تازہ ترین

ریٹ لسٹ

افسانہ

30 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر مشتاق احمدوانی
’’پتّا پتّا بُوٹا بُوٹا حال ہمارا جانے ہے ‘‘ماسٹر سوم ناتھ کے موبائل فون پہ جونہی یہ مسرور کُن ٹیون ساز وآواز کے ساتھ بج اُٹھی تو انھوں نے فوراً اپنا قیمتی موبائل سیٹ اُٹھایا اور د ائیں کان کے قریب لے جاکر پوچھا  ’’ہیلو۔۔۔کون بول رہے ہیں ؟‘‘آگے سے مردانہ آواز ان کے کان میں پڑی
’’میں جناب فرید احمد بول رہا ہوں ۔آداب ۔یہ میرا دوسرا نمبر ہے جیو۔آپ اسے اپنے  موبائل میں سیو کر لیجیے‘‘
’’ہاں سنایئے فرید صاحب کیا حال ہے ؟آپ خیریت سے ہیں؟‘
’’جی خدا کے فضل سے اچھا ہوں ‘‘فرید احمد نے جواب دیا۔
ماسٹر سوم ناتھ نے پوچھا
’’اور کہیے میرے لائق کیا خدمت ہے؟‘‘
فرید احمد نے جھٹ سے کہا
’’جناب میں نے آپ کی خدمت میںاپنی آزاد نظموں کا مجموعہ’’آوارہ نگاہیں‘‘رجسٹرڈ ڈاک سے ارسال کیا تھا۔کافی عرصہ ہوا میں چاہتا ہوں آپ اس پہ ایک بصیرت افروز مضمون لکھیں۔ مجھے آپ سے امید ہے کہ آپ یہ کام ہرحال میں کریں گے‘‘
ماسٹر سوم ناتھ نے کہا
’’فرید صاحب !آپ کا ارسال کردہ آزاد نظموں کا مجموعہ’’آوارہ نگاہیں ‘‘مجھے موصول ہوچکا ہے لیکن مجھے اسے لفظ لفظ پڑھنا پڑے گا۔اس کے بعد ہی اس پہ کچھ خامہ فرسائی کرپاوں گا۔یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ میں کسی کتاب کا سرنامہ دیکھ کے مضمون نہیں لکھتا ‘‘
’’جناب آپ کی مہربانی ہوگی‘‘اس کے ساتھ ہی فرید احمد اور ماسٹر سوم ناتھ کے درمیان سلسلہء گفتگو منقطع ہوگیا۔
   ماسٹر سوم ناتھ ،گورنمنٹ مڈل اسکول میں مُدرّس ہیں ۔ابھی ان کی پندرہ برس کی سروس باقی ہے۔وہ لکھنے پڑھنے والے ،بڑے دور اندیش،محنتی اور سلجھے ہوئے آدمی ہیں ۔نہایت شریف،ملنسا ر اور خوش مزاج ہیں ۔ان سے بات چیت کرکے ہر کسی کی طبیعت خوش ہوجاتی ہے۔انھوں نے انگریزی،اردو اور ہندی میں ایم اے کیا ہے۔انگریزی میں ایم اے کرنا انھوں نے اس لیے ضروری سمجھا کہ یہ بین الاقوامی زبان ہے۔اردو ان کی مادری زبان ہے اور ہندی میں ایم اے کرنا اس لئے مناسب سمجھا کہ یہ ہماری راشٹریہ بھاشا ہے۔تینوں زبانوں پہ انھیں خاصا عبور حاصل ہے ۔مترجم بھی ہیں ،مصنف بھی۔زبان کی باریکیوں پہ خاص دھیان دیتے ہیں۔ان کی دھرم پتنی راج رانی،بی ایس سی میڈیکل ہے ۔دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں ہے۔اپنے بچّوں کا مستقبل روشن بنانے کی فکر میں کوئی بھی ملازمت نہیں کرتی ۔راج رانی،ماسٹر سوم ناتھ کے مقابلے میں، کسی حد تک تیز مزاج ہے۔ان کا بڑا بیٹا نیرج آٹھویں میں پڑھتا ہے۔اس سے چھوٹی بیٹی شاردہ مُنی ہے وہ پانچویں میں پڑھتی ہے اور سب چھوٹا دھیرج ہے، جو فسٹ میں پڑھتا ہے۔