ماں کا خط بیٹی کے نام

یہ چھٹی محبت کے جذبو ں میں لپٹی

4 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمدعا مر خاکوانی
سوشل  میڈیا پر ایک امریکی خاتون کا اپنی بیٹی کے نام لکھا گیا آخری خط آج کل گردش کر رہا ہے۔ ٹوئٹر پر ہزاروں لوگوں نے اس دل کو چھو لینے والے خط کو شیئر کیا۔ پیگی سمرس (Peggy Summers)گردے کے کینسر میں مبتلا تھیں، انہوں نے مرنے سے پہلے اپنی بیٹی ہینا کے نام ایک خط لکھا، جو اُسے ان کی موت کے بعد ملنا تھا۔ درحقیقت پیگی نے اپنی فیملی کے ہر رکن کے نام الگ الگ خط لکھا۔ ہینا نے ماں کے محبت میں ڈوبے خط کو پڑھا تو وہ مسحور رہ گئی، اس نے بار بار اسے پڑھا اور آخر فیصلہ کیا کہ یہ محض ایک ذاتی خط نہیں، اس میں جو پیغام پوشیدہ ہے اور جس متاثرکن دلکش انداز میں محبت کا اظہار کیا گیا، اُسے دوسرے لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔ اس خط کو ہینا نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو غیر معمولی ردعمل ملا۔ بےشمار لوگوں کو خط پڑھ کر اپنے دنیا سے چلے جانے والے والدین یاد آئے اور انہوں نے دل گداز الفاظ میں اپنے خیالات رقم کئے۔ میامی’’ ہیرالڈ‘‘ اور’’ ڈیلی مرر‘‘ لندن نے اسے بطور نیوز سٹوری شائع کیا، بی بی سی سمیت بےشمار ویب سائٹس اس خط کو شائع کر چکی ہیں۔ پیگی سمرس کی تحریر میں خاصی پختگی ہے، دردمند ماں کی طرح انہوں نے اپنی نوجوان بیٹی کو مختلف مشورے دیے اور اسے بتایا کہ ان کے دل میں بیٹی کے لیے کس قدر محبت کے جذبات موجزن تھے۔
پیگی لکھتی ہیں: ”ہینا! یہ خط تم پڑھ رہی ہو تو اس کا مطلب ہے میری سرجری کامیاب نہیں رہی (یعنی یہ خط موت کے بعد ہی ملنا تھا)۔ مجھے افسوس ہے میں نے اس موذی مرض کو شکست دینے کی بڑی کوشش کی مگر میرا خیال ہے کہ خدا نے میرے کرنے کے لیے کچھ اور کام رکھے۔ براہ مہربانی اپنے حواس قابو میں رکھنا، زندگی میں تکلیف دہ ناگوار چیزیں آتی رہتی ہیں، ہمیں ان سے ڈیل کرنا سیکھنا پڑتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی تکلیف دیں۔ میں چاہتی ہوں کہ تم خوش رہو اور خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال کرو۔ تم جس طرح ایک بہترین انسان ہو، ویسی ہی بہترین نرس بن سکتی ہو۔ سکول میں محنت کرو، نوکری کے لئے پریشان مت ہو۔ اپنے والد کا خیال رکھو، اُن کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ، یہ ان کے لیے مشکل وقت ہے، اس سے نکلنے میں وقت لگے گا۔ تم دونوں کو ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے اور خوب بات چیت کرنے کی ضرورت ہے، اگرچہ یہ ہمارے خاندان کی عادت نہیں ہےمگر ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ اپنی کامن سینس کو استعمال کیا کرو، جیسے ہر جگہ اکیلے نہ چلے جانا، سردیوں میں گاڑی کے اندر ایمرجنسی کٹ لازمی رکھنا۔ پارٹیوں سے دور رہنا، چونکہ یہ بیشتر اوقات بری ہوتی ہیں، سب لڑکے برے نہیں ہوتے مگر وہ تمہیں ناپسندیدہ کاموں کے لیے اُکسائیں گے۔ان لوگوں کے ساتھ باہر گھومنے پھرنے جاؤ جو تمھارے جیسے خیالات اورسوچ رکھتے ہوں، یہ تمہیں مضبوط بنائے گا۔ یاد رکھنا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور مجھے تمہارے اوپر ہمیشہ فخر رہے گا۔ خدا کو اپنی زندگی میں شامل رکھو اور کبھی یہ بتانے سے نہ شرماؤ کہ تم اپنے خدا سے محبت کرتی ہو۔ کل کو تمہارے بچے ہوں گے، انہیں بتانا کہ میں ان سے کس قدر پیار کرتی، اگر انہیں دیکھ پاتی۔ تم نے زندگی میں بہت کچھ کر دکھانا ہے اور تمہاری زندگی کے ہر مسرت انگیز لمحے میں، میں (سامنے نہ ہوتے ہوئے بھی) تمہارے ساتھ ہوں گی۔ میں خدا کی شکرگزار ہوں کہ اس نے ہمیں اتنے برس اکٹھے رہنے اور شاندار وقت گزارنے کی مہلت دی۔ زندگی سے لطف اٹھاؤ اور ہر دن کو اپنا آخری دن سمجھو، کیونکہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ کل اس کا آخری دن ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ سمجھو کہ میں تمہیںاس سے کہیں زیادہ پیار کرتی ہوں، جتنا تم اندازہ کر سکتی ہو۔ (ماں)
