تازہ ترین

میں شرمندہ ہوں

کہانی

23 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد ارشد کسانہ
تین سال کے بعد میں امریکہ سے گھر واپس آیا ۔ میں جیسے ہی ٹرین سے اترا میں نے ایک بار اپنے مو بائل کو آن کرکے دیکھا جو بس ڈیڈ ہونے والا تھا۔ مجھے ابھی کافی دور جانا تھا اور راستے میں موبائل کی کافی ضرورت تھی اس لئے اس کو چارج کرنا میرے لئے مجبوری تھی۔ میں اسٹیشن پر ہی چارجینگ پوئنٹ تلاش کرنے لگا اور یہ تلاش اسٹیشن کے ایک کونے پرختم ہوئی ۔جہاں پر ایک پوئنٹ خالی تھا۔ میں نے یہاں پر اپنا موبائل چارج کرنے کے لئے لگایا اور بڑے سکون سے بیٹھ گیا۔ میرے ارد گرد صرف عورتیں تھیں۔دراصل یہ جگہ عورتوں کے لئے مخصوص تھی اور میں یہ بات جان کے بھی انجان بنا رہا۔ 
میں وہیں موبائل کے پاس بیٹھ کر بھیڑ کا جائزہ لینے لگا ۔اچانک اسٹیشن کی حدود کے باہر سے، جہاں گھپ اندھیرا تھا، ایک انسان کے سائے پر میری نظر پڑی، جو آہستہ آہستہ اسٹیشن کی طرف بڑھ رہا تھا۔پہلی نظر میں تو میں ڈریں گیا کیونکہ اس کا سایہ بالکل بھوت کی طرح لگ رہا تھا ۔پھر میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ میں اکیسویں صدی میںہوں۔مگر اس کی سست رفتاراور ساکت ڈھانچے نے اُسے دیکھنے کے لئے میری دلچسپی بڑھا دی ۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسٹیشن کے اندر چلا آیا ۔ میں نے جب اسے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ کوئی آٹھ نو سال کی بچی ہے۔ وہ میری دائیں طرف بغیر کسی حرکت کے بڑی خاموشی سے بیٹھ گئی۔ اس نے ایک دفعہ وہاں بیٹھی تمام عورتوں کو ترسائی ہوئی نظروں سے دیکھا۔ پھر سامنے ہی ایک عورت، جو اپنی بچی کے ساتھ کھیل رہی تھی، پر نظریں جما لیں۔کچھ ہی لمحوں کے بعد اُس کی آنکھیں بھر آئیں اور آنسوں کے موٹے موٹے قطرے اسکے رخساروں پر بہنے لگے۔ میں یہ دیکھ کر چونک گیا۔
میں نے چاہا کہ اُس کے آنسوں پونچھ ڈالوں مگر عورتوں کے بیچ جانے کی مجھے اجازت نہ تھی۔ کچھ دیر کے بعد اس نے اپنے آنسوں دونوں ہاتھوں سے پونچھے اور وہاں سے اٹھ کر ایک عورت کے پاس بیٹھ گئی۔ وہ عورت کوئی پچاس سال کے آس پاس کی ہوگی اور وہ اپنے سامان کو تکیہ بنائے سو رہی تھی۔ لڑکی بالکل اُس کے قریب بیٹھ کراسے بڑے غور سے دیکھنے لگی۔میں سوچ رہا تھا کہ شائد اس کے ماں باپ کہیں کھو گئے ہیں مگر وہ تو گھور گھور کے اس عورت کو دیکھ رہی تھی۔ اُ س کی آنکھوں سے پھر آنسوں گرنا شروع ہوگئے۔ پھر آہستہ آہستہ اُس نے اپنا ایک ہاتھ عورت کے سر پر رکھا اور دوسراہاتھ گال پر، اتنے میں وہ عورت جاگ گئی اور بچی ڈر کے مارے یکدم کھڑی ہوگئی۔ اس کی حالت ایسی ہوگئی جیسے کوئی بجلی کا جھٹکا لگا ہو۔ اسی حالت میں وہ آہستہ آہستہ پیچھے مڑی اورایک کونے میں بیٹھ گئی ۔ 
