۔ ۱۴۴۰ھ کی مبارک آمد !

حرمت والے چار مہینے

28 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سجاد احمد خان۔۔۔ گاندربل کشمیر
 غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اِک اور گھٹا دی
پندرھویں صدی ہجری کا سال ۱۴۴۰ھ عالم اسلام کو مبارک ہو ۔دعاہے اللہ تعالیٰ یہ سال عالم اسلام کو اسلام کی بہاروں سے منور کرے،ہماری عمر وں میں صالحیت کی برکت پیدا فرما دے اور ہمیں وقت کی قد نصیب فرما دے۔ آمین ۔ ایک سال میں ۲ا؍ مہینے ہوتے ہیں ۔ یہ نظام اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت مقرر فرما دیا تھا۔’’بے شک اللہ تعالیٰ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں، اللہ کی کتاب جس دن سے اللہ تعالیٰ زمین و آسمان پیدا کئے۔ ان میں سے چار عزت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکین سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور جان لو اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے‘‘ (التوبۃ ۶۳ ) ماہ و سال کا یہ نظام اللہ تعالیٰ کا تخلیق کردہ ہو نے کے ناطے اس میں یقیناً مخلوقات کے لئے نفع ہے اور اس سے دین کے اَحکام جڑے ہوئے ہیں، اس لئے بارہ مہینوں کی اس گنتی اور اس میں چار مہینوں کی خصوصی مقام کے ساتھ تعیین کو ’’الدین القیم‘‘ فرمایا گیا ہے مگر ہم مسلمانوں پر افسوس ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حسین اور مفید نظام الاوقات جس کے ساتھ نماز، حج، روزہ وغیرہ فضائل والے دینی اُمور جڑے ہوئے ہیں، سے بالعموم غفلت  برت ر ہے ہیں۔دوسری بات جو اس آیت مبارکہ میں ارشاد فرمائی گئی وہ یہ ہے کہ ان بارہ میں سے چار مہینے خصوصی عزت و حرمت والے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا خاص مقام ہے۔
  مخصوص چار مہینے :
محققین کے مطابق ان مہینوں میں گناہوں سے بطور خاص بچنا اور ترک معاصی کا اہتمام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے مالک ہیں اور اوقات و ایام بھی ان کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے جس طرح بعض ایام کو یہ خاصیت بخشی ہے کہ ان میں نیکی کا اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے جیسے عشرہ ذی الحجہ، رمضان المبارک، یوم عاشور وغیرہ۔ اسی طرح ان کا فیصلہ ہے کہ بعض ایام میں گناہوں کے وبال اور شناعت کو بڑھا دیا ہے۔ اب جس طرح بندے فضیلت والے ایام میں نیکیوں پر کمر بستہ ہوتے ہیں اور خوب محنت، رغبت اور تندہی کے ساتھ انہیں کمانے کی فکر کرتے ہیں، اسی طرح انہیں تاکید کی گئی ہے کہ یہ چار مہینے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں خاص عزت و حرمت والے ہیں ،ان میں اگر کوئی گناہ کیا جائے تو وہ سال کے دیگر ایام کی نسبت اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ بُراشمار کیا جاتا ہے اور اس پر زیادہ ناراضگی کا خطرہ ہے لہٰذا ان میں خاص محنت کے ساتھ گناہوں سے بچا جائے لیکن جب پہلے عرض کیا کہ اس خاص حکم پر عمل موقوف ہے اس بات پر کہ ان مہینوں کا علم تو ہو۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مایہ ناز تفسیر ’’الجامع لاحکام القرآن‘‘ میں اس بات کو وضاحت اور مثال کے ساتھ تحریر فرمایا ہے:’’تم ان مہینوں میں گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر ظلم نہ کرو کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جب ایک جہت سے کسی شئے کو عظیم بنا دیتا ہے تو اس کے لیے ایک حرمت ہوجاتی ہے اور جب وہ اُسے دو جہتوں سے یا کئی جہتوں سے عظیم بنا دے تو پھر اس کی حرمت بھی متعدد ہوتی ہے، پس اس میں بُرے عمل کے سبب سزا دوگنا کردی جاتی ہے اور اسی طرح عمل صالح کے سبب ثواب بھی دوگنا کردیا جاتا ہے کیونکہ جس نے حرمت والے مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو اس کا ثواب اس آدمی کے ثواب کی مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے حلال مہینے میں شہر حرام میں اس کی اطاعت کی اس کا ثواب اس کے ثواب کی مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حلال میں اس کی اطاعت کی‘‘(القرطبی)