سوم ناتھ کے دو منزلہ مکان میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے سے زیادہ قیمت کی کتابیں،جن میں انگریزی اور ہندی کی کتابیں زیادہ ہیں ترتیب وار لوہے کے شیلفوں پر رکھی ہوئی ہیں، مختلف موضوعات پہ کتابیں یہ ظاہر کررہی ہیں کہ ماسٹر سوم ناتھ سہ لسانی علمی وادبی شخصیت ہیںجنھیں انگریزی اردو اورہندی ادب سے جنون کی حد تک لگاو ہے۔پڑھتے پڑھتے اور لکھتے لکھتے ان کا دل ودماغ کمپیوٹر صفت ہوگیا ہے۔آدھی آدھی رات تک پڑھتے لکھتے رہتے ہیں ۔وہ سفر میں ہوں یا حضر میں ،خلوت میں یا جلوت میں ہروقت ان کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی کتاب یا رسالہ ضرور رہتا ہے۔ایک روز وہ اسکول سے تھک ہار کے گھر پہنچے تو کھانا کھا کر آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے ۔ تھکاوٹ کی وجہ سے لیٹتے ہی اُنہیں نیند آگئی۔ ان کے بچّے لکھنے پڑھنے میں مصروف تھے اور راج رانی رسوئی میں شام کا کھانا تیار کرنے میں لگی ہوئی تھی۔اسی دوران ماسٹر سوم ناتھ کا موبائل فون بج اُٹھا اور ان کی نیند میں خلل پڑ گیا ۔انھوں نے بادل ناخواستہ فون اُٹھایا دیکھا تو سندر لال کا نام موبائل اسکرین پہ نظر آیا ۔سندر لال نے کہا
’’ماسٹر جی! نمسکار۔۔۔میں سندر لال بول رہا ہوں ۔کیا حال ہے؟‘‘
ماسٹر سوم ناتھ بولے
’’ٹھیک ہوں ،آپ سنائیے،آپ کا کیاحال ہے؟‘‘
سندر لال نے جواب دیا
’’بھگوان کی کرپا سے ٹھیک ہوں‘‘پھر وہ بولا
’’ماسٹر جی! میں نے آپ کے ایڈریس پہ اسپیڈ پوسٹ سے اپنا انگریزی ناول’’The Black Sun‘‘ارسال کیا تھا۔میرے پاس رسید ہے وہ آپ کو مل چکا ہے۔میں چاہتا ہوں آپ اس کا ا ردو میں ترجمہ کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ ریڈرس تک میراناول پہنچ سکے‘‘
’’بھائی ۔۔۔آپ کا ناول میں نے دیکھ لیا ہے۔تین سو دس صفحات پہ مشتمل ہے ، مجھے ا سے پڑھنے میں د و ماہ کا وقت درکار ہے۔دیکھیے کیا ہوتا ہے‘‘سوم ناتھ نے یہ کہتے ہی فون سوئچ آف کردیا۔
رات کے دس بجے کے قریب جب وہ کھانا کھانے کے بعد پڑھنے لکھنے بیٹھے تو ان کا موبائل فون بج اُٹھا۔راج رانی اور تینوں بچّے دوسرے کمرے میں سوچکے تھے ۔انھوں نے فون اُٹھایا تو دیکھا کہ بغیر نمبر کے کوئی انھیں فون کررہا ہے۔انھوں نے ہیلو کہا تو آگے سے کوئی نوجوان بولا
’’سر میں ماسٹر سوم ناتھ جی سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔کیا آپ ہی ماسٹر سوم ناتھ جی ہیں ؟‘‘
’’ہاں میں ماسٹر سوم ناتھ بول رہا ہوں ۔آپ کون ہیں؟‘‘
’’سر میرا نام منظور احمد ہے‘‘
’’کہیے کیا کہنا چاہتے ہیں آپ؟‘‘
’’سر میں ایک ریسرچ اسکالر ہوں ۔اردو میں پی ایچ ڈی کررہا ہوں۔میرا موضوع ہے ’’اردو داستانوں میں جنوں اور چڑیلوں کا تذکرہ‘‘میرا یہ موضو ع پانچ ابواب پہ مشتمل ہے۔تین باب میں تیار کرچکا ہوں ۔دوباب آپ سے لکھوانا چاہتا ہوں۔سر آپ کا جو بھی حکم ہو میں تیار ہوں لیکن میرے یہ دوباب تیار کردیجیے‘‘ 
