نجی کوچنگ مراکز کی رجسٹریشن ،محکمہ تعلیم کی4رکنی ٹیم تشکیل

15 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر//نجی کوچنگ مراکزکی رجسٹریشن ، فیس وبنیادی ڈھانچے کا معائنہ کرنے کیلئے ضلع انتظامیہ نے چیف ایجوکیشن آفیسر کی قیادت میں4 رکنی ٹیم تشکیل دی ہے جبکہ انہیں15 ستمبر تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ضلع انتظامیہ سرینگر نے نجی کوچنگ سینٹروں میں موجود سہولیات اور دیگر ڈھانچے کے علاوہ رجسٹرین کی جانچ کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے۔انسانی حقوق کارکن محمد احسن اونتو نے2014 میں ریاستی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے عوامی مفاد عامہ سے متعلق عرضی  پیش کی تھی۔ اس حوالے سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سرینگر نے ایک حکم نامہ جاری کیا،جس میں چیف ایجوکیشن افسر سرینگر کی سربراہی میں4رکنی ٹیم کو تشکیل دیا،جو کوچنگ سینٹروں کا معائنہ کر کے15ستمبر تک رپورٹ پیش کریں گی۔حکم نامہ میں ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر کے ایک مکتوب  DSEK/GS/1245-51/2018محرر 25اگست2018 کو موصول شدہ مکتوب کے جواب میں اس کمیٹی کا عمل قیام میں لایا گیا،جس میں ضلع سٹیٹکس اینڈ ایولیوشن افسر سرینگر،متعلقہ تحصیلدار اور متعلقہ زونل ایجوکیشن افسر کو ممبران نامزد کیا گیا۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی’’ نجی تربیتی مراکز و کوچنگ سینٹروں کا معاینہ محمد احسن اونتو بہ مقابلہ ریاست جموں و کشمیر وغیرہ زیر پی ائے ایل نمبر17/2014کے تناظر میں کیا جائے‘‘۔ حکم نامہ میں مزید کہا گیا کہ کوچنگ مراکز کی جانچ کے دوران تربیتی مراکز میں موجودہ بنیادی ڈھانچے’(کمروں کا حجم، بجلی کی سہولیات، بیٹھنے کے انتظامات اور ہواداری) کا معائنہ کیا جائے،جبکہ کوچنگ سینٹروں میں فیس کے ڈھانچے کے علاوہ صفائی اور نکاسی کا بھی معائنہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ کمیٹی کو ان کوچنگ سینٹروں کی رجسٹریشن کی ہیئیت کی جانچ کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔ محمد احسن اونتو کی طرف سے ریاستی ہائی کورٹ میں عوامی مفاد عامہ سے متعلق عرضی’’پی ائے ایل نمبر17/2014‘‘ میں ریاستی ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ایک حکم نامہ میں کہا’’ ریاستی سرکار ماہرین کے تعاون سے اساتذہ،طلاب تناسب مرتب کریں،اور اس کے نفاذ کیلئے معقول سرکاری ہدایات جاری کریں‘‘۔سرکاری احکامات کے بعد کمیٹی تشکیل دی گئی،جس نے کلاس روم میں3x3 مربع فٹ فی طلاب مقرر کی،جبکہ ڈھانچہ اور سہولیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اساتذہ،طلاب تناسب بھی150 مقرر کیا گیا،تاہم150سے زیادہ طلاب کی موجودگی کو ڈھانچے کی سہولیات  پر منحصر رکھا گیا۔
 

تازہ ترین