میرے اندر اس لڑکی کے لئے ہمدردی اُبل پڑی۔میں نے بڑے غور سے اسکا چہرہ پڑھنا شروع کیا۔اس کی عمر کوئی نو دس سال کی ہوگی ،آنکھیں بڑی بڑی مگر رورو کر سوجھ گئی تھیں۔ رنگ گورا،بال چھوٹے چھوٹے مگر کھلے تھے جنہیں برسوں سے پانی نے چھوا تک نہ تھا،شلوار قمیض پہن رکھی تھی مگر وہ میل سے چمک رہی تھی،پیر ننگے ،اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا یہاں تک کے سر ڈھانپنے کے لئے ڈوپٹہ بھی نہ تھا۔مگر وہ خاموش تھی۔ 
مجھے ایک بات کا تو یقین ہو گیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو کہیں کھو چکی ہے اور اب ان کی تلاش ہی میں یہاں وہاں بٹھک رہی ہے۔ مگر اس کی مدد کرنے میں میری کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں نے سوچا اگر کچھ دیر اور میں یہاں رہا تو شائد میرا دل پگھل جائے گا اور ویسے بھی کون فالتو کے جھنجٹ میں پڑے۔ میں نے جلدی سے اپنا موبائل اُٹھایا اور اسٹیشن سے باہر چلا آیا۔میں آٹو رکھشا کی تلاش میں تھا کہ اچانک پھر میری نظر اس لڑکی پر پڑی جو بھیڑ سے بالکل الگ گاڑیوں کے پیچھے سے چھپتے چھپاتے کہیں جا رہی تھی۔ مجھ سے رہا نہ گیا ۔میں اس کی پریشانی کو جاننے کے لئے اس کی طرف چل دیا۔
میں بغیر کچھ بولے اس کے پیچھے جا رہا تھا اور وہ ننگے پائوں گاڑیوں کے پیچھے سے جھکتی ہوئی بڑی تیزی سے مین روڑ کی طرف جا رہی تھی۔ میں نے ابھی آواز نہیں دی تھی کہ اُس کی نظر سامنے کھڑے دو آدمیوں پر پڑی ۔وہ تیزی سے پیچھے مڑ آئی۔ جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی وہ ڈر کے مارے زور سے چیخی اور جھٹ سے دائیں طرف پیڑوں میں غائب ہو گئی۔ میں بالکل حیران ہوکے رہ گیا۔ میں سمجھ ہی نہ پایا کہ کیوں وہ مجھ سے اتنا ڈری۔اب اس گھپ اندھیرے میں ان گھنے پیڑوں میں اس کو تلاش کرنا میرے لئے نا ممکن تھا۔اس لئے میں واپس چلا آیا۔
اگرچہ وہ لڑکی غائب ہو چکی تھی مگر کئی دنوں تک وہ میرے ذہن پر ایک نقش کی طرح قائم رہی۔ کچھ دنوں کے بعد میں کسی کام کے سلسلے میںشہر سے کچھ آگے چلاگیا ۔میں جیسے ہی بس اسٹینڈ پر اترا ۔دور سے کسی لڑکی کی چیخیں سنائی دیں ۔یہ چیخیں درد سے بھری ہوئی تھیں۔میں نے ادھراُدھر دیکھا مگر کچھ نہ دکھا۔اچانک سامنے سے ایک لڑکی چیختی ہوئی بھاگتی نظر آئی ۔میں جب تک کچھ سمجھتا وہ میرے پاس سے گذرکر دور جا چکی تھی ۔ میں اس لڑکی کو اتنی غور سے تو نہیں دیکھ پایا مگر یہ وہی لڑکی تھی۔ میں نے پھر ادھر اُدھر دیکھا مگر اس کے پیچھے کوئی بھی نہ تھا۔ لوگ بالکل خاموشی کے ساتھ ایسے چل رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ یہ میرے ساتھ دوسرا حادثہ تھا مگر اس بار میں نے ارادہ کرلیا کہ میں اس کی پریشانی جان کر رہوں گا ۔میں نے اپنا بیگ پیچھے کی طرف لٹکایا اور اس لڑکی طرف چل پڑا ۔وہ لڑکی دور ایک نالے میں غائب ہو چکی تھی۔ میں بھی اس نالے کی طرف چل پڑا۔جوں ہی نالے کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ لڑکی ایک پتھر کے پیچھے اوندھے منہ لیٹے ہانپ رہی ہے۔ میں جلدی سے نیچے اترا مگر اس نے میرے قدموں کی آہٹ سن لی۔ وہ پھر چلائی اور بجلی کی طرح غائب ہو گئی۔ مجھے پھر لاچار ہوکر واپس آنا پڑا۔ 
