غزلیات

16 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

قدم قدم پہ یہ طوفان اٹھا ہے میرے لئے 
ہوا کا زور بھی لیکن رُکا ہے میرے لئے 
 
فریب حسن کا کتنا بڑا طلسم ہے 
پرانی آنکھ ہے منظر نیا ہے میرے لئے 
 
کہیں پہ پیاس تڑپتی رہی میری خاطر 
کہیں پہ اُبر برستا رہا ہے میرے لئے 
 
تمام لوگ ہوئے شہر کے مرے دشمن 
کروں نہ فکر ترا در کھلا ہے میرے لئے 
 
یہ کس نے خار بچھائے ہیں اس چمن میں مرے 
یہاں کا پھول بھی زنجیر پا ہے میرے لئے 
 
ہر ایک ناگ جدائی کا مجھ سے لپٹا تھا 
کسی کا قرب  تڑپتا رہا ہے میرے لئے 
 
نہ دوستی ہے کسی سے نہ دشمنی عادلؔ
محبتوں کا تقاضا جدا ہے میرے لئے 
 
اشرف عادلؔ 
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر 
رابطہ ۔۔9906540315
 
 
 
جب اُڑانوں کے موسم گزر جائیں گے
پھر یہ غافل پرندے کِدھر جائیں گے
 
ریت ہی ریت رہ جائیگی دوُر تک
تیز دریا تو چڑھ کے اُتر جائیں گے
 
کوئی بھی تو نہیں جانتا شہر میں
چل پڑے ہیں مگر کس کے گھر جائیں گے
 
ٹوٹ جائے گا جب سائبانِ فلک
سارے موسم ہوا میں بکھر جائیں گے
 
کُوبہ کُو ہم کو ڈھونڈیں گے اہلِ جہاں
ہم ہوا کی طرح جب گُزرجائیں گے
 
کے ڈی مینی
پونچھ،موبائل نمبر؛8493881999
 
 
 
فقیرِ عشق بھی اپنی انوکھی شان رکھتا ہے
درِ خستہ سے باہر ہی کھڑے سُلطان رکھتا ہے
وہ اپنی سمت ہر اک مرحلہ آسان رکھتا ہے
مِری خاطر مگر ہر گام پر طوفان رکھتا ہے
مرے اندر نہ جانے کون ہے بہتر کوئی مجھ سے
جو اپنے کارناموں سے مجھے حیران رکھتا ہے
اسی خاطر میں اس کے دل میں داخل ہو نہیں پایا
درِ دل پہ وہ اڑیل سا کوئی دربان رکھتا ہے
شکست و فتح کی بازی عجب ہے مجھ میں اور اُس میں
جہاں میں دل کو رکھتا ہوں وہاں ارمان رکھتا ہوں
بہت بہتر ہے مجھ سے آرسیؔ بے جاں کھلونا اک
کوئی حالات ہوں چہرے پہ اک مسکان رکھتا ہے
 
دیپک آرسیؔ
203/A، جانی پور کالونی، جموں-180007
رابطہ؛ 9858667006
 
کھیل سارا رہا مقدر کا 
کوئی شکوہ نہیں ستمگر کا
 
یہ کہاں پر اٹک گیا ہوں میں
جو نہ اندر کا ہوں نہ باہر کا
 
دشت و صحرا تھما دئے کتنے
ایک دھوکا رہا سمندر کا
 
میری گردن بھی کاٹ دی جائے 
میں بھی شاہد ہوں خونی منظر کا
 
میں تھا آئینہ اب ہوا معلوم
میں ہوں ممنون تیرے پتھر کا
 
کچھ اسے فائدہ ہوا کہ نہیں 
جس نے سودا کیا مرے سرکا
 
خواہشِ انبساط جاگی تھی 
درد ملتا رہا جہاں بھر کا
 
ڈاکٹر احمد منظور
چندسومہ بارہمولہ ،9622677725 
 
 
مجھ سے دُورنہ ہرگزجانا
شام پڑے گھر واپس آنا 
 
اِس سے دُوریاں مِٹ جائیں گی 
لگارہے یہ آنا جانا
 
ہم اب جِس میں بندھ گئے ہیں
کبھی نہ ٹوٹے یہ یارانا 
 
چلے ہوتو پھرکب آئوگے 
اِتنامجھے بتاتے جانا
 
میری بس اِتنی ہے گُذارش 
میرے اِس دِل میں بس جانا
 
میرا یہی اثاثہ ٹھہرا
میرادِل نہ کبھی ٹھکرانا 
 
اپنے ہتاشؔ کورکھنادِل میں
اِسے کسی صو‘رت نہ بھُلانا 
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن لین جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
 
میں ہر اک شعر میں خود سے مخاطب ہوں!
بتاؤ تم ہی  میں کس کے مناسب  ہوں؟
 
وہ غالبؔ، جونؔ، سرؔ اقبال، رومیؔ ہیں
میں جن کو مانتا اپنا مُصاحب ہوں!
 
پیا میرے! حسابِ غم بھی رکھنا تم!
میں شاعر ہوں، مگر تیرا محاسب ہوں
 
یہاں سے آرہی ہے خلد کی خوشبو
ارے ساقی! میں کس بستی کی جانب ہوں؟
 
گراکر وقت نے زخمی کیا مجھ کو!
میں بسمل، اب کسی مرہم کا طالب ہوں
 
کسے دوگے بھلا آکر اذیّت  تم؟
ہو کیا تم بے خبر میں گھر سے غائب ہوں؟
 
غزل کچھ اس طرح سے اب لکھو شاہیؔ
کہ  جاناں کو  لگے اسکا  مناقب  ہوں
 
شاہیؔ شہباز 
وشہ بُک پلوامہ کشمیر
رابطہ؛7889899025
 
مت چھیڑ دلوں کے تار جگر
یہ عشق تو ہے بے کار جگر
رکھ کچل کے ان جذبات کو اب
کر اپنا کاروبار جگر
تم جس کو عشق سمجھتے ہو
وہ خنجر کی ہے دھار جگر
یہ عشق تو اکثر ڈوبا ہے
کر کشتی اس کی پار جگر
اس عشق کے صحرا میں دیکھے
سب مجنوں ہیں لاچار جگر
گر عشق کیا تو دیکھو گے
تم چین و سکوں بے زار جگر
یہ عشق کی بازی مشکل ہے
اس میں ہے اکثر ہار جگر
یہ عشق ہے کیسا روگ بُرا
نہیں بچتا ہے بیمار جگر
اس عشق میں سر بھی جاتا ہے
مٹ جاتا ہے گھر بار جگر
یہ میٹھے زہر سے ڈستا ہے
یہ عشق مُوا شہمار جگر
چل چھوڑ فلک ؔجی یہ گلیاں
یہ عشق بڑا بے عار جگر
 
فلکؔ ریاض
حسینی کالونی چھتر گام موبائل نمبر۔9596414645
 

تازہ ترین