تازہ ترین

کشمیر کی موجودہ سیاسی صورت حال

متوازی لکیروں کی منحنی داستان

15 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر جاوید اقبال
کشمیر   میں ماضی قریب کی تاریخ کو پرکھا جائے تو پچھلی سات دَہائیوں سے جو بات مطالعے میں عیاں ہوتی ہے وہ جہاں ایک طرف  کشمیری مزاحمت کی طویل داستاں ہے تو دوسری طرف مرکز کا رد عمل ہے۔کشمیری مقاومت اور دہلی کا رد عمل ندی کے دو کنارے گئے ہیں جو متوازی لکیروں کی مانندساتھ ساتھ چلتے تو ہیں لیکن مل نہیں پاتے ۔ کشمیری مزاحمت مسلٔہ کشمیر کے حتّمی حل کی متمنی ہے، جب کہ دہلی کیلئے اول تو یہ اس مسئلے کی کوئی حقیقت ہی نہیں اور اگر ہے بھی وہ یہ کہ الحاق کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستانی زیرانتظام کشمیر کو دہلی کی تحویل میں دینے تک محدود ہے۔انتظامی ضمن میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دو حصے ہیں ایک تو وہ حصہ جسے عرف عام میں ’’آزاد کشمیر‘‘ کہا جاتا ہے او رثانیاََ گلگت بلتستان جس کی انتظامی نوعیت مختلف ہے۔چین سے جو شاہراہ قراقرم کی بلندیوں سے گذرتے ہوئے بلوچستان میںسمندر کنارے ایک پھیلتی ہوئی آبادی والے علاقے گوادر میں پہنچتی ہے وہ دہلی کے لئے ایک سوالیہ بنی ہوئی ہے چونکہ یہ شاہراہ ایک نئی عالمی تجارتی حقیقت کو منظر عام پہ لا رہی ہے ۔بھارت کا ماننا ہے کہ یہ شاہراہ اُس کی سا  لمیت کیلئے ایک چلینج