ماسٹر سوم ناتھ ریسرچ اسکالر کی باتیںسن کر دنگ رہ گئے پھر اسے کہنے لگے
’’برخوردار!۔۔۔آپ اپنے موضوع کاخاکہ میری ای میل پہ بھیج دیجیے میں دیکھوں گا‘‘انھوں نے اسے اپنا ای میل ایڈریس لکھا یااور فون سوئچ آف کردیا ۔
دوسرے دن جب سوم ناتھ اپنے اسکول میں پانچویںکلاس کے بچّوں کو انگریزی پڑھا رہے تھے تو ان کے بڑے گہرے اور دیرینہ دوست پریم کمار کا فون آیا۔ہیلو کہنے کے فوراً بعدپریم کمار بولے
’’میرے جگری دوست!۔۔۔کیا حال ہے تیرا؟‘‘
سوم ناتھ نے بھی دوستانہ انداز میں کہہ دیا
’’میرے دوست!میں ابھی تک دنیا میں سانس لے رہا ہوں۔اوپر والے کی مہربانی سے خوش ہوں‘‘
پریم کمار نے پوچھا
’’سوم ناتھ! ۔۔یار کہاں ہو اس وقت؟‘‘
’’میں اس وقت اپنے اسکول میں پانچویں کلاس کے بچّوں کو انگریزی پڑھا رہا ہوں‘‘
پریم کمار نے کہا
’’سوم ناتھ! میرے دوست!میں اپنی خود نوشت سوانح عمری’’دل دیا درد لیا‘‘بذریعہ ڈاک تیرے ایڈریس پہ ارسال کررہا ہوں ۔اس پہ مجھے تیری جانب سے ایک اچھا سا تنقیدی مضمون چاہیے اور چاہیے بھی دس دن کے اندر‘‘
سوم ناتھ نے کہا 
’’یار  !میں ایک معمولی ساآدمی ہوں۔میری کیا حیثیت ہے۔کسی اور سے لکھواتے تو بہتر رہتا‘‘
’’نہیں میرے دوست!میری نظر میں اور کوئی نہیں ہے تیرے بغیر،تجھ سے ہی لکھوانا چاہتاہوں‘‘
’’اچھا بھیج دیجیے میں کوشش کروںگا‘‘
پریم کمار نے کہا
’’اچھا ٹھیک ہے آج ہی بھیج دیتا ہوں‘‘یہ کہنے کے فوراً بعد اس نے فون کاٹ دیا۔
ماسٹر سوم ناتھ کے گھر پہ ہر دوسرے تیسرے دن ڈاکیہ کتابیں لے کر آتا۔بُک پوسٹ،اسپیڈ پوسٹ اور رجسٹرڈڈاک سے گھر میں بہت سی کتابیں جمع ہوگئی تھیں اور ہر کتاب کے پہلے صفحے پہ ماسٹر سوم ناتھ کو بڑے آداب والقاب کے ساتھ یاد کیا گیا ہوتا۔کسی نے انھیں ہندی،اردو اور انگریزی کا آفتاب لکھا ہوتا اور کسی نے مہتاب لیکن آخری جملہ اس فرمائش سے تعلق رکھتا کہ زیر نظر کتاب پر آپ ایک عمدہ سا مضمون لکھیے۔کسی نے سیرحاصل تبصرے کی خواہش کی ہوتی اور کسی نے پوری کتاب کا ترجمہ کرنے کی فرمائش کی ہوتی۔کتابیں ارسال کرنے والوں کے بار بار فون آتے ۔ماسٹر سوم ناتھ کسی سے نہیںالجھتے۔جی جی،ہاں ہاںکہتے ہوئے سب کے ساتھ اسی طرح پیش آتے ۔لکھتے لکھتے اور پڑھتے پڑھتے ان کی نظر کمزور ہوگئی تھی۔ڈاکٹر نے انھیں موٹے شیشے کی عینک پہنے رکھنے کی ہدایت دی تھی۔
