تازہ ترین

آئینہ فروش

افسانہ

23 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شبنم
’’کیا میرے سارے آئینے ناکارہ ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔؟‘‘  
آئینہ فروش مایوس ہوکر اپنے آئینوںکو سامنے رکھ کر بڑ بڑایا ،اس کے دماغ میں راجا کے کہے ہوئے الفاظ اذیت بن کر گونج رہے تھے۔
’’پیارے دیش واسیو ۔۔۔۔۔۔ ہمارے ذہین و فطین سائنس دانوں نے دن رات ایک کرکے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہوا میں اڑنے والا آگ کا ایک ایسا طاقت ور گولہ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے کہ نگری میں سب سے زیادہ طاقتور اور ترقی یافتہ بننے کا ہمارا دیرینہ خواب پورا ہو گیا ۔اب کوئی بھی دیش ہمارے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔ نہ ہی ہمارے ترقی کے منصوبوں میں روڑے اٹکانے کی ہمت جٹا سکتا ہے‘‘۔  
آدم نگری کے ایک جزیرے کے راجا نے اپنی رعایا کے نام پیغام کی آڑمیںدل وذہن میں تکبر کے بلند و بالا پہاڑ کھڑے کرکے سینہ ُپھلا کر دھمکی آمیز لہجہ میں نگری کے دوسرے راجائوں کواپنی طاقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہاتو نگری کے دوسرے تباہی کے سوداگر راجائوںمیں کھلبلی مچ گئی اور وہ اپنی اپنی دکانوں کا مال بڑھانے کے لئے تگ و دو میں جٹ گئے۔ اس طرح نگری کا سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچ گیا۔
’’ نگری کو امن شانتی اور خوشحالی کا مسکن بناناہمارا مشترکہ خواب ہے۔۔۔۔۔۔‘‘
اپنے ہاتھوںتخلیق کردہ خوب صورت آئینوںسے باتیں کرتے ہوئے ایک آئینے پر درج یہ الفاظ دیکھ کر ایک پل کے لئے آئینہ فروش  کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا،لیکن دوسرے ہی لمحے یہ سوچ کر پھر سے اداسی آنکھوں میں سمٹ آئی کہ آدم زاد کے خون سے تربہ تر آدم نگری کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں کے سیاہ و سپید کے مالک ایک سانس میں نگری کو امن اور خوشیوںکا جنت بنانے کی گُل افشانیاں کرتے ہیں تو دوسری ہی سانس میں انا کے بے لگام گھوڑوں کو سر پٹ دوڑاتے ہوئے دوزخ کے شعلے بھڑکاکرنگری کو اپنی ہی جنس کے خون سے نہلاتے ہیں۔ ان متضاد ریوںکے چلتے آدم نگری اپنی ہیت بدل کر وحشت نگری کا روپ دھارن کر چکی ہے، جہاں قریہ قریہ بستی بستی سرخ آندھی کی زد میں ہے ۔ ننھی کلیاں،دوشیزائیں،جوان وبزرگ بے بسی کی حالت میں اپنی جانیں گنوارہے ہیں ۔ بزرگ والدین اپنے بڑھاپے کے سہارے جوان بیٹوں کی لاشوں کو کاندھا دینے پر مجبورہیں۔ جنگل راج کے چلتے مقتول کو پتہ ہی نہیں کہ اسے کیوں قتل کیا گیا اور نہ قاتل کو خبر ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کیوں انسانی خون سے رنگ رہا ہے۔ بد امنی کے چلتے روتی بلکتی ہزاروں مائیںاپنے جگر کے ٹکڑوں کوآنچل میں چھپائے غاروں اور کھنڈروں میں چھپ کر زندگی کی بھیک مانگ رہی ہیں۔ پیٹ میں سلگ رہی بھوک کی آگ لئے روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کو ترس رہے لاکھوں بے بس لوگ جنگلوں ،بیابانوںاور صحرائوں میں کھلے آسمان تلے ننگی زمین پر کسمپرسی کی حالت میں زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں۔                                                
’’آخر کب تک یہ موت اور تباہی کا خونین رقص جاری رہے گا۔۔۔۔۔۔؟‘‘
نگری کا آئینہ فروش ، جس کو اپنی ساری محنت رائیگاں ہوتی نظر آرہی تھی، کے دل میں کئی چبھتے سوالات کُلبلا نے لگے ۔۔۔۔۔۔ 
