تازہ ترین

گورنر کے بیان پر ردعمل

20 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

انجینئر رشید کو ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا

سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لینے کا دعویٰ غلط :عوامی اتحاد پارٹی

ہندوارہ//عوامی اتحاد پارٹی نے گورنر ایس پی ملک کے اس دعویٰ کو،کہ انہوں نے انتخابات کے اعلان سے قبل سبھی سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کی تھی،مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے گورنر پر ایک خاص مقصد سے کذب بیانی سے کام لینے کا الزام لگایا ہے۔پارٹی ترجمان ایڈوکیٹ ماجد بانڈے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گورنر کا دعویٰ مایوس کن ہے اور بد قسمتی سے جھوٹا بھی۔انہوں نے کہا’’بدقسمتی سے گورنر ملک ہر جگہ یہ دعویٰ کر تے پھر رہے ہیں کہ انتخابات کے انعقاد کے اعلان سے قبل انہوں نے سبھی مین اسٹریم پارٹیوں کو اعتماد میں لیا ہے تاہم انکی تصحیح کئے جانے کی ضرورت ہے۔ عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے کئی بار گورنر سے ملاقات کا وقت مانگ کر انہیں یہ بتانا چاہا کہ موجودہ صورتحال انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سازگار نہیں ہے تاہم بار بار کی یہ یقین دہانیوں کے باوجود نہ یہ ملاقات دی گئی اور نہ پارٹی کو اپنا موقف رکھنے کا موقع ہی فراہم کیا گیا۔ظاہر ہے کہ گورنر نے انتخابات کے حوالے سے انجینئر رشید کا موقف سننا ہی نہیں چاہا۔گورنر کو، قومی ٹیلی ویژن پر یہ دعویٰ کرنے کیلئے کہ انہوں نے ہر پارٹی یہاں تک کہ جس کا ایک بھی ممبر اسمبلی ہے کو اعتماد میں لیا ہے،معافی مانگ لینی چاہیئے‘‘۔ترجمان نے مزید بتایا کہ چونکہ بی جے پی کے ریاستی صدر نے پہلے ہی انکشاف کیا ہے کہ گورنر پارٹی کے ’’اپنے آدمی‘‘ہیں اور پھر گورنر نے خود بھی کھلے عام کہا کہ وہ مرکزی سرکار کے نمائندہ ہیں لہٰذا انکے ایجنڈا کے بارے میں تصور کرنا مشکل نہیں ہے۔عوامی اتحاد پارٹی کے ترجمان نے مزید کہا’’ریاست کی سبھی اہم سیاسی جماعتوں کے بلدیاتی انتخابات سے دور رہنے کا فیصلہ کرنے کے باوجود بھی جس طرح گورنر نے ان انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ انکا اپنا فیصلہ نہیں بلکہ نئی دلی کا فیصلہ ہے۔گورنر اس حقیقت سے کس طرح انکار کر سکتے ہیں کہ ریاست کی سبھی بڑی جماعتوں نے انہیں انتخابات کے حوالے سے کل جماعتی اجلاس بلانے کیلئے کہا لیکن انہوں نے اس جائز مطالبے کو ان سُنا کردیا‘‘۔ایڈوکیٹ ماجد بانڈے نے مرکزی سرکار سے ایک بار پھر ہوش کے ناخن لیکر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کیلئے کہا۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو ایک فضول مشق میں وقت کھپانے کی بجائے دفعہ35Aکے حوالے سے مین اسٹریم جماعتوں کو لاحق خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ بھلے ہی نئی دلی، یہ سمجھ کر کہ وہ طاقت اور سرمایہ کے بل پر کچھ بھی کرسکتی ہے،مین اسٹریم کی جماعتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے انتخابات کا انعقاد کرے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ ریاستی عوام کی آواز کو دبانے یا اسکی توہین کرنے کی کوشش بھی خود نئی دلی کے مفادات کیلئے سم قاتل ثابت ہوسکتی ہے۔
 

مقامی جماعتوں کے بغیر انتخابات حیران کن: ڈاکٹر کمال 

سرینگر// گورنر انتظامیہ کو آر ایس ایس اور بھاجپا کی بولی ترک کرکے اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی، ربط و ضبط اور غیر جانبدارانہ طریقے کیساتھ انجام دینے کا مشورہ دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ موجوہ ریاستی انتظامیہ کے طریقہ کار سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ بھگوا جماعتیں جموں و کشمیر میں اپنی من مرضی سے حکمرانی چلا رہی ہیں۔ پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس سرینگر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ امن و امان کی بحالی اور ریاست کے مفادات کا دفاع گورنر انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چائے ۔ ایک طرف گورنر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ لوگ سسٹم سے ناراض ہیں اور دوسری جانب ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جس سے اس ناراضگی میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جموںوکشمیر کی سبھی مقامی جماعتوں کی طرف سے الیکشن سے دور رہنے کے اعلان کے باوجود پنچایتی انتخابات کروا کے گورنر انتظامیہ کیا ثابت کرنا چاہتی ہے۔ مقامی جماعتوں نے ایک خاص مقصد کی خاطر الیکشن سے دوری اختیار کی ہے اور وہ مقصد مرکزی حکومت کی طرف سے دفعہ35اے سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہاں تک گورنر نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ سپریم کورٹ میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے ریمارکس حکومت کے سٹینڈ سے عین برعکس ہے اور اسے بدقسمتی تعبیر کیا۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ابھی تک مذکورہ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کیخلاف کوئی کارروائی کی نہیں کی گئی۔ اگر مذکورہ وکیل نے سپریم کورٹ اپنے منڈیٹ سے ہٹ کر حکومت کا غلط موقف اختیار کیا تو پھر اسے ابھی تک برطرف کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا گورنر انتظامیہ بھاجپا کو ناراض کرنا نہیں چاہتی۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ گورنر انتظانیہ جو امن و امان کی بحالی اور جموں وکشمیر کے خصوصی پوزیشن کے دفاع کیلئے اپنا رول نبھائیں اور نیشنل کانفرنس اس میں برابر اشتراک اور تعاون دیگی۔