ایک مختصر سا نصاب اس مسئلے سے متعلق ہم سب ذہن نشین کر لیں:
 مہینے بارہ اور قمری نظام سے منسلک ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور دین محمدی ملت ابراہیمی کا حصہ ہے۔
ان میں چار مہینے خاص عزت و حرمت والے ہیں۔ محرم، رجب، ذو القعدہ، ذوالحجہ
ان چار مہینوں کا خاص عمل ان میں گناہوں سے بچنا ہے۔
ابتدائے اسلام میں ان مہینوں میں قتال ممنوع تھا بعد میں یہ حرمت اٹھا لی گئی۔ حضور ﷺ نے خود ان مہینوں میں جہاد و قتال کے اَسفار فرمائے۔ یہ مسئلہ اجماعی ہے۔حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی قدس سرہ نے اپنی مقبول درسی تفسیر ’’معالم العرفان‘‘ میں اسلامی نظام ماہ و سال کا جامع خلاصہ تحریر فرمایا ہے۔ افادۂ قارئین کے لئے پیش خدمت ہے:بے شک گنتی مہینوں کی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں جس دن سے کہ پیدا کیا ہے اس نے آسمانوں اور زمین کو، اور ان (مہینوں) میں سے چار (مہینے) حرمت والے ہیں یہ دین ہے مضبوط، پس نہ ظلم کرو ان (مہینوں) میں اپنی جانوں پر اور لڑو شرک کرنے والوں سے پورے کے پورے جیسا کہ وہ تمہارے ساتھ لڑتے ہیں پورے کے پورے۔ اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے
ربط آیات:
پہلی آیات میں اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا ذکر تھا۔ اللہ نے کافروں اور مشرکوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بعد اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا حکم دیا۔ نیز فرمایا کہ اگر وہ مغلوب ہو کر جزیہ دینا قبول کرلیں تو ان کو امن حاصل ہوگا۔ اللہ نے ان کے عقائد فاسدہ کا ذکر بھی کیا کہ یہودی عزیر (علیہ السلام)کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں جب کہ نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام)کو ابن اللہ کہتے ہیں پھر اللہ نے فرمایا کہ کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے مگر اہل کتاب کی بدنصیبی کہ انہوں نے یہ صفت اپنے عالموں اور درویشوں کے لیے ثابت کی۔ اہل کتاب کی ایک خرابی یہ بھی بیان فرمائی کہ وہ دین حق کو مٹانے کے یے مختلف قسم کے حیلے کرتے ہیں، گویا اس چراغ کو پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہے کہ اس دین کو مکمل کرے چاہے کافر لوگ اسے کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کریں۔ اس کے بعد اللہ نے دین اسلام کے غلبے کا ذکر کیا کہ اس نے اپنے آخر ی نبی کو اس مقصد کے لیے مبعوث فرمایا تاکہ دین حق کو تمام اَدیان پر غالب بنا دے۔ یہ غلبہ دلیل اور برہان کے لحاظ سے بھی ہے اور سیاسی قوت کے لحاظ سے بھی اس کے بعد اہل کتاب کے علماء اور درویشوں کے متعلق فرمایا کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اکثر لوگ مال جمع کرتے ہیں مگر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کو ان کا جمع شدہ سونا چاندی دوزخ کی آگ میں تپایا جائیگا۔ اور اس سے ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پشتوں کو داغا جائیگا اور کہا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا خزانہ جسے تم نے دنیا میں جمع کیا اور اس کے حقوق ادانہ کیے۔ دوسری آیت میں بخل کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ ان کے مال گنجے سانپ کی شکل میں متشکل کر کے ان کے گلے میں ڈال دیے جائیں گے اور وہ پکار پکار کرکہیں گے کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں جسے جمع کرتا تھا مگر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تھا۔
زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار حرمت والے مہینوں کا ذکر کیا ہے اور مشرکین کی اس قبیح حرکت کا ذکر کیا ہے جس کے ذریعے وہ حرمت والے مہینوں کو دوسرے مہینوں سے از خود تبدیل کرلیتے ہیں۔ اہل کتاب مختلف اشیاء کی حلت و حرمت میں دخل اندازی کرتے تھے جب کہ مشرکین اللہ کے مقرر کردہ حرمت والے مہینوں میں ادلا بدلی کرلیتے تھے۔ حدیث شریف میں آتا ہے الحلال ما احل اللہ( حلال وہ ہے جو اللہ نے حلال قرار دیا ہے)۔ الحرام ما حرم اللہ ( حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے)۔ کوئی انسان از خود کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانے یا اسے تبدیل کرنے کا مجاز نہیں۔ حضرت نعمان بن نوفلؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت اقدس میں عرض کیا، حضور!اگر میں توحید و رسالت پر ایمان رکھتا ہوں اور اللہ کی حلال کردہ اشیاء کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتا ہوں تو کیا مجھے نجات مل جائے گی۔ آپ (علیہ السلام)نے فرمایا ہاں، تو نجات کا حقدار ہوجائیگا، مقصد یہ کہ حلت و حرمت کا مکمل اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، جو کوئی یہ صفت غیر اللہ کو دے گا وہ مشرک ہوگا اور مجرم بنے گا۔
یہاں پر مختلف مہینوں کی حلت و حرمت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے : بے شک اللہ کے ہاں اور اس کے حکم کے مطابق مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہے اور یہ کوئی نیا حکم نہیں بلکہ اس دن سے یہی کیلنڈر مقرر ہے (آیت)  یوم خلق السموت والارض جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے نظام شمسی قائم کیا ہے۔ سال بھر کے مہینوں کی تعداد بارہ مقرر کی ہے اور پھر ان بارہ مہینوں میں چار مہینے حرمت والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان چاروں مہینوں کو ادب والے مہینے قرار دے کر ان کے دوران جنگ وجدال کو منع فرمایا ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)کے دور سے لے کر ان کی ملت کا یہ اہم اصول رہا ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں ہر ایک کو امن وامان حاصل ہوگا اور کوئی ایک دوسرے کے خلاف تعرض نہیں کرے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام)کی اولاد میں یہ اصول ڈیڑھ ہزار سال تک قائم رہا۔ ان مہینوں کی حرمت کو برقرار رکھا جاتا رہا مگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی بعثت سے چار یا ساڑھے چار سو سال پہلے ان مہینوں کی حرمت میں گڑ بڑ واقع ہونی شروع ہوگئی اور لوگ ان میں تغیر وتبدل کرنے لگے۔
تمام اقوام اور اہل مذاہب سال بھر کے بارہ مہینے تسلیم کرتے ہیں اور نظام اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کر کے نظام شمسی قائم کیا ہے۔ کیلنڈر دنوں، ہفتوں، مہینوں، اور پھر سالوں کی بنیاد پر بنتا ہے۔ البتہ یہ حساب دو طریقے سے دنیا پر رائج ہے ایک تقویم شمسی حساب سے، جب کہ دوسری قمری حساب سے ۔ ان دونوں میں سے کون سا حساب آسان ہے؟ آپ دیکھتے ہیں کہ کہ قمری تقویم فطری ہے۔ کوئی حامل آدمی اگر کسی جنگل یا سمندر کی سطح پر بھی ہے جہاں اس کے پاس مہینہ کی تکمیل معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تو وہ ہر نئے چاند کے طلوع پر معلوم کرلے گا کہ پچھلا مہینہ ختم ہو کر نیا مہینہ شروع ہوگیا ہے۔ برخلاف اس کے محض سورج کو دیکھ کر کوئی شخص از خود اندازہ نہیں لگا سکتا کہ مہینہ کب شروع ہوا اور کب ختم ہوا، تاوقتیکہ مہینے کی ابتدا اور اختتام کا کوئی ذریعہ اس کے پاس نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ قمری تقویم زیادہ آسان اور فطرت کے مطابق ہے۔
حرمت والے مہینے:
فرمایا اللہ کے نزدیک سال بھر میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں کہ ان کا ادب واحترام کیا جاتا ہے۔ اور ان میں لڑائی جھگڑا نہیں کیا جاتا ہے ان چار مہینوں کے نام قرآن پاک میں تو نہیں ہیں البتہ ان کی تشریح حدیث شریف میں موجود ہے۔ ان چار میں سے تین مہینے تو اکٹھے آتے ہیں۔ یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور چوتھا مہینہ رجب ہے جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ ان چار مٰں سے حج کا موسم بھی اول الذکر تین مہینوں میں پڑتا ہے، چونکہ زمانہ جاہلیت میں بھی یہ مہینے محترم سمجھے جاتے تھے اس لیے اس دوران لوگوں کی آمدورفت عام ہوتی تھی۔ کوئی مسافر خطرہ محسوس نہیں کرتا تھا۔ تجارتی اور عام قافلے بلا خوف وخطر سفر کرتے تھے اور اس طرح حج کا سفر بھی بخیرو خوبی انجام پاتا تھا۔ فرمایا (آیت)  ذلک الدین القیم  یہی مضبوط دین ہے۔ ملت ابراہیمی کا یہ اٹل اصول ہے کہ
