ ہیں سڑکوں کا غلط استعمال بھی اُنہی احکام میں سے جو یقینا خلاف دین اور دوسروں کو اذیت پہونچا نے والا گناہ کام کام ہے حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سڑکوں پر بیٹھنے سے بہت ہی پرہیز کرو۔ یہ حکم حدیث صحیح( بخاری ومسلم) میں ارشاد فرمایا ہے اور بہت تاکید کے ساتھ فرمایا اس لئے ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب فرد کو بیٹھے سے منع فرمایا تو سڑکوں میں گاڑیاں کھڑا کرنا ، سڑکوں پر تعمیراتی سامان ڈالنا ، شادیوں کی تقریبات کے لئے سڑکوں پر شامیانے لگانا، یا سڑکوں پر جلسے کرنا، سڑکوں پر قبضہ جما کر سامان بیچنا کیسے درست ہوگا۔ لہٰذا اس گناہ کا احسا س پیدا ہونا ضروری ہے جب تمام لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ ہم سڑکوں کے غلط استعمال سے گناہ کاارتکاب کر رہے ہے۔کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے اس سے منع کیا تو یقیناً س کی خلاف ورزی گناہ ہے پھر یہ گناہ وہ ہے جو دوسرے لوگوں کو اذیت میں ڈالنے والا ہے اور اذیت دینا حرام ہے۔ یہ سوچ لیا جائے اور پھر اس جرم سے بچنے کی فکر کی جائے دوسری حدیث میں حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا راستوں پر مت بیٹھو ۔ اگر بیٹھنے کی ضرورت اور مجبوری ہو تو راستے کا حق ادا کرو۔ سوال کیا گیا راستے کا حق کیا ہے ۔ فرمایا چلنے والوں کیلئے رکاوٹ کھڑی نہ کرنا۔ راستہ پوچھنے والوں کو صحیح رہنمائی کرنا۔
غور کریں دین اسلام کی رحمت سے دنیا کو منو ر کرنے نبی ( علیہ السلام) کے ارشادات کیا ہیں اور اس نبی ؐ کی اُمت کا طرز عمل کیا ہے یہ احساس پیدا ہونا ضروری ہے وہ تمام قوانین جو خلاف اسلام نہ ہوں بلکہ عوام سہولیات کے لئے بنائے گئے ہوں۔اُن قوانین کے بنانے کا مقصد اسلام کے کسی اصول کی نفی یا اُس کو ختم کرنا نہ ہو بلکہ صرف معاشرے میں آسائش اور نظم و ضبط پیدا کرنا ہو۔ اگر وہ قوانین اسلامی مملکت کے صالح حکمراں بنائیں تو بھی اُن کی پابندی لازم ہے۔ قرآن میں اُن کو اولوالامر کہا گیا ہے اور اگر کہیں غیر اسلامی حکومت ہو یا نسلی، آمرانہ حکومت ہو یا کوئی اور اس کے حکمراں گو کہ غیر مسلم ہوں جب وہ اس نوع کے قوانین بنائیں جو منافی اسلام بھی نہ ہوں اور جن کا مقصد صر ف عوام کو سہولیات پہونچانا، معاشرے کو انار کی، انتشار اور بدنظمی سے بچانا ہو تو اس قانون کی پابندی کرنا مسلمان پر بھی لازم ہے۔ ٹریفک قوانین اسی قسم میں میں داخل ہیں۔ اس لئے ان کو غیر اہم سمجھنا اور خلاف ورزی تو خلاف دین نہ سمجھنا اور قانون شکنی کو گناہ نہ سمجھنا یقینا غلط ہے۔
اس قسم کے تصورات، مزاج اور ذہینت کی اصلاح بہت ضروری ہے۔