چار دن کے بعد جب ڈاکیہ نے پریم کمار کی ارسال کردہ کتاب ’’دل دیا درد دلیا‘‘ماسٹر سوم ناتھ کو پکڑا دی تو وہ اپنے گہرے دوست کی کتاب دیکھ کے بہت خوش ہوئے۔دونوں کی دوستی لامثال ولازوال معلوم ہورہی تھی کیونکہ وہ ایک دوسرے کی دانت کاٹی روٹی کھا لیتے تھے۔ہرروز تین چار بار موبائل فون پہ ان دونوں کے درمیان یارانہ وبے تکلّفانہ گفتگو ہوتی تھی۔کتاب کاظاہری حسن خاصا جازب نظر تھا۔انھوں نے اپنے گہرے دوست کی کتاب کو اوّلیت دینا حق رفاقت سمجھا۔یوں بھی پریم کمار ایک اونچے عہدے پہ فائز تھے۔دوسو بیس صفحات پہ مشتمل پریم کمار کی خود نوشت سوانح عمری’’ دل دیا درد لیا‘‘کو انھوں نے دن رات پڑھنا شروع کیا مگر جوں جوں وہ مطالعہ کرتے گئے ماسٹر سوم ناتھ کو اپنے دوست کی کتاب مایوس کرتی چلی گئی۔املائی غلطیوں کے ساتھ ساتھ زبان وبیان کی بے شمار خامیاں یہ ظاہر کررہی تھیں کہ پریم کمار کو صحیح زبان سیکھنے اور لکھنے کے لیے ایک طویل مدّت درکار ہے۔انھوں نے پریم کمار کے غلط جملوں کے نیچے لکیریں کھینچنا شروع کردیں۔جب کچھ دنوں کے بعد انھوں نے پوری کتاب پڑھ ڈالی تو اس کے بعد انھوں نے بڑی محنت اور ایمانداری کے ساتھ اس پہ تنقیدی مضمون لکھنا شروع کیا ۔لکھتے لکھتے انھوں نے ایک جگہ پریم کمارکے غلط جملوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا
’’میرے دوست !اگر آپ بُرا محسوس نہ کریں تو میرا آپ کو یہ مشورہ ہے کہ آپ اردو کی نابغہء روزگار ہستیوں کی تخلیقات ونگارشات کا مطالعہ دھیان وتوجہ سے کریں۔ اس سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا۔آپ کی زبان وبیان میں نکھار پیدا ہوگا ۔یہاں آپ ہی کے لکھے ہوئے کچھ غلط جملوں کو درج کررہا ہوں ۔مثلاً آپ نے لکھا ہے:
’’آپ کی خیریت نیک مطلوب چاہتا ہوں۔کار ثواب کا کام۔ا ُ س کے ذریعے سے۔پھولوں کا گلدستہ۔میں دل کی عمیق گہرائیوں سے آپ کا مشکور ہوں ۔ماہ صیام کا مہینہ۔آب زم زم کا پانی۔ حجر اسود کا کالا پتھر۔ خیریت کو خیرت مطلوب ہے۔میں نے آپ کو لب بام کے کنارے میں دیکھا۔میں اردو کے لیے سخت مایوس کُن ہوں‘‘
تنقیدی مضمون مکمل ہونے کے بعد جب ماسٹر سوم ناتھ نے اپنے گہرے دوست پریم کمار کے نام وپتے پر مضمون ارسال کردیا تو سوم ناتھ کو پریم کمار کے فون آنا بند ہوگئے۔قربتیں دوریوں میں بدل گئیں ،پھر جب ایک دن سوم ناتھ اور پریم کمار کی ملاقات شمشان گھاٹ پر ہوئی تو پریم کمار نے سوم ناتھ سے پورا ہاتھ نہیں ملایا صرف تین انگلیاں ملائیں۔روکھے انداز میں بات کی ۔ماسٹر سوم ناتھ فوراً سمجھ گئے کہ تنقیدی مضمون میں پریم کمار کی جھوٹی تعریفوں کے پُل نہ باندھنے کا یہ نتیجہ ہے۔شمشان گھاٹ اور قبرستان میں سنگ دلوں کے دل بھی نرم پڑجاتے ہیں لیکن پریم کمار کے چہرے سے ناگواری کے آثار عیاں ہورہے تھے۔
رات کو جونہی ماسٹر سوم ناتھ اپنے بیوی بچّوں کے ساتھ کھانا کھانے لگے تو اسی وقت ان کا فون بج اُٹھا ۔راج رانی نے منع کیا کہ کھانا کھاتے ہوئے فون نہ اٹھائیںلیکن ان سے رہا نہیں گیا فون اُٹھا لیا ۔ بغیر نام کے کوئی انھیں فون کررہا تھا ۔انھوں نے خفگی سے پوچھا
