تازہ ترین

منشیات کی لت

علامات اور احتیاطات

25 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مر سلہ: یوتھ فورم سرینگر
 ہمارے  سماج اور بالخصوص بعض تعلیمی اداروں میں منشیات کے کھلے عام استعمال نے تشویش ناک صورت حال اختیار کی ہے اور ایسا محسوس ہورہاہے کہ ہماری نوجوان نسل بربادی اور تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔قبل اس کے کہ دیر ہوجائے ہمیں یہ دیکھناہوگا کہ ہم اس سلسلے میں کیا کرسکتے ہیں اور نوجوان نسل کو تباہی و بربادی سے بچانے کے لئے کچھ ایساکریں کہ وہ تاریک راہوں کے مسافر بننے کے بجائے قوم کے مستقبل کو روشن کریں۔ منشیات کے استعمال سے جسمانی امراض میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ، نشہ کے عادی افراد ہپا ٹائٹس اور ایڈز جیسی جان لیوا بیماریوں مبتلا ہو جاتے ہیں۔منشیات ایک ایسا خاموش قاتل ہے جو اپنے شکار کو آہستہ آہستہ مریض کو بستر مرگ تک پہنچادیتا ہے۔ہماری ریاست میں نشے کا بڑھتا ہوا استعمال خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ ہمیں اپنے اردگردنشہ کے عادی افراد ملتے ہیں۔ نشہ نسل انسان کیلئے جہاں موت کو پیغام ہے ،وہی یہ کئی معاشرتی واخلاقی اور صحت کے مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ منشیات کے عادی افراد میں بوڑھے، نوجوان، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ جہاں نشہ آور ادویات کا پھیلاؤ ایک وبا کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے ،وہیں یہ بات بھی کٹھن اور مشکل ہے کہ کس طرح نشے کی لت میں مبتلا متاثرین کی پہچان کیسے کی جائے اور انہیںکس طرح اس بری عادت سے چھٹکارا دلایاجائے۔ 
 افسوس ہے کہ ہم لوگ اس سنگین مسئلہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں ،جب کہ کوئی نہ کوئی اس لت میں مبتلاہوکر جھولتا نظر آرہا ہے ۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض لڑکیاں بھی سگریٹ نوشی اور دیگر نشہ کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے جو خطرناک رحجان کی طرف اشارہ کررہاہے اور کشمیر کی روایات اور سماجی اقدا رسے کوسوں وور ہے۔ ان حالات میں متعلقہ حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ سماج کے ساتھ جڑے سبھی ہوش مند لوگوں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگاتاکہ نوجوان نسل کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکے۔ معاشرے کے سبھی لوگ بالخصوص اساتذہ اور والدین نئی نسل پر نظر رکھیں اور انہیں منشیات کے دلدل میں پھس جانے سےبالفعل روکیں۔اگرچہ نشے کی لت میں مبتلا کسی شخص کی پہچان کرنا قدرے مشکل ہے ،تاہم چند ایک اشاروں اور علامات کو نگاہ میں رکھ کر ہم بہت کچھ اخذ کرسکتے ہیں کہ آیا فرد نوجوان ہو یا بچہ نشہ کی لت میں مبتلا ہے یا کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے۔اس سلسلے میں ہماری جانب سے کوئی کوتاہی ، تساہل یاتغافل ایک بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ہمیں سنجیدگی، ذہانت اور کافی ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئےایسے مشکوک جوانوں اور بچوںکے اندر پیدا ہورہی تبدیلوں کو بغور دیکھنا ہوگا ،ان پر کڑی نگاہ رکھنے کے بعد ہی ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں اور پہلی بار شک پیدا ہونے کی صورت میں ہمیں فوراََ کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہے۔ کسی شخص کے نشہ میں ملوث ہونے کی پانچ علامتیں: 
(۱)برتاؤمیں تبدیلی ::
ایک جائزے کے مطابق بچہ یا جوان جب نشہ کی لت میں مبتلا ہوتا ہے ،اس کے برتاؤ میں خاص طور تبدیلی آتی ہے۔ اس کے حلقۂ یاراں میں ا چانک نئے دوست دکھائی دیتے ہیں۔وہ اپنے گھر کے معاملات اور افراد سے غیر متعلق ہوجاتا ہے۔تنہائی پسند کرتا ہے۔وہ اپنی بات اور مقصد صحیح طریقے سے بیان نہیں کرپاتا اور سابقہ معمولات سے بڑھتی ہوئی عدم دلچسپی دکھاتاہے۔کبھی کبھی اپنی ضروریات اورنشے کی لت پوری کرنے کے لئےگھرکی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ہاتھ صاف کرتا ہے۔ 
(۲)نشے کی لت میں مبتلا نوجوانوں میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہ عجیب و غریب حرکات کرتے ہیں،وہ جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کبھی اناپ شناپ بول کر اور کبھی بدزبانی کرتے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسے جوانوں کی اس خلاف معمول حرکت کے لئے جب اسے ڈانٹ پلائی جاتی ہے تو وہ گھر سے بھاگ جاتے ہیں اور کبھی کبھی اسکول سے بھی غیر حاضر رہتے ہیںاور گھروں کی توڑ پھوڑ بھی کرتے ہیں۔ اکثروہ یکہ و تنہا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ان کا موڑ بدلتا رہتا ہے۔ڈپریشن یعنی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیںاور اس صورت حال اور ان کا تنہائی پسند ہونے کی صورت کو کبھی بھی نظر انداز نہ کریں ۔
(۳)رکھ رکھاؤمیں تبدیلی:
جب ایسے متاثرہ افراد غیر اخلاقی رویہ کا اظہار کریں ،نتائج کے اعتبار سے ان کی کارکردگی حوصلہ افزا نہ ہو،بے قابو ہوجائیں ،برتاؤ جارحانہ ہو،گھر کے افراد ، دوستوں ،ہم جماعتی اور اساتذہ سے ان کا برتاؤ روکھا روکھا ہو،مزید یہ کہ تعلیمی میدان میں روز بروز ان کی کارکردگی گرتی دیکھ کر بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ شخص شاید نشہ کی لت میں مبتلا ہے۔
 ا:جسمانی اور ظاہری تبدیلیاں:
ب : نشہ کا استعمال کرنے والے کی آنکھیں اکثر سرخ رہتی ہیں۔
ج : آنکھوں کی پتلیاں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔
د:وزن کم ہونے کی شکایت رہتی ہے۔
س: جسمانی صفائی کی طرف کم دھیان ہوتاہے ۔۔۔۔
س: نکسیر پھوٹناجاری ہوتا ہے۔
ش: جسم پر کبھی کپکپی اور رعشہ طاری ہوتاہے ۔
ط:گال سرخ رہتے ہیں۔
ظ:جسم پر کھرونچ اور زخم ہوتے ہیں ۔
ف :سست روی ،تھکاوٹ اور گری ہوئی طبعیت رہتی ہے ۔
۰۱) اپنے آس پاس ادویات رکھنا 
مزید اس کے اگر متاثرہ شخص کے پاس وزن جانچنے کی مشین ہو،تمباکو پینے کی نلی ہو،سگریٹ سلگانے کی لائٹر،پروسلین کی چھوٹی پیالیاں ،سرنج ،غبارے ،غیر ضروری بوتلیں،کپ وغیرہ ہو ،تو جانچ کیجئے اور نگاہ رکھئے کہ وہ ان چیزوں کا استعمال کیسے اور کیوں کر رہا ہے۔ یاد رکھئے احتیاط اور نگہداشت ہی بہترعلاج ہے۔