تیسرے یہ سمجھنا لازم ہے کہ اسلام وہ دین ہے جس ے عرب کے جاہل غیر متمدن اور نہایت ظالم اور اجڈ قوم کو دنیا کی سب سے زیادہ متمدن، مہذب با اصول، انسانیت نواز اور دوسری مخلوقات کو اذیت سے بچانے ، پختہ مزاج رکھنے والی مثالی قوم بنایا۔یہ تاریخ کاروشن باب ہے۔
تو اسلام اصول پسندی، نظم و ضبط، متمدن مزاج مہذب طرز عمل اور با اخلاق رویہ اپنانے عملانے اور اپنی زندگی کے انفرادی و سماجی  معاشرتی و معاشی، اخلاقی وتمدنی تمام شعبوں میں وہی انسانیت نواز احکام نافذ کرنے والا مسلمان تیار کرنا ہے ۔اس کا مشاہدہ مغربی قوموں کی اصول پسندی قانونِ شکنی سے پرہیز کرنے اور نجی یاسماجی سطح پر دوسروں کو تکلیف سے بچانے کے حیرت انگیز طرز عمل سے سمجھ میں آجائیگا۔ یہ دراصل اسلام کی تعلیم ہے جس کو اہل مغرب نے اپنایا ہے ۔ٹریفک اصول کی خلاف ورزی چاہئے وہ ٹریفک قوانین نافذ کرنے والے افراد کریں یا عوام کرے یہ کسی بھی قوم کی پست ذہنیت، عجلت پسند، خود غرضی اور دوسری کی اذیت سے لاپرواہ ہونے کی غیر متمدن وغیر مہذب ہونے کی علامتیں ہیں اور مسلمانوں کے لئے دوسرے افراد کو تکلیف دینے اور ذہنی کوفت ، جسمانی تکلیف اور وقت ضائع کرانے کی اذیت کی بنا پر سخت گناہ ہے تمام تدابیر کے ساتھ اُن وجوہات کا عملی تدارک کرناضروری ہے۔ جو ابتداء میں درج کی گئیں۔ ہر طبقہ اپنے اپنے اعتبار سے سڑکوں کو غلط استعمال سے پرہیز کرے اور ٹریفک قوانین کو مکمل طور پر نافذ کرنے کی تمام کوتاہیاں دور کی جائیں تو روشن نتائج یقینی ہونگے۔
 سوال:۔ کیا اسلام میں لباس کی کوئی حقیقت ہے؟ آج کل اکثر لوگ کہتے ہیں کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے دوسری چیزیں بدلتی ہیں لباس بھی بدلتا رہتا ہے۔ قرآن و حدیث کے حوالےسے تفصیلی جواب دیں۔
تنویر احمد

اسلام میں لباس کا تصّور اور نفسانیت و فیشن پرستی

جواب :۔ اسلام مکمل دین  ہے اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان کی زندگی کے ہر ہر معاملے میں وہ پوری طرح رہنمائی بھی کرے گا اور ہر ہر شعبۂ زندگی کے متعلق احکام و ہدایات بھی دے گا۔ احادیث کی کتابوں میں لباس کے متعلق مستقل ایک تفصیلی باب ہوتا ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں یہ غلط بھی ہےاور لاعلمی بھی ہے یا اپنے غلط عمل کو درست ثابت کرنے کی حرکت ہے۔ لباس کے تین مقاصد ہوتے ہیں جسم کو ڈھانکنا، جسم کو سجانا اور موسم کی سردی وگرمی سے اپنے آپ کو بچانا۔ ان میں سے پہلا مقصد جسم کو ڈھانکا ہے یہ اسلام کا حکم بھی ہے اور فطرت انسانی کا تقاضا بھی ہے۔
قرآن کریم نے لباس کی پہلی خصوصیت یہی بیان کی ہے کہ وہ جسم خصوصاً اعضاء مخصوصہ کو چھپاتا ہے ۔ (سورہ اعراف)