 حرمت والے مہینوں میں کسی سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی۔ فرمایا (آیت)  فلا تظلموا فیھن انفسکم  پس ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ جان پر ظلم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کر کے، اس کے حکم کو توڑ کر گناہ میں ملوث نہ ہو جائو۔ دراصل معصیت میں گرفتار ہو کر عذاب کا مستحق بننا خود اپنے آپ پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ اور اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی جان پر ظلم کرتا ہے، اس کو جسمانی، ذہنی یا مالی نقصان پہنچاتا ہے تو وہ بھی دراصل اس کی اپنی جان پر ظلم ہوتا ہے کیونکہ اسے بالآخر اس ظلم کا بدلہ چکانا ہوگا۔
تخصیص کی وجہ:
مفسرین کرام نے یہاں پر یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ظلم تو مطلقاً حرام ہے۔ پھر یہاں پر ان چار مہنیوں کی تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ ان مہینوں میں ظلم نہ کیا جائے؟ فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گناہ کرنا کسی وقت اور کسی مقام پر بھی حرام ہے مگر حرم شریف میں اس کا ارتکاب زیادہ سنگین اور ڈبل سزا کا موجب ہے۔ اسی طرح عام گلی، بازار میں گناہ کرنے سے مسجد میں گناہ کرنا زیادہ سنگین جرم ہے۔ اس کی ایک مثال سورۃ بقرہ میں یوں آتی ہے : حج کے مہینے معلوم ہیں ، پس جو کوئی ان مہینوں میں حج کا احرام باندھ لے پھر وہ نہ کوئی شہوانی بات کرے، نہ گناہ کا ارتکاب کرے اور نہ جھگڑا فساد کرے۔ یہاں بھی یہی بات ہے کہ جھگڑا فساد اور معصیت تو ہر وقت حرام ہے، پھر احرام کی حالت میں اسی کی تخصیص اس لیے کہ گئی ہے کہ ان ایام میں گناہ کی سنگینی بڑھ جاتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺسے دریافت کیا، حضور!بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ شریک بنائو۔ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ عرض کیا اس کے بعد بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپؐ نے فرمایا : کہ تو اپنے پڑوسی کے گھر پر ڈاکہ ڈالا جائے تو اس کی سنگینی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ پڑوسی کا ایک دوسرے پر بڑا حق ہوتا ہے اگر ایک پڑوسی دوسرے کی غیر حاضری سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کی عزت کی حفاظت کی بجائے اسے برباد کرتا ہے تو عام حالات کی نسبت اس کے جرم کو نوعت بڑھ جاتی ہے بہرحال اللہ نے فرمایا کہ حرمت والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
قمری تقویم کی تقدیم:
امام رازی ؒ فرماتے ہیں: چونکہ حرمت والے مہینوں کا تعلق قمری تقویم سے ہے، اس لیے یہاں سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ حساب کتاب میں قمری تقویم کو اولیت دینی چاہیے۔ اگر شمسی حساب سے بھی کیلنڈر بنانا ضروری ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اولیت قمری کیلنڈر کو ہی حاصل ہونی چاہیے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کے تمام احکام شرعیہ کا مدار قمری مہینوں پر ہے۔ مثلا زکوٰۃ روزے حج اور عدت وغیرہ قمری مہینوں کے حساب سے ہی پورے کیے جاتے ہیں لہٰذا قمری تقویم کو بالکل ترک کرکے شمسی تقویم پر انحصار کرنا مکروہ تحریمی میں داخل ہے۔ ایسا کرنے والے مسلمان گناہ گار ہوں گے۔ انگریزی کیلنڈر کے علاوہ ہندوئوں کا بکرمی سنہ، پارسیوں کا فصلی سنہ اور رومیوں کا اپنا کیلنڈر بھی چلتا ہے۔ تا ہم اولیت قمری تقویم کو حاصل ہے اور یہی فطری تقویم ہے۔‘‘(معالم العرفان)
رابطہ:   9469411580
 
 

تازہ ترین