تازہ ترین

لتا منگیشکر

ہندوستان کو قدرت کا عطیہ

4 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اقبال رضوی
دلیپ  کمار نے ایک بار کہا تھا کہ قدرت نے ہندوستان کو ایک خاص تحفہ دیا ہے اور اس تحفہ کا نام لتا منگیشکر ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ تحفہ ابھی ہمارے بیچ موجود ہے۔
جادو بھری آواز، بے مثال آواز، منفرد آواز، لاجواب آواز، قابل احترام آواز، کوئل سی آواز، کانوں میں شہد گھولتی آواز، ملکہ کی آواز اور آواز کی دیوی، اس طرح کے اور جتنے بھی القاب ہو سکتے ہیں انہیں جمع کیجئے، ایک تصویر بنایئے، جو تصویر بنے گی وہ لتا منگیشکر کی ہوگی۔ کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی تشریح کرنا کسی زبان میں ممکن نہیں ہو پاتا، ایسی ہی ایک چیز لتا کی گائیکی ہے، اس کی تشریح کوئی ایک زبان نہیں کر سکتی۔28 ستمبرکو لتا منگیشکر کی یوم پیدائش پر وہ 89 سال کی ہو گئی ہیں۔ یو ں تو وہ برسوں قبل فعال گائیکی سے علیحدہ ہو چکی ہیں لیکن ان کی شہرت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ موسیقی کے پرستاروں کی ہر نسل انہیں اپنے ہی دور کی گلوکارہ تسلیم کرتی ہے اور ان کے مداحوں کا کہنا ہے کہ لتا منگیشکر کا سُر انہیں کسی دوسری ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔لتا منگیشکر نے طویل مدتی عوامی زندگی گزاری ہے۔ اتنی شہرت، دولت اور عزت اُن کی جھولی میں آئی کہ دنیا کا ہر اعزاز ان کے سامنے چھوٹا پڑ گیا لیکن عوامی زندگی کی کچھ شرائط بھی ہوتی ہیں اور تنازعہ اس کا اہم جز ہوتا ہے۔ لتا منگیشکر جیسی عظیم شخصیت بھی تنازعات کو خود سے علیحدہ نہیں رکھ پائیں لیکن تنازعات کے باوجود مہذب رہنا اور تحمل کا دامن کبھی نہ چھوڑنے کا فن اگر سیکھنا ہو تو لتا منگیشکر کی زندگی سے سیکھا جا سکتا ہے۔شمشاد بیگم، زہرا بائی انبالے والی، خورشید، امیر بائی کرناٹکی، راجکماری، نورجہاں اور ثریا کی گائیکی کے دور میں کمسن لتا منگیشکر نے گائیکی کے میدان میں قدم رکھا۔ انہیں کامیابی راتوں و رات حاصل نہیں ہوئی بکہ رفتہ رفتہ ان کی آواز نے پہلے موسیقاروں اور پھر ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرنا شروع کیا۔کم عمری میں ہی پورے خاندان کی ذمہ داری لتا منگیشکر کے کاندھو ں پر آ گئی۔ جوانی کب گزر گئی پتہ ہی نہیں چلا کیوںکہ اس وقت تک لتا کے پاس اتنا کام آگیا کہ کچھ سوچنے کا بھی وقت نہیں ملا۔ سب کچھ صحیح چل رہا تھا لیکن لتا منگیشکر شادی کیوں نہیں کر رہیں؟ یہ معاملہ فلمی برادری میں اندر ہی اندر موضوع بحث بن گیا۔ ایسے وقت میں بہت سوچ سمجھ کر بیان دینے والی لتا منگیشکر جلد ہی اس تنازعہ سے باہر آ گئیں۔
ساٹھ کی دہائی آتے آتے گلوکاراؤں میں لتا منگیشکر کا غلبہ قائم ہو چکا تھا۔ تبھی گیتوں کی رائلٹی کے معاملہ میں محمد رفیع صاحب اور لتا جی میں تناتنی ہو گئی۔ دراصل لتا منگیشکر گیتوں کی رائلٹی میں پلے بیک سنگرز کا بھی حصہ چاہتی تھیں لیکن گلوکاروں میں اہم مقام رکھنے والے محمد رفیع کا کہنا تھا کہ گانے والوں کو ان کی گائیکی کی فیس مل جاتی ہے تو پھر رائلٹی کیسی! اس ایشو پر حالات ایسے بنے کہ لتا منگیشکر نے محمد رفیع کے ساتھ گانا چھوڑ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد رفیع کی طرح لتا نے بھی اس تنازعہ میں کسی دوسرے کو دخل اندازی نہیں کرنے دی اور نہ ہی کبھی کسی طرح کا بیان دیا۔ دو قد آور ہستیوں کے درمیان پیدا ہوئے اس تنازعہ کا فلمی دنیا میں موجود چاپلوس اور افواہ باز مزہ ہی نہیں لے پائے۔تقریباً چار سال بعد دونوں ایک ساتھ گانے کے لئے رضامند ہو سکے۔ کہا جاتا ہے کہ موسیقار جے کشن اور نرگس نے دونوں کو ایک ساتھ لانے کے لئے بہت کوششیں کیں۔ اس واقعہ کے بعد لتا منگیشکر اور ایس ڈی برمن میں تناؤ پیدا ہو گیا اور دنوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا بند کر دیا۔ اس تنازعہ پر بھی لتا نے کبھی کوئی سخت تبصرہ نہیں کیا جب کہ اس وقت تک وہ فلمی دنیا میں ایک طاقت ور خاتون کے طور پر قدم جما چکی تھیں۔لتا اور برمن کے تحمل کا فائدہ یہ ہوا کہ 5 سال بعد ان دونوں نے پھر سے ایک ساتھ کام کرنا شروع کر دیا تو بالی ووڈ کے کھاتے میں کئی شاندار گیت درج ہوئے۔ فلم ’’بندنی ‘‘کے گیت اس کی اہم مثال ہیں۔ شنکر جے کشن اور لتا کے درمیان بھی تنازعہ رہا۔گلوکارہ شاردا کی فلموں میں چلن سے علیحدہ آواز تھی۔ ان کی چنچل اور شوخ آواز کا استعمال شنکر نے’’ سورج‘‘ میں کیا تو ’’تتلی اڑی، اڑ جا چلی‘‘ جیسا مشہور گیت منظر عام پر آیا۔ اس آواز کی ملکہ نے شاید شنکر پر ایسا جادو کیا کہ وہ اپنی ہر فلم میں انہیں موقع دینے لگے۔کہا جاتا ہے کہ اس ایشو کو لے کر کسی وقت گفتگو کے دوران شنکر اور لتا میں ناراضگی ہو گئی۔ یہ ناراضگی اتنی گہری ہوئی کہ شنکر اور جے کشن کی جوڑی میں ہی دراڑ پیدا ہو گئی۔ لتا اور شنکر کے بیچ کی ناراضگی شاید کبھی ختم نہیں ہو پائی لیکن اپنی عادت کے مطابق لتا نے اس معاملہ میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔اس کے بعد ان پر یہ الزامات عائد ہوئے کہ شنکر کی پسندیدہ گلوکارہ شاردا کو انہوں نے فلمی دنیا میں ٹکنے نہیں دیا کیوںکہ اس وقت لتا کی ناراضگی کے ساتھ کوئی موسیقار لمبا سفر طے نہیں کر سکتا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر ہیروئن کی تمنا تھی کہ پردے پر انہیں لتا کی آواز کا ہی ساتھ ملے۔ حالانکہ او پی نیر اس معاملہ میں الگ تھے اور انہوں نے لتا سے کوئی گیت نہیں گوَایا لیکن جس دور میں لتا کا سکّۃ چلتا ہو اس دور میں کوئی موسیقار ان سے گیت نہ گوائے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی معاملہ میں اوپی نیر اور لتا کے بیچ تنازعہ ضرور ہوا ہوگا۔ستر کی دہائی پر دھیان دیں تو کئی گلوکاراؤں کے کچھ گیت گانے کے بعد فلمی دنیا سے باہر جانے کا ذمہ دار لتا کو ٹھہرایا گیا۔ شاردا کے علاوہ ’’کبھی تنہائیوں میں یوں ہماری یاد آئے گی‘‘ جیسے گیت سے مشہور ہوئیں مبارک بیگم، فلم ’’گڈی ‘‘کے گیت ’’بولے رے پپی ہرا‘‘ سے منظر عام پر آئی والی جے رام، بنگلہ دیش کی گلوکارہ رونا لیلیٰ اور سمن کلیانپوری کے نام اس فہرست میں رکھے جا سکتے ہیں، ان سبھی کے گائیکی سے دور جانے کا ذمہ دار لتا کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ بعد میں اس فہرست میں انورادھا پوڈوال کو بھی شامل کیا گیا۔یہ دالگ بات ہے کہ اپنی آواز کی رینج اور نجی وجوہات کی بنا پر جن گلوکاراؤں نے گانا چھوڑ دیا ان کا ذکر بھی اس طرح کیا گیا کہ جیسے انہیں لتا کی بالادستی کی وجہ سے ہی گائیکی چھوڑنی پڑی۔کسی بھی شخص پر رہ رہ کر اتنے لوگوں کے کیریئر کو ختم کرنے کا الزام لگے تو اوہ اپنا آپا کھو بھی سکتا ہے لیکن یہ لتا تھیں جو تمام الزامات کے باوجود خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتی رہیں۔ لتا منگیشکر کی اسی عادت نے انہیں ایک عظیم شخصیت کے طور پر قائم کیا ہے۔انسان تو انسان ہے، اس سے غلطیاں ہوتی ہیں، لتا منگیشکر سے بھی ہوئی ہوں گی لیکن ان کی سادگی ان سب پر ہمیشہ بھاری رہی۔ لتا منگیشکر کے لئے لندن کی ایک تقریب میں عرصہ قبل دلیپ کمار نے جو کہا تھا اس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے ’’قدرت نے ہندوستان کو ایک خاص تحفہ دیا ہے اور اس تحفہ کا نام لتا منگیشکر ہے۔‘‘ ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ تحفہ ابھی ہمارے بیچ موجود ہے۔ 