اب اگر ایسا لباس پہنا چائے جو جسم کو نہ چھپائے تو وہ لباس چونکہ قرآن کے بیان کردہ مقصد کو پورا نہیں کر رہا ہے،اس لئے وہ غیر شرعی لباس ہوگا۔ آج کل بہت سارے لباس ایسے ہی ہیں۔
حدیث میں ہے کہ دو گروہوں کو جہنم میں جلتے دیکھاہے۔ ایک گروہ وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی۔ گویا یہ امر ہونا طے ہے کہ لباس پہننے کے باوجود لباس کا پہلا مقصد جسم کو چھپاناپورا نہیں ہوگا ،اسلئے اُن کوننگا کہا گیا ۔اس اصول کی روشنی میں ہر وہ لباس غیر شرعی ہوگا جو اتنا تنگ اور چست ہو کہ جسم کے سارے اعضاء صاف صاف نمایاں ہو ںاور اعضاء کا حجم اتار چڑھائو دوسرے کو کھل کر نظر آئے جیسے مرد تنگ پتلون یا عورتیںسُتنا پہنتی ہیں۔ لہٰذا آج کی جینز پینٹ ،جو جسم کے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی ہے اور جس کو سکن ٹائٹ کہا جاتا ہے، یہ غیر شرعی ہے۔ چاہئےمرد پہنیں یا عورتیں۔ اسی طرح وہ شرٹ جو اتنی چھوٹی ہو کہ دونوں ہاتھ اوپر کر یں تو ناف کے نیچے کھل جائے اور کمر کو نیچے کی طر ف جھکا ئیں تو کمر کے نیچے کا حصہ ننگا ہو جاتا ہے،ایسی شرٹ غیر شرعی لباس ہے ۔اس میں نماز بھی ادا نہیں ہوتی اسی طرح حضرت نبی کریم ﷺ  کاارشاد ہے کہ وہ جو کسی دوسری قوم کی مشابہت یعنی نقالی کرے وہ انہی میں سے ہے ( ابو دائود)
اب اگر کسی نے وہ لباس پہنا جو کسی دوسرے طبقے مثلاً کھلاڑیوں ، فلم سٹاروں، ناچنے گانے والوں، یا کسی دوسری قوم کا مخصوص شعار ہو تو یہ غیر شرعی ہوگا کیونکہ حدیث میں اس کی ممانعت ہے۔ آج کل عموماً فیشن کی بنا پر یہی دیکھا جاتا ہے۔دراصل ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان یہ معلوم کرے کہ میرا دین مجھے کون سا لباس پہننے کی اجازت دیتا ہے اور نفسانیت وفیشن پرستی کا جذبہ یہ کہتا ہے کہ آج کل کس لباس کا چلن اورفیشن ہے ۔ان دونوں جذبوں کے نتائج الگ الگ نکلتے ہیں ۔جب انسان کا نفس فیشن پرستی کے سامنے جھک جاتا ہے تو اُسے اپنے آپ کو مطمئن رکھنے کےلئے کوئی حیلہ درکار ہوتا ہے اور وہ حیلہ یہی ہے کہ شیطان اُس کے دل میں ڈالتا ہے کہ اسلام میں لباس کی کوئی حد بندی نہیں۔ یہ سوچ کر وہ اپنے آپ کو مطمئن کرتا ہے پھر ایک قدم آگے بڑھ کر وہ دوسروں سے بھی یہی کہنے لگتا ہے۔ اُس وقت وہ اسلامی احکامات کی تشریح نہیں بلکہ اپنے عمل کی صفائی اور اس کی تائید کرنے کی کوشش کرتا ہےمگر خود اُسے خبر نہیں ہوتی کہ وہ اسلام کی تحریف کی کوششیں کر رہا ہے۔اگر کوئی شراب کا عادی یا رقص و سرور کا شوقین یہ کہنے لگے کہ اسلام میں یہ منع نہیںتو کیسے یہ بات درست ہوگی۔ اسی طرح اپنے فیشن پرستی کے شوق کی تسکین کےلئے کوئی یہ کہنے کہ لباس بھی بدلتا رہتا ہے اور اسلام میں کوئی لباس متعین نہیں تو یہ اسلام سے لا علمی ہے اور عمل نہ کرنے کے بہانے ہیں۔
 