اس خط کو ٹوئٹر اور فیس بک پر پڑھنے سے بےشمار لوگوں کو اپنی ماں یاد آ گئی۔ ان میں سے بہت سے اپنے دل میں یہ پچھتاوا لیے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنی ماں یا باپ کے ساتھ کافی سارا وقت نہیں گزارا۔ کئی لوگوں نے بڑے درد سے لکھا کہ ہمارے والدین چند سال پہلے گزر گئے، انہوں نے ہمارے لیے کوئی آخری خط نہیں لکھا، لیکن اگر وہ لکھتے تو وہ بھی ایسا ہی محبت، دردمندی اور فکر سے رچا بسا ہوتا۔ بعض نے لکھا کہ والدین کئی سال پہلے چلے گئے، یہ خوف ناک سچائی ہے، جب تک وہ زندہ ہیں، ان کے گلے لگتے رہو، ان کی خدمت ، محبت کرنے کا موقع ضائع نہ کرو۔
پیگی سمرس کا خط ہر صاحب دل کو جھنجھوڑتا اور اسے احساس دلاتا ہے کہ بعض رشتے کس قدر خالص، نایاب اور محبت بھرے ہوتے ہیں۔ زندگی کے آخری لمحوں میں انسان کو مختلف پچھتاوے بھی گھیر لیتے ہیں، خواہ اس کی عمر تیس سال ہو، پچاس یا ستر سال۔ چند سال پہلے ایک مغربی مصنفہ نے پانچ پچھتاوے کے نام سے ایک بلاگ لکھا۔ خاتون کو ایک ایسے ادارے میں بطور نرس کام کرنے کا موقع ملا، جہاں مہلک امراض میں مبتلا لوگ اپنے آخری ایام گزارنے آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بستر مرگ پر موجود ان لوگوں میں سے کسی نے کبھی یہ شکوہ یا پچھتاوا ظاہر نہیں کیا کہ اس نے اپنی زندگی میں دفتر کو کم وقت دیا اور اسے زیادہ محنت کر کے پیسہ کمانا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے ان کے پچھتاوے اپنے پیاروں کے حوالے سے ہوتے تھے ۔ اکثر کو یہ شکوہ ہوتا کہ انہوں نے اپنے کیرئیر میں کامیابی، زیادہ دولت کمانے یا زندگی کی دوڑ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت نہیں گزارا۔ اپنے والدین کی خدمت نہیں کی، ان کی زندگی کے آخری برسوں میں دور رہا، جنازے میں نہ پہنچ پایا اور آخری لمحوں میں ساتھ نہیں تھا۔
بعض اور فیچر رائٹرز نے بھی اسی طرح کے اداروں کے سروے اور فیچر کرنے کے بعد کم و بیش یہی باتیں لکھیں۔ ان سب کے مطابق آخری لمحات میں ہر ایک کو یہ پشیمانی لاحق تھی کہ کام پر بہت زیادہ فوکس ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے بچوں کا بچپن مس کر دیا، محبت کرنے والی بیوی کو زیادہ وقت نہیں دیا اور بہن بھائیوں، دوستوں سے دور رہا۔ ہر مرد مریض کا یہی پچھتاوا تھا۔ زندگی کے آخری سانسیں لیتے ہوئے انھیں یہ احساس دامن گیر تھا کہ کاش انہوں نے اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ زیادہ محبت بھرے میٹھے لمحات گزارے ہوتے، جن کی خوشگوار یادیں آج انہیں ریلیف دیتیں۔ ایک بڑا پچھتاوا یہ بھی تھا کہ انہوں نے اپنی محبت کے اظہار میں کنجوسی برتی۔ ماں باپ سے کبھی کھل کر محبت کا اظہار نہیں کیا۔ والدین سمجھتے تھے کہ ان کا بیٹا شاید سنگ دل ہے، اسے ان کی پروا نہیں۔ ایسا نہیں تھا، مگر اولاد وقت کی کمی، عجلت میں رہنے اور زندگی کی افراتفری میں کبھی اتنا وقت ہی نہیں نکال پائی کہ باپ کا ہاتھ پکڑ کر یا ماں کے کاندھوں پر سر رکھ کر ان سے اپنے احساسات شیئر کرسکیں۔ یہی رویہ اپنے لائف پارٹنر اور بچوں کے حوالے سے تھا۔ خاص طور سے خاوند حضرات اعتراف کرتے کہ انہوں نے اپنی وفا شعار، مخلص بیوی کے جذبات، احساسات کا کبھی کھل کر اعتراف ہی نہیں کیا۔ ایسا نہیں کہ وہ بیوی سے محبت نہیں کرتے تھے۔ وہ اس کا خیال رکھتے، تمام ضرورتیں پوری کرتیں، دل جوئی بھی کرتے، مگر کھل کر کبھی یہ اعتراف نہیں کر پائے کہ ان کی بیویوں نے کس قدر قربانی دی اور ان کی زندگی سنوارنے میں ان کا کیا حصہ ہے۔
پیگی سمرس نے مرنے سے پہلے اپنی بیٹی کے نام آخری خط میں ایک اہم بات لکھی کہ اپنی زندگی کے ہر دن کو آخری دن سمجھو کیونکہ کسی کو علم نہیں کہ اس کا آخری دن کون سا دن ثابت ہوگا۔ زندگی کے سفر میں پچھتاوے بھی تب گھیرتے ہیں، جب انسا ن وقت کے تیز رفتار ریلے پر تنکے کی طرح بہتا جائے اور کہیں پر رک کر، تھم کر کھڑا ہونے کی کوشش نہ کرے۔ جب وہ اپنے ہر روز کو آخری روز سمجھے، تب اس کی زندگی میں خلا باقی رہے گا نہ ہی ناکافی اظہار کا پچھتاوا پیچھا کرے گا۔
����
 

تازہ ترین