تازہ ترین

ایس ایس اے ٹیچر

بے نواؤں کی بھی سنئے گا جناب !

27 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

غازی سہیل خان۔۔۔۔۔ بارہمولہ
 تاریخ  عالم گواہ ہے کہ نسل نو کی تعمیر و ترقی ،دنیا ئے انسانیت کی نشو نما ،معاشرے کی تعمیر و تشکیل اور فرد ِبشر کی فلاح و بہبود کے پیچھے ہمیشہ کسی  کامیاب معلم اور باکمال استاد ہوتا ہے، لہٰذا اُس کا مقام ومرتبہ جتنا بڑا ہوتا ہے شاید ہی کوئی اوراس کو پا سکتا ۔ آپ ﷺ کو اسی مناسبت سے معلم ِانسانیت اور استاد ِکُل کے ناموںسے پکارا گیاکیوں کہ آپ نے عالم ِانسانیت کو درس انسانیت دیا اور انہیںحیوانیت سے بچنے کے طور طریقوں سے آشنا کیا ۔ اس میں دوائے نہیں حقیقی استاد باپ سے زیادہ درجے کاحامل اور عزت و شرف میں ممتاز ہوتا ہے ،جسے قوم و ملت کا حقیقی رہنما اور نسل انسانی کا کامل پیشوا مانا جاتا ہے ،جس سے علم کا دریا بہتا ہے ،عمدہ اخلاق کی فضا ہموار ہوتی ہے اورامن و امان کا ماحول قائم ہوتا ہے۔ یہ ایک فرض شناس استاد ہی ہوتا ہے جو انسانیت کو سجا سنوار کر ملک وقوم کی ترقی و فلاح کے لئے محنت ومشقت سے تیار کرتا ہے۔
جس طرح سے ایک سنار سونے کو بھٹی میں تپا تے ہوئے قیمتی زیور کی شکل وصوت عطاکر تا ہے ۔شاقہ سے خوبصورت زیورات تیار کرتا ہے اسی طرح سے ایک استاد نسل نو کو بھی تربیت کی بٹھی میں خشت کی طرح پکا کر کے اس کے کردار و عمل کو سجا کر سماج کی فلاح و بہبود کے لئے پیش کرتا ہے ۔دنیا میں سب سے مشکل کام اگر ہے تووہ انسان کی تربیت ہے اور اگر ایک انسان کی تربیت  اچھی ہوتی ہے تو ہمیں یہ سمجھ لینا چاہے کہ ہمارا سماج بھی ترقی کر کے خوش و خوشحال ہوگا اور خدانخواستہ اگر ہمارے سماج میں بسنے والے انسانوں کی تربیت میں کوئی کوتاہی برتی گئی تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سماج تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں کر پائے گا اور اس سماج کے بسنے والوں کی زندگیاں اجیرن بن جائیں گی۔اسی لئے ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ ایک استاد کا مقام و مرتبہ کسی بھی سماج و معاشرے میں عظیم استاد کا کام انتہائی اہم اور انمول ہوتا ہے کیونکہ استادکو انسانی سیرتیں تعمیرکرنا ہوتی ہیں، کوئی مشین یا پرزہ نہیں ۔اس لئے سماج اور وقت کی حکومت پر مشترکہ طورریہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اساتذہ کے جملہ حقوق کا خیال کرتے ہوئے یہ بات یقینی بنائیں کہ اساتذہ کو کسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہو تاکہ وہ ذہنی یک سوئی کے ساتھ اپنے اہم ترین فرائض کی انجام دے سکیں۔ اُن کی ہر ایک جائز مانگ کو بلا تاخیر پورا کیا جانا چاہیے مبادا کہ قوم کے معمار تازہ دم ہوکر نسل ِنوکی کی تعلیم وتربیت میں اپنا خونِ جگر نچوڑنے کا معجزنما کام کرسکیں ۔جب ہم دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ محسوس کئے بنا نہیں رہتے کہ اکثر اقوام و ممالک میں اُستاد کو بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے ۔