’’ہیلو۔۔۔کون؟‘‘
آگے سے نسوانی آواز ان کے کان میں سرایت کرگئی۔وہ بولی
’’جی ۔۔میں اوشا پوار ،ماسٹر سوم ناتھ جی سے بات کرنا چاہتی ہوں ‘‘
’’کہیے میڈم کیا کہنا چاہ رہی ہیں؟ ماسٹر سوم ناتھ بول رہا ہوں ‘‘
’’سر ۔۔! میں ایم فل کی ریسرچ اسکالر ہوں ۔ہندی میں ایم فل کررہی ہوں ۔میرا ٹاپک ہے ’’مدن گوپال کی کویتاوئں کا آلوچناتمک وشلیشن‘‘مدن گوپال پہ آپ نے کافی کچھ لکھا ہے۔سر! میں چاہتی ہوں آپ میری ہیلپ کریں‘‘
’’میڈم ۔۔! آ پ میری ای میل پہ اپنا ٹاپک بھیج دیجیے میں اسے دیکھوں گا‘‘
ماسٹر سوم ناتھ نے اسے اپنا ای میل ایڈریس لکھایا اور فون سوئچ آف کردیا۔راج رانی یہ سب دیکھتی رہی۔اس کے چہرے پہ کُدورت کے آثار ابھر چکے تھے۔وہ تُرش لہجے میں بولی
’’میرادل چاہتا ہے آپ کا یہ موبائل فون اُٹھاکے کہیں دور پھینک دوں ۔میں آپ کو منع کررہی تھی کہ کھانا کھاتے ہوئے فون نہ اُٹھا ئیں لیکن آپ اپنی عادت سے   مجبور ہیں ۔آپ سے رہا نہیں گیا فون اُٹھاہی لیا ۔کون تھی یہ کنجری؟‘‘
ماسٹرسوم ناتھ نے کچھ بھی نہیں کہا۔خاموش سرجھکائے کھانا کھاتے رہے ۔دل ہی دل میں سوچنے لگے کہ لوگوںکے مسائل کبھی کبھی میاں بیوی کے سنجوگ کو روگ بنادیتے ہیں ۔
دوسرے دن جب ماسٹر سوم ناتھ اسکول سے گھر پہنچے تو راج رانی آگ بگولہ ہوچکی تھی۔آتے ہی ان پہ برس پڑی اور بولی
’’آپ کو لکھنے پڑھنے سے فرصت نہیں ۔گھر میں چاروں طرف کتابوں کے انباردیکھ رہی ہوں ۔اب آپ نے پوجا کے کمرے میں بھی کتابیں رکھ دی ہیں ۔اپنے بچّوں کی پڑھائی لکھائی کی آپ کوکو ئی فکر نہیں ۔بیٹی کی انگریزی کاپی پہ اس کی اسکول ٹیچر نے یہ شکایت درج کی ہے کہ شاردہ کی لکھاوٹ اچھی نہیں ہے اور نیرج کی کاپی پہ سائنس ٹیچر نے یہ نوٹ لکھا ہے کہ وہ سائنس میں کافی کمزور ہے۔آپ کو اپنی کتابیں نہیں چھوڑتیں ۔لوگوں کی فرمائشیں پوری کرنے کی آپ کو بہت فکر رہتی ہے لیکن اپنے بچّوں کی پڑھائی کا کیا حال ہے اس کی طرف آپ کا دھیان نہیں جاتا ۔ایک بے فائدہ کام پہ لوگوں نے آپ کو لگا رکھا ہے ۔کیا ملتا ہے آپ کو لوگوں کی فرمائشیں پوری کرنے کے بدلے میں ؟یاد رکھو! مجھ سے اب آپ کا یہ سب کچھ برداشت نہیں ہورہا ہے۔میں یا تو ان تمام کتابوں کو اٹھا کے گھر کے باہر آگ لگادوں گی یا پھر ردّی والے کو بلاوں گی‘‘
ماسٹر سوم ناتھ ہکّا بکّا،بلکہ بہت حد تک بیوی کے تُرش لہجے سے مرعوب ہوچکے تھے۔ہمت جٹاتے ہوئے نرم لہجے میں بولے
’’رانی۔۔!اری شانتی رکھو۔سب اچھا ہوجائے گا ۔بھگوان کے لئے میری ان کتابوں کو نہ آگ لگانا اور نہ ردّی والے کو دینا ۔میری آتما ان کتابوں میںگھومتی رہتی ہے‘‘
 راج رانی اور زیادہ بپھرکر کہنے لگی
’’آپ کی آتما جہاں مرضی وہاں بھٹکے ۔مجھے یہ سب کچھ نہیں چاہیے‘‘
ماسٹر سوم ناتھ نے بڑی عاجزی کہا