میں وہاں سے دوسری گاڑی پر میں بیٹھا اور شام کو اس گائوں میں اترا جہاں مجھے جانا تھا۔ یہاں سے میرے لئے دو گھنٹے کا سفر اور تھا اور یہ سارا سفر پیدل ہی طے کرنا تھا ۔راستہ جتنا لمبا تھا اتنا ہی مشکل بھی تھا ۔میں چڑھائی چڑھنے کا عادی نہیں تھا مگر آج کوئی چارہ بھی نہیں تھا ۔ خیرمیں آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگا۔میں جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا اندھیرا اور بھی گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ راستے کے ارد گرد بستی کا نام و نشان نہ تھا۔ بس پیڑ ہی لمبی گھاس اور مکئی کی گھنی فصل تھی۔اس جھنجھال میں کیڑے مکوڑے لگاتار سائیں سائیںکر رہے تھے۔ دور کہیں سے گیدڑوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کسی گھنے جنگل سے گذر رہا ہوں۔ میں نے اس طرح شب میں کبھی سفر نہیں کیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ میرے ڈر میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ 
کچھ دیر کے بعد میں ایک پہاڑی کی چوٹی پر پہنچ گیا، جہاں ایک چھوٹا سا میدان تھا۔ میں نے تھکاوٹ محسوس کی اور اس میدان کو پر سکون محسوس کرکے مٹی کے ایک ٹیلے پر بیٹھ گیا۔ یہاں میرا سارا ڈر ختم ہوچکا تھا۔ اسی بیچ میں نے اپنے موبائل کی ٹارچ آن کرکے ادھر ادھر دیکھا۔ وہ میدان قبروں سے بھرا ہوا تھا اور میں جہاں بیٹھا تھا وہ کوئی ٹیلہ نہیں تھا بلکہ وہ بھی ایک قبر تھی۔ میں یک دم کھڑا ہوگیا۔ مجھے ارد گرد کی تمام چیزوں سے خوف آنے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میں اکیلا لاشوں کے ڈھیر میں کھڑا ہوں۔ میں بہت گبھرا چکا تھا۔ اچانک میرے ذہن میں فاتحہ خوانی کاخیال ابھرا۔ میں وہیں پردوزانوں ہوکر فاتحہ پڑھنے لگا۔ لگ بھگ دس منٹ تک میں نے اس قبرستان میں مدفون لوگوں کے لئے مغفرت کی دعاء کی، تب میں نے راحت محسوس کی۔ جیسے ہی میں نے اپنی آنکھیں کھولیں تو میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ وہ لڑکی میرے سامنے کھڑی تھی۔ مگرا س بار اس کے چہرے پر کوئی مایوسی نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں میں کوئی آنسوں نہیں تھے۔ 
’’تم اتنی رات گئے یہاں؟‘‘ میں نے ڈرتے ہوے پوچھا۔
’’ میرا شک صحیح نکلا۔ تو آپ مجھے دیکھ سکتے ہو؟‘‘اس نے بھی سوال کیا۔
’’دیکھ سکتے ہو مطلب؟‘‘
وہ وہاں سے اٹھ کر ایک اور قبر کے پاس گئی۔جس کے اوپر گھاس کم اور لال مٹی زیادہ دکھائی دے رہی تھی۔ یقینا کوئی نئی قبر تھی۔
’’یہ قبر کس کی ہو سکتی ہے،اندازہ لگاؤ۔؟‘‘ اس نے پھر سوال کیا۔ 
’’ مجھے کیا معلوم، میں یہاں تھوڑے ہی رہتا ہوں‘‘
’’یہ میری قبر ہے جناب‘‘ اس نے مایوسی سے جواب دیا۔ یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
’’ یہ کیسے ممکن ہے!‘‘
’’ پتہ نہیں‘‘
’’اگر آپ زندہ نہیں تو میں آپ کو کیسے دیکھ سکتا ہوں؟‘‘
’’اللّہ کی قدرت ،اللّہ ہی جانے‘‘
’’ مرنے کے بعد کیا انسان اس طرح گھومتا پھرتا ہے؟‘‘
’’سب کے بارے تو مجھے نہیں پتہ مگر میری بہت ساری زندگی ابھی باقی تھی۔کچھ بے رخم جانوروں نے مجھ پر اچانک حملہ کردیا اور میرے جسم کو تار تار کرکے اس کا خاتمہ کر دیا مگر میری روح ابھی زندہ ہے اور یہ تب تک زندہ رہے گی جب تک میرے لوٹنے کا اصل وقت نہیں آتا۔‘‘
’’ کیا ہوا تھا آپ کے ساتھ؟‘‘
’’رہنے دو! مجھے بتانے میں شرم آتی ہے‘‘
’’شرمـ! جس حادثے میں آپ کا قتل ہوگیا اس کو بتانے میں کیسی شرم؟‘‘
’’اچھا ! ٹھیک ہے تو سنو !، معمول کے مطابق ایک دن میں شام کو اپنے جانوروں کو گھر واپس لانے گئی ۔مگر جانور وہاں نہیں تھے جہاں وہ اکثر ہوتے تھے میں پریشان ہوگئی۔ وہاں کچھ لڑکے کھڑے تھے ، جنہوں نے مجھے بتایا کہ جانور جنگل میں چلے گئے ہیں ۔میں بھی ان کو ڈھوندنے جنگل میں چلی آئی۔میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہ لڑکے بھی میرے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔میں ڈر کے مارے بھاگنے لگی لیکن اچانک ایک نے میرا گلا دبا دیا۔ میں پورا زور لگا کر خوب چیخی مگر میں پیدائشی طور کمزور تھی اس لئے کچھ نہیں کر سکی۔ پھر انہوں مجھے خوب مارا اور آخر میں وہ ایک ایک کرکے میری عزت لوٹنے لگے۔ میرے لئے یہ سب نا قابل برداشت تھا اور اسی دوران میری آنکھیں بند ہوگئی۔
جب میری آنکھیں کھلیں تو میں نے اپنے آپ کو ایک عبادت گاہ میں پایا۔ میرے سامنے خدا پرست لوگ بھی موجود تھے۔ میں درد سے بھری ہوئی تھی ایسا لگ رہا تھا گویا مجھے دھاگے سے سیا گیا ہے۔ مگر دل میں امید تھی کہ اب میں قدرت اور حکومت دونوں کی حفاظت میں ہوں اور اب یہ لوگ مجھے میرے ماں باپ تک پہنچا دئیں گے۔انہوں نے میرے درد کو کم کرنے کے لئے مجھے کچھ انجیکشن دیئے اور میں نے ان کو دعائیں دیں۔ اچانک میں نے دیکھا وہی دو لڑکے جنہوں نے مجھ پر حملہ کیا تھا، میرے پیچھے بیٹھے ہیں۔ یہ خدا اور حکومت والے لوگ ان کی حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ پھر وہ بھی بھوکے کتوں کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑے۔ میں پھر درد اور ڈر دونوںکے مارے بے ہوش ہوگئی۔ اس کے بعد سات دنوں تک وہ لوگ باری باری آتے اور مجھے موت کی طرف دھکیلتے رہے۔ ‘‘
یہ سب کہتے کہتے وہ خاموش ہوگئی۔میں نے دیکھا اس کی آنکھوں سے اشکوں کے دھارے ٹوٹ پڑے ہیں۔ ہلکی ہلکی چیخوں کی آوازیں بھی نکل رہی تھیں۔ میرے پاس اب کچھ بولنے کی ہمت نہ تھی۔ میں اس کو بڑی حیرانگی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ خوب روئی۔کافی دیر کے بعد ایک بار پھر اس نے بولنا شروع کیا۔ 
’’آپ کو پتہ ہے سات دنوں تک میں تڑپتی رہی اور ان سات دنوں تک ان بے رحموں نے مجھے کھانا تو دور پانی کا گھونٹ تک نہ دیا۔ میرا منہ باندھ دیا تھا تاکہ میں کچھ بول نہ پاوں۔ مجھے جوں ہی ہوش آتا تھا تو وہ پھر انجیکشن دے کر بے ہوش کر دیتے دتھے۔ کبھی جب جنون میں آتے تو مجھے خوب پیٹتے اور میں بے بس سانس بھی بڑی مشکل سے لے رہی تھی۔ ان سات دنوں میں میں نے کتنی دعائیں مانگی مگر خدا کو بھی مجھ پر رحم نہ آیا۔پھر موت کی دعائیں مانگی مگر یہاں بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔ یہ روح کمبخت نکلتی ہی نہ تھی۔ ہائے! اور وہ آخری دن جب وہ مجھے مندر سے نکال کر جنگل میں لے گئے۔ اس دن تک تو میرا جسم مر چکا تھا مجھے آنکھیں کھولنے کی ہمت نہ تھی۔ مگر اس دن بھی ان ظالموں نے میرے بدن کو تار تار کیا۔ جب ان کو تسلی مل گئی تو میرا گلا دبا کر مجھے مارنے لگے ۔مگر موت بھی میری حالت دیکھ کر میرے پاس نہ آئی ۔ وہ بے بس ہوگئے۔آخر کار ایک بڑا پتھر انہوں نے میرے سر پر دے مارا۔اور میری روح میرے جسم کو چھوڑ کر بھاگ گئی۔‘‘
میں نے شرم سے اپنا سر نیچے جھکا لیا۔ کیا کرتا مجھے سننے میں اتنا برا لگ رہا تھا تو اسے جھیلنے میں کیسا لگ رہا ہوگا۔ ایک بات تو سچ ہے ہمارا ملک عورت ذات کے لئے بالکل بھی محفوظ نہیں ہے۔اس بار وہ ایک نئے جوش کے ساتھ رو رہی تھی۔ معلوم نہیں رونے کی اتنی طاقت اس کے پاس کہاں سے آئی ۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسوں بہہ رہے تھے۔ ایک بار پھر اپنے آنسوں پونچھ کر وہ مجھ سے مخاطب ہوئی۔ 
’’مرنے کے بعد بھی مجھے چین نہیں ہے۔ میرا جسم قبر کے اندر ہے مگر میری روح قبر کے اندر نہیں رہ سکتی۔ بس ایسے ہی کبھی یہاں تو کبھی وہاں بھٹکنا پڑتا ہے۔آپ نے مجھے دو تین مرتبہ بھاگتے اور روتے دیکھا نا؟ دراصل میں جہاں بھی کسی مرد کو دیکھتی ہوں ایسا لگتا ہے جیسے یہ بھی ان کا ساتھی ہے ۔اس لئے میں ڈر کے مارے بھاگ جاتی ہوں۔ جسم تو وہ کھا چکے ہیں مگر اب میں اس روح کو بچائے رکھنا چاہتی ہوں۔ ۔۔۔۔۔ تم میری خفاظت کرو گے ۔ شائد اسی لئے تم مجھے دیکھ سکتے ہو۔‘‘
کچھ ہی دیر کے بعد عشاء کی اذان ہونے لگی ۔وہ آہستہ آہستہ کھڑی ہوکر مجھ سے دور جانے لگی۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنی خاموشی کو توڑا ۔’’ آپ کا نام کیا ہے‘‘
اس نے مجھے گھورتے ہوے بڑی عجلت سے جواب دیا ’’ آصفہ‘‘
یہ سنتے ہی گویا میرے سر پر آسمانی بجلی گر پڑی ہو۔ وہ تیزی سے جا رہی تھی اور میں لاچار کھڑا تھا۔میں نے بڑے زور سے چلاتے ہوئے بس یہ جملہ کہنا اپنا فرض سمجھا’’ آصفہ میں شرمندہ ہوں‘‘   
   
سرنکوٹ پونچھ جموں و کشمیر،فون نمبر7006909305
ای میلarshadkassana33@gmail.com