ان کے مسلّمہ حقوق اور ان کی جائز مانگوں کو بروقت پورا کیا جاتا ہے ۔اس کے برعکس یہ بات لکھتے ہوئے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ جموں کشمیر میں اساتذہ کی تذلیل وتحقیرایسے ایسے کی جاتی ہے جیسے یہ انتہائی خطرناک مجرم ہو ں۔ تذلیل ہی نہیں بلکہ معمارانِ قوم پر وقت کے حاکموں کے حکم سے پولیس کے ڈنڈے ایسے برسائے جا تے ہیں جیسے یہ سرے سے انسان ہی نہ ہوں۔اس وقت جموں کشمیرکے ایس ایس اے اساتذہ اپنے جائز حقوق حکومت سے منوانے کے لئے کوشاں ہیں مگر بدلے میں ان کی خاطر تواضع عتاب وں وعذابوں سے کی جاتی ہے ۔ کای یہ حکام کے لئے فخر کی بات ہے ؟
اصل میں سرو شکشا ابھیانSSA) (اسکیم کے تحت ان اساتذہ کی تقرریاںسال ۲۰۰۲ء میں ریاست میں شروع کی گئیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ پورے ہندوستان کی طر ح یہاں بھی نسل نو کو بنیادی (elementary)تعلیم دی جائے تا کہ کوئی بھی محلہ اور گائوں تعلیم کے نور سے محروم نہ ہو۔ اسی لئے ہر گائوں میں چند کلو میٹر کی دوری پر پرائمری سطح کے اسکول کھولے گئے اور وہاں پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ان اسکولوںمیں تعینات کر کے نو نہالوں کو بنیادی تعلیم دینے کا مستحسن سلسلہ شروع کر دیا گیا ۔ان اساتذہ صاحبان نے اپنی محنت شاقہ سے یہ کوشش کی کہ ناخواندگی کی شرح کو کم کیا جائے ، حالانکہ مشاہر ے کے نام پرا نہیں محض پندرہ سو روپے ملتے جس کے عوض یہ اساتذہ صاحبان اپنا رات دن ایک کر کے ان بچوں کو تعلیم کے نور سے منور کرتے چلے آرہے رہیں۔ آج بھی اسی شوق و جذبے سے یہ کام انجام دیا جا رہاہے۔ کمر تو مہنگائی  کے زمانے میں صرف پندرہ سو روپے تنخواہ پر پانچ سال تک کام کر نے کے بعد حسب قاعدہ ان کو مستقل بُنیادوں پر تعینات کیا گیااور دیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ انہیں بھی تمام مراعات دی گئیں ، اس میں چھٹے تنخواہ کمشن کے تحت ان کے حق میں نئے پے سکیل واگزار کئے گئے لیکن شومی ٔ قسمت سے رفتہ رفتہ اساتذہ صاحبان کو وقت کے حکمرانوں نے اپنے مخصوص سیاسی مفادات کے پیش نظر اپنے جائز حق کے حوالے سے تڑپانا اور ترسانا شروع کیا اور یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے ۔اس وجہ سے اساتذہ صاحبان کے خاندان براہ راست متاثر ہورہے ہیں ۔چونکہ اس کٹھنور میں ہر فرد بشر کو زندگی گزارنے کے لیے پیسے کی بڑی ضرورت پڑتی ہے لیکن خدا را خود بتایئے کہ جب گران بازاری کے اس دور میں کسی عام سرکاری ملازم کو کام کاج کے باوجود تنخواہ یا دیگرمالی فوائدنسے محروم کیا جائے ، کئی کئی ماہ تک تنخواہ نہ ملنے کی صورت میںا س کو مشکلات کے بھنور میں دھکیلا جائے ، اس کے سماجی تحفظ کو داؤ پر لگایا جائے، تو اس کم نصیب شخص کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا، اس کا شاید ہی عیش وآرام سے گزر اوقات کر رہے افسر شاہی اور سیاست دان اندازہ کر سکیں گے ۔میری آنکھوں نے وہ دل آزارمنظر بھی یہاں وقوع پذیر ہوتے دیکھے کہ جب ایک اُستاد کو بیچ چوراہے پہ ایک دوکان دار سے ڈانٹ پٹ اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے استاد دوکاندار کی اوگرائی پر وہ اُسے پھوڑی کوڑی بھی ادانہ کرسکا ۔ ایسے کم نصیب ٹیچر اپنے  بیوی کی ضروریات، والدین کے تقاضے، بچوں کی اسکول فیسیں، گھر گرہستی کا روز مرہ سامان، کپڑے ،ادویات اور دوسری واجبات کا پیٹ کیسے بھرتے ہوں گے، وہ بھی گراں بازاری کے موجودہ زمانے میں ، وہ کوئی الف لیلوی داستان سے کم دلچسپ نہ ہوگی ۔ بہر حال جب  ایس ایس اے اساتذہ صاحبان کو اپنے جائزحقوق سے محروم کیا جائے تو وہ جینے کے لئے ہاہاکار کیوں نہ مچائیں ؟ وہ کلاس روم چھوڑ کر اپنی مسائل کی دہائی دینے احتجاج کا راستہ کیوں نہ اختیار کریں؟ وہ سڑکوں پر آکر نعرہ بازیاں کیوں نہ کریں ؟ لازماً اس صورت حال میں  ہمارے بچوں اور بچیوں کی تعلیم متاثر ہوگی اور کبھی کبھی اسکولوں پر تالے بھی بطور احتجاج چڑھ جائیں گے ۔ متاثرہ معلمین کے تئیں حکومت کی طرف سے اس طرح کا بُرا رویہ اختیار کیا جائے تو مجبوراً اساتذہ صاحبان کو ایسے ناپسندیدہ اقدامات مجبوراً اُٹھانے پڑتے ہیں جس کی ساری  مکمل ذمہ داری سے حکومت بری الذمہ نہیں ہوسکتی ہے ۔ آج تک ہم بے بسی کے عالم میں یہی دیکھتے ہیںکہ اپنے جائز احتجاج میں تیز لانے کے لئے معمارانِ قوم کبھی پرتاب پارک لال چوک اور اپنے کبھی اپنے زونل ہیڈ کواٹرس پر بر سر احتجاج ہوتے ہیں ۔ اب تو تادم تحریر ان کی بھوک ہڑتال بھی ہورہی ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے جائز اور مبنی بر صداقت حقوق کو بغیر احتجاجوںا ورمظاہروں کی شنوائی ہوتی ، طلبہ وطالبات کے تعلیمی وتربیتی نظام کو مزید خرابی سے بچانے کی نیت سے ٹیچروں کی تمام تر مانگوں اور مطابات کو پورا کیا جاتا، اُن کے ساتھ گفت وشنید کی جاتی مگر کیا کہیں کہ المیوں کی سرزمین کی جب کوئی کل ہی سیدھی نہیں تو بچارے مظلوم اساتذہ صاحبان کی جائز مانگوں پر فوراً کوئی ہمدردانہ غور وخوض ہونا ممکنہ طور خلاف ِ دستور ہے ۔ بایں ہمہ یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ اساتذہ کے مسائل کو نظر انداز کر نا قوم کے مستقبل سے کھلوڑا کرنے کے مترادف ہے جس کے مضرات سے پیشگی آگاہ ہونا گورنر انتظامیہ پر لازم آتا ہے۔
 اپنی پُر امن صدائے احتجاج کی بار بار اَن سنی ہونے سے تنگ آکر ہفتہ عشرہ قبل TJACکے بینر تلے جناب عبدالقیوم وانی صاحب کی قیادت میں جموں کشمیر کے متاثرہ اساتذہ صاحبان نے پرتاپ پارک سرینگرمیں اپنی مانگیں منوانے کے لئے غیر معینہ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا جو یہ سطور لکھتے وقت بھی جاری ہے ۔ہزاروں اساتذہ صاحبان شدید گرمی اور بارشوں کے بیچ پرتاپ پارک میں بھوک ہڑتال پر بیٹھ کر وقت کے حاکموں تک نہ صرف یہ پیغام پہنچانے کی کوشش میںہیں کہ ہماری مانگیں پوری کر و، وہیں ریاستی عوام کوبھی ا س بات کا گواہ بنارہے ہیں کہ جس ریاست میں قوم کے معماروں کا اتنا بُرا حال ہوگا ، عام لوگوں کا وہاں اللہ ہی حافظ ہے۔ ا فسوس اس موثر ٹریڈ یونین سرگرمی کے باوجود بھی ابھی تک انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی ، حالانکہ بھوک ہڑتال طوالت پکڑنے سے اساتذہ صاحبان کی صحتوں پر بھی بُرا اثر پڑنے لگا  ہے اور ہڑتالی ٹیچروں میں سے کئی ایک کو اسپتالوں مین داخل کیا گیا ۔