’’اری کھانا تو کھلا دو،بھوک سے میرا بُرا حال ہورہا ہے‘‘
راج رانی نے کوئی بھی بات نہیں کی،وہ رسوئی میں گئی اور ڈائنگ ٹیبل پہ کھانا لگادیا ۔
کھانا کھاتے ہوئے انھیں یوں محسوس ہونے لگا کہ جیسے وہ اناج نہیں مٹّی کھارہے ہوں ۔راج رانی کا تلخ روّیہ انھیں باربار یاد آرہا تھا۔پھر جب رات کو بستر پہ گئے تو نیند نہیں آئی۔ ساری رات سوچتے سوچتے بیت گئی۔آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ راج رانی صحیح کہہ رہی ہے ۔وہ اپنی جگہ بالکل صحیح ہے ۔مطلب پرست ،منافق اور عیّار قسم کے لوگ میراخون چوس رہے ہیں۔میں لوگوں کی شاعری کی اصلاح کرتا ہوں،ان کی کتابوں پہ مضامین اور تبصرے لکھتا ہوں ،اردو سے ہندی،ہندی سے اردو،اردو سے انگریزی اورانگریزی سے اردو میں ترجمہ کرتے کرتے تھک چکا ہوں لیکن مجھے کوئی بھی مالی فائدہ حاصل نہیں ہوا ۔میں نے اپنی تمام جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو لوگوں کے لئے وقف کردیا اور اس کے بدلے میں لوگوں کی ناراضگی مول لی کیونکہ آج کل کے دور میں سچ لکھنا اور سچ بولنا لوگوں کو پسند نہیں ہے ۔پھر ان کی سوچ کا دائرہ اور وسیع ہوگیا ۔اچانک ان کے دل ودماغ میں نہ جانے یہ خیال کہاں سے آیا کہ جو انھیں بہت زیادہ منافع بخش معلوم ہوا۔وہ سوچنے لگے دکان داروں کے پاس اشیائے خوردنی کے ریٹ مقرر ہیں ،سبزی اور پھل فروشوں کے ریٹ مقرر ہیں،سیمنٹ ،بجری اور اینٹ فروخت کرنے والوں کا اپنا ایک ریٹ ہوتا ہے یہاں تک کہ چھوٹی ملازمت سے لے کر بڑی ملازمت تک ریٹ مقرر ہیں ۔نائی اور بُوٹ پالشیے تک کے ریٹ مقرر ہیں لیکن ہائے افسوس!صرف قلمکار کا کوئی بھی ریٹ نہیں !۔۔اس کی کوئی بھی قیمت نہیں ۔۔۔! اس احساس محرومی نے انھیں اس بات پہ آمادہ کیا کہ وہ کل ہی اپنے ادبی کاموں کی ایک ریٹ لسٹ تیار کرکے باضابطہ اخبار میں اشتہار کے طور پر چھپوائیں گے۔
دوسرے دن اسکول جانے سے پہلے ماسٹر سوم ناتھ نے اپنے ادبی کاموں کی ریٹ لسٹ تیار کردی۔انھوں نے راج رانی کو آو ازدی ۔اپنے پاس بُلایا۔وہ روکھے انداز میںآئی ۔اس سے کہنے لگے
کے بعد تمھیں مجھ سے کوئی بھی شکایت نہیں ہوگی۔یہ دیکھو میں نے اپنے ادبی کاموں کی ریٹ لسٹ تیار کردی ہے ۔اسے پڑھو‘‘
راج رانی نے ریٹ لسٹ پڑھی تو خوش ہوگئی ۔وہ دل ہی دل میں یہ سوچ کے خوش ہورہی تھی کہ اب ہزاروں روپے گھر میں آنے لگیں گے لیکن جب ماسٹر سوم ناتھ کی ادبی ریٹ لسٹ اخبار میں بطور اشتہار چھپی تو اس کے بعد انھیں نہ کسی نے فون کیا  اور نہ ڈاکیے کے ہاتھوں انھیں کسی کی کتاب موصول ہوئی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسسٹنٹ پروفیسر شعبئہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی 
راجوری(جموں وکشمیر)،موبائل نمبر؛9419336120