تازہ ترین

ہم جنسیت!

فطرت کے خلاف کھلی بغاوت

15 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

احساس نایاب۔۔۔۔ شیموگہ,،کرناٹک
 6ستمبر   2018 جمعرات کادن ملک ِ ہند کی تاریخ میںسیاہ داغ بنا جب ملکی عدلیہ نے ایک ایسے غیرفطری عمل( عمل قومِ لُوط یا لواطت) کو قانونی جوازفراہم کرتے ہوئےاس پر اپنی اجازت کی مہر لگادی۔ یہ عدالتی اجازت قانون ِقدرت سے بغاوت ، فطرت انسانی کی مخالفت ، معاشرتی و اخلاقی اصولوں پر کاری ضرب ہے ۔ قوم لُوط کا عمل تمام آسمانی مذاہب کے نقطہ ٔ نگاہ سے سراسر ناجائز اورگھناؤناکام ہے جب کہ سماجی اعتبار سےیہ دنیا کا سب سے بدترین فعل اور ملعونیت کا کام ہے ۔اس لئے اس فعل کو انسانی سماج میں حیوانیت کے ننگےناچ سے تعبیرکرنا غلط نہ ہوگا۔ اسی بناپر چھ ستمبر ۱۸  ۲۰  کا دن ہندوستانی تاریخ کے ماتھے پر کلنک کہلاتا رہے گا۔ جس ایوان ِ عدل نے اپنایہ فیصلہ سنایاوہ پانچ ججوں پرمشتمل کورم بتایا جاتا ہےجن میں ایک خاتون جج بھی شامل تھی۔ فیصلہ آتے ہی پڑوسی ملک کے ہم جنس پرست جوانوں میں بھی ایک منفی اُمید جاگی ہے بلکہ اُن کے حوصلے بھی بلند ہوئےکہ دیر سویر انہیں بھی یہ ’’آزادی ‘‘ مل جائے گی۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس غیرفطر ی عمل اور غیر سماجک غلاظت کے پرستار کسی ایک بگڑی قوم تک محدود نہیں بلکہ دوسری اقوام میں بھی فطرت کے اعتبار سے ایسے مسخ شدہ منچلے نوجوان پائے جاتے ہیں ۔ سچ میںیہ ایک قسم کاوبائی مرض ہے جو مغرب سے شروع ہوا تھااور مشرق تک پھیل گیا ہے ۔ اس جان لیوا مرض میں مبتلا خواتین کو ’’لیزبین‘‘ اور مردوں کو’’ گے‘‘ کہا جاتا ہے۔ خرابی ٔ بسیار کے باوجود آج تک سماج نے ان اخلاق باختہ مردوزَن کوکسی صورت اپنانا تو دورہر بار دُھتکارا ، مگر تازہ عدالتی فیصلہ کی رُوسے انہیں من مانی زندگی بسر کرنے اور اس بدترین وبا کو سماج میں پھیلانےکی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔
دراصل گذشتہ کئی سال سےہم جنس پرستوں کے ایک بے حیا اور مردود ٹولے کی مانگ تھی کہ اسے ہم جنسی کی پوری آزادی دی جائے، مطلب یہ کہ دو مرد آپس میں جسمانی تعلقات بناسکتے ہیں ،اسی طرح دو عورتیں بھی آپس میں ایسا رشتہ قائم کرسکتے ہیں اور بنا کسی قانونی یا سماجی روک ٹوک کے ایک مرد دوسرے مرد سے شادی کرسکتا ہے اور ایک عورت دوسری عورت سے شادی کرسکتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ موجودہ تہذیب مخالف اور آدابِ انسانیت سے ناآشنا دنیا میں بدکاری عام ہوچکی ہے، گذشتہ چند برس سے ’’لیواِن ریلیشن شپ‘‘ کے نام پہ ایک ایسے حیوانی تعلق کو فروغ دیا جارہا ہے جس میں بنا شادی اور نکاح کے کوئی بھی مرد کسی بھی عورت کے ساتھ بے قیدازدواجی زندگی گذارسکتا ہے۔ حدیہ کہ سماج کو اس قابل ِاعتراض تعلق پر اُنگلی اٹھانے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ۔ اب اضافے کے طور ہم جنسیت کا معاملہ ایک زہریلے ناگ کی طرح پھن پھیلا کرسماج کے سامنے آکھڑا ہواہے جو سماج کو ہر لحاظ سے ڈس کر چھوڑ دے گا اور تمام سماجی اقدار اور اخلاقیات کو نگلتا جائے گا ۔بے شک لواطت قیامت کی نشانیوں میں سےایک اہم نشانی ہے جو قدرت کے طے شدہ اصولوں اورقوانین کے خلا ف مجرم سرشت انسان کی نافرمانی کا اعلان ہے۔ اس سے ایک تو ہمارے معاشرے میں گندگی، غلاظت اور گناہوں کے انبار لگیں گے، حرام حلال اور جائزو ناجائز کے درمیان اَنمٹ دوری ختم ہوجائے گی۔دوسرے آنے والی نسلیں مغرب کے پیدا کردہ ان شیطانی اثرات میں پل کر ناجائز کہلائیں گی اور آگے چل کر یہ معاملہ انسانی نسل کے مکمل خاتمے پر منتج ہوگا ۔ اس بربادی کو سرانجام دینے کے لئے آئے دن نت نئی بد چلنیاں رواج پائیں گی اور قانون کی ضخیم کتابیں غلاظت کے اس ڈھیر کاکچھ نہ بگاڑ سکیں گی کیونکہ اب ایوان ِ عدل نے اس کے ہاتھ پیراپنے نئے فتوے سے باند ھ کر رکھ دئے ہیں۔ اس بدکاری میں ملوث نوجوانوں کی راہیں ہموار کرنے کے لئے اب ریاست انہیں کئی ایک سہولیات فراہم کر نےکی پابند ہوگی جیسے ویلنٹائن ڈے اور فرینڈشپ ڈے کے نام پہ ہور ہی بے حیائیوں پر قانون اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہتی ہے ۔ باشعور لوگ یہ خدشہ بھی ظاہر کرر ہے ہیں کہ ہم جنس پرستی کے حق میں تازہ عدالتی فیصلہ  کی موجودگی میں وہ وقت دور نہیں جب معزز گھرانوں کے چشم و چراغ بھی دیکھا دیکھی میںایسی ناپاکیوںمیںملوث ہوجائیں۔ اس لئے سماج کے لئے بہتری اسی میں ہے کہ اس زہریلے ناگ کا سر ابھی کے ابھی کچل دے تاکہ یہ ناگ اپنا زہر ہمارے شہروں، گلیوں اور گھروں تک پہنچانے میں ناکام ہوجائے ۔ اس کے لئے ہمیں پُر امن انداز میں اس کے گناہِ کبیرہ کی مخالفت میںرائے عامہ ہموار کر نے کے علاوہ سماجی اصلاح اور اخلاقی تعمیر نو کے لئے آگے آنا ہو گا ۔ اپنے آپ کو اس غلا ظت سے محفو ظ بنانےکی نیت سے اپنے گھروں میں قرآن وحدیث اور سابقہ نافرمان اُمتوں کی تاریخ کو اَزبر کر ناہوگا ۔ مغربی تہذیب کی آلائشوں سے جتنا ممکن ہوسکے خود کو اور دیگر افراداخانہ کو بچاکر رکھنا ہوگا۔ اگر ہم نے اپنا بچاؤ نہ کیا تو اللہ نہ کرے یہ بیماری قہر الہیٰ بن کر ہم پر بھی ٹو ٹ سکتی ہے ۔
 مغربی تہذیب کی ردی ہوائیںپہلے ہی ملک کی آب و ہوا کو آلودہ کر چکی ہیں، ان سے ایڈز جیسی خطرناک اورلاعلاج بیماری سے ملکی آبادی کا معتدبہ حصہ جھوج رہاہے ۔ اگرچہ یہ مہلک بیماری متاثرین کی زندگیوںکی رونقیں چھین چکی ہے مگر آج تک دنیا کاکوئی سائنس دان اور طبیب اس سے مکمل شفا یابی کا کوئی علاج تلاش نہیں کرپایا،سوائے دین اسلام کے ۔ اس بیج ہم جنس پرستی کی قانونی اجازت نے ایک اور ناگہانی آفت سماج کے سر مڑھ دی ہے ۔اس قانونی اجازت سے لاعلاج بیماریاں سماج کو دستک دیں گی ، خاندان کے خاندان اجڑ جائیں گے ،ر شتوں کا تقدس پامال ہوگا ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے گندے ماحول میںضعیف الاخلاق سماج ہم جنسیت کے نئے طوفان کا کیسے مقابل کرپائے؟؟؟ عصررواں کےبگڑے ماحول کو لے کر آج کے ماں باپ پہلے ہی بچوں کی تربیت کے حوالے سے اتنے پریشان ہیں کہ ان کی راتوں کی نیندیں اُڑ گئی ہیں، ایسے میں لواطت حامی فیصلہ آنے کے بعد ان کا کتنا بُراحال ہوگا؟ رات کی نیند کے ساتھ ساتھ اب یقینا دن کا چین و سکون بھی حسا س اور باضمیروالدین پر حرام ہوا ہوگا۔ کیوں نہ ہو ،آخر سماج میں کھلے بندوں قانونِ قدرت کے خلاف اتنی بڑی حماقت جوہورہی ہے ۔مشہورمحدث حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زانی اور بدفعلی میں ایسا فساد چھپا ہے جو اللہ تعالیٰ کی خلق اور اس کے حکم کی حکمت کا مخالف ہے، کیونکہ بدفعلی میں ایسے مفاسد اور نقصانات پنہاںہیں جنہیں شمار ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ جس کسی کے ہاتھ یہ کام کیا گیا، وہ ایسا فساد برپا کررہا ہے جس کی اصلاح کی بالکل بھی اُمید نہیں بلکہ اس کی ساری خیر وبھلائی یہ فسادختم کردیتا ہے اور اس کے چہرے سے زمین حیاء کا پانی چوس لیتی ہے کہ اس کے بعد وہ نہ تو اللہ تعالیٰ سے نہ اس کی مخلوق سے حیاء کرتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے: لُوط(علیہ السلام )کا ذکر کرو ، جب کہ انہوں نے اپنی قوم کو کہا کہ تم ایسی بدکاری کا فحش کام کررہے ہو ،جسے تم سے قبل دنیا جہاں والوں میں سے کسی نے نہیں، کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت زنی کرتے ہو ؟ حق یہ ہے کہ تم بڑی نادانی کررہے ہو ۔ اس پر اُن کی قوم کا جواب اس کے علاوہ کچھ نہ تھا کہ آل ِلوط کو اپنے شہر سے نکال کر شہربدر کردو یہ تو بڑے پاک باز بن رہے ہیں۔لہٰذ ا ہم نے اسے اور اس کے اہل وعیال کو سوائے اس کی بیوی کے سب کو بچالیا ،اس کااندازہ تو باقی رہ جانے والوں میں ہم لگاہی چکے تھےاور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کی بارش برسادی بس ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر بہت بری بارش برسادی۔( الانبیاء 74 )۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے بھی تم قوم لُوط والا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو یہ عمل کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا جائے اسے قتل کردو‘‘۔ جب آقا ئےدو جہاں رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان فطرت کی حکم عدولی  کے باب میںاتنا سخت ہے تو اس سے ہونے والے نقصانات کتنے خطرناک ہوں گے، خود ہی اندازہ لگائیں۔اس لئے ہم سبھی کو چاہئے کہ ہم جنس پرستی کی پُرزور مخالفت کریں اور جان لیں کہ یہ کسی ایک مذہب یا دھرم کا مسٔلہ نہیں بلکہ پورے سماج کا مشترکہ مسئلہ ہے ۔ اس بدترین وبا کو روکنے کی ذمہ داری ہر دین د ھرم اور لا مذہبوں کی ہے ۔ یہ بھی جان لیں کہ اس سے قبل لواطت کے بُرے عمل کو ہری جھنڈی دکھا نے سے خدانخواستہ ہمارا یہ پیارا پیاراملک قوم لوط کے انجامِ بد سے دوچارہوگا ،  فوراً جاگ جایئے، کہیں دیر نہ ہو ۔ 