اساتذہ صاحبان کی اس بے پناہ مظلومیت کو دیکھ کر بھلا سماج کا حساس طبقہ چپ کیسے بیٹھ سکتا ہے؟چنانچہ سماج سے تعلق رکھنے والے برگزیدہ لوگوں اور سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں کے رہنمائوں نے بھی اساتذہ صاحبان کے تئیں ہمدردی جتلانے کے لئے اور ان کے عزم وہمت کو جلّابخشنے کے لئے پرتاپ پارک کا رُخ کیا جس سے ہڑتالی ملازمین کا حوصلہ بلند ہوا ۔ جماعت اسلامی جموں کشمیر کے ترجمان اعلیٰ ایڈوکیٹ زاہد علی نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ صاحبان کے پاس جاکر ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر کے ان کے عزم اورحوصلے کو سلام کیا۔ اس کے بعد ایم ایل اے حکیم یاسین ،یوسف تاریگامی کے علاوہ غلام حسن میرنے بھی احتجاجی کیمپ کا دورہ کر کے اساتذہ صاحبان کی ڈھارس بندھائی ۔ افسوس کی بات ہے کہ غرض اتحاد و اتفاق کی شاہراہ پر عزم ویقین کے قدم بڑھانے کی بجائے اساتذہ صاحبان بھی معمولی اختلافات کی بناء پر الگ الگ تنظیموں میں بٹے ہوئے ہیں ۔اس وجہ سے بھی ان کے مشترکہ کاز کو بہت نقصان پہنچا ہے ۔دھڑہ بندی کے سبب ا س وقت ایک دھڑے کو قیوم وانی صاحب اور دوسرے کو فاروق تانترے صاحب لیڈ کر رہے ہیں ۔اگر یہ دونوں لیڈران متحد ہو کر سب اساتذہ صاحبان کو ایک ہی جھنڈے تلے اپنے حقوق کی جنگ لڑ نے  کا ایجنڈااپنا تے توٹیچروں کے تمام مسائل بہت جلدحل ہو جاتے ۔جان لیجئے کہ دھڑہ بندی کی وجہ سے مسائل کا حل بستہ فراموشی میں پڑا ہے۔ حکومت بھی غالباً یہی چاہتی ہے کہ کسی طرح سے یہ آپس میں ہی اُلجھے رہیں اوراونچے عہدیدار اپنی اپنی کرسیوں پر آرام سے ان کی سرپھٹول کا نظارہ کرتے رہیں ۔اساتذہ صاحبان کو چاہیے کہ فی الفور اپنے اختلافات و افراق کو بالاے طاق رکھ کر نیت خلوص کے ساتھ ایک ہی جھنڈے اور ایک ہی قائد کی اطاعت میں اپنے جائز حقوق کی جنگ زور دار طریقے سے لڑیں ۔اگر وقت کے تقاضوں کے علی الرغم اساتذہ صاحبان اپنے لایعنی اختلافات کو بھلا کر یک جٹ نہیں ہوتے تو وہ نہ صرف اپنا بلکہ نسل نو کا وقت ضائع کرنے کے علاوہ کچھ  اورنہیں کر پائیں گے ۔گورنر انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ معماران قوم کے جائز اور مبنی برحق مطالبات پر لیت ولیل کی روش اور غیر ہمدردانہ طرز عمل ترک کر کے جلد از جلد کوئی کارگر نقش راہ وضع کریں جو ایس ایس اے ٹیچروں کی شکایات کو دور کر سکے، ان کے مطاالبات کو پورا کرے اور طلبہ وطالبات کا اکیڈمک فیوچر روشن بنے۔ حکام کو چاہیے کہ فوراًسے پیش تر ہڑترال ٹیچروں وک مکالمہ آرائی کی مخلصانہ دعوت دے کر افہام وتفہیم کی راہ اپنا ئیں ۔ یوں ان شا اللہ کوئی نہ کوئی راہ نکلے گی جو اس مخمصے کا نپٹارا کر نے پر منتج ہوگی ۔ 
نوٹ : یہ مضمون ایس ایس اے ٹیچروں کے حق میں ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات نافذکر نے کااعلان ہونے سےقبل لکھا گیا تھا
رابطہ نمبر۔9906664012