نگری میںجس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق اندھے اور بہرے قانون کی حکمرانی کے چلتے بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے ،طاقتور کمزور کو کچلتا ہے ،انصاف کا جنازہ نکل چکا ہے اور محبت و انسانیت کی تجہیز و تکفین ہو چکی ہے ۔ آپسی رقابتیں، سازشیں،جنگ وجدل،لوٹ مار اور دیگر سنگین جرائیم عروج پر ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ نگری کے بے شمار باشندے بیماری ،بے روزگاری ،غربت بھوک اورافلاس سے جھوج رہے ہیں لیکن طاقت کے نشے میں چور انا کے دائیروں میں قید نگری کے راجے اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ انہوںنے نگری کو ترقی کی معراج پر پہنچادیا ہے ۔ نگری کے انصاف کے اعلیٰ ایوانوں میں براجمان نام نہاد منصف اور چودھری اپنی اپنی گدیوں کی حفاظت کے لئے نگری کے ان غنڈوں کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے نہ صرف ساری سنگین صورت حال سے آنکھیں چرا کر محض دکھاوے اور زبانی جمع خرچ پر ہی اکتفا کرتے ہیں،بلکہ ان کی سیاہ کاریوں کی پردہ پوشی میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔
یہ سوچ کرآئینہ فروش کا وجود کانپ اٹھتا تھا کہ نگری کے کئی طاقت ور راجائوںکے پاس نگری کو تباہ و برباد کرنے اور نسل آدم کوصفہ ہستی سے مٹانے کے کام آنے وا لا کا بے شمار سازو سامان موجود ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں طاقت ور ترین آگ کے گولے موجود ہیں ۔نگری کے جس راجہ کے پاس تعداد میں زیادہ اور طاقت ورگولے موجود ہیں وہ اپنے آپ کو نگری کا بے تاج بادشاہ کہلاتے ہوئے ساری نگری کو اپنا غلام سمجھتا ہے، جب کہ نگری کے دستور کے مطابق بھی وہی نگری کا مہاراجہ کہلاتا ہے اور ساری نگری پر اسی کا حکم چلتا ہے ۔ نگری کا بے تاج بادشاہ کہلانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کشمکش میں نگری کے راجے زر کثیر خرچ کرتے ہوئے نتائج کی پرواہ کئے بغیرزیادہ سے زیادہ اور طاقت ور گولے اور اتنی ہی پھیلانے والا دوسرا ساز و سامان بنانے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح نگری کے کونے کونے میں بڑی تعداد میں یہ تباہ کن آگ کے گولے موجود ہیں، جن کے بٹن دبانے سے آدم نگری کا وجود بھسم ہو کر اس میں موجود تمام مخلوقات کا خاتمہ یقینی ہے ۔
نگری کی اس خوفناک صورت حال سے فکر مند اوربے چین آئینہ فروش عرصہ دراز سے نگری کے راجائوں اور دیگر متعلقین کو حقیقت کی تصویر دکھانے کے لئے اپنے آئینے بیچ رہاہے۔ حالانکہ مُنہ میں رام رام کہنے اور بغل میں چھری دباکے رکھنے والے یہ راجے بڑی تعداد میں اس کے آئینے خرید تو رہے ہیں ،لیکن ان کے رویے میں ذرا بھر بھی فرق نہیں آرہا ہے۔ اُلٹا وہ اپنے خطر ناک عزائیم کی تکمیل کے لئے زیادہ سے زیادہ ابلیسی کائوشوں میں مصروف عمل ہیںاورنگری میں زہریلی سرخ آندھی روز بروز پھیلتی ہی جا رہی ہے۔ 
’’میں ایک ناکام آئینہ فروش ہوں ۔۔۔۔۔۔  میرے سارے آئینے ناکارہ ہیں‘‘۔  
بہت دیر تک سوچ بچارکے اتھاہ سمندر میں کھوئے رہنے کے بعد آئینہ فروش، جس کا دعویٰ تھا کہ نگری کے سارے مسائل اور پریشانیوں کا حل صرف اور صرف محبت ،یگانگت اور آپسی بھائی چارے میں پنہاں ہے ، کے وجود میں درد و کرب کی ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ اپنے مقدس خوابوں کا شیش محل چکنا چور ہوتا دیکھ کرسخت جنونی ہوکر وہ چیخ پڑا ۔اس نے آئینے تخلیق کرنے والا اپنا مقدس بیش قیمت آلہ توڑ کر اپنی خوب صو رت دکان بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
’’ رک جائو ۔۔۔۔۔۔ ایسی حماقت کبھی نہیں کرنا‘‘۔
دفعتاًآئینہ فروش کی سماعتوں سے ایک زوردار آواز ٹکرائی۔ وہ رک کر ادھر اُدھر دیکھنے لگالیکن کسی کو نہ پاکر اپنے فیصلے پر عمل کرنے کے لئے اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے آگے بڑھا۔
’’غور سے دیکھو ۔۔۔۔۔۔ تمہارے یہ آئینے ناکارہ نہیں بلکہ انمول ہیں ‘‘۔
پھر سے وہی آواز آئی۔
’’پھر ۔۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ ہو کون؟‘‘
اس نے قدرے توقف کے بعد کہا۔
’’میں ہی سچائی کا علمبردارہوں۔۔۔۔۔ ۔ اعتماد سے اپنے اندر ٹٹول کر تو دیکھو‘‘ ۔
’’پھر سچ کیا ہے ؟‘‘                                                                                                                        
’’ سچ یہ ہے آپ نا بینائوں کی نگری کے آئینہ فروش ہو، جہاں کے راجائوں کی بینائی مادی مفادات کی بد نما پٹیوں تلے دب چکی ہے ‘‘ ۔                 
٭٭٭
رابطہ؛ اجس بانڈی پورہ193502 کشمیر
ای میل؛tariqs709@gmail.com   
موبائل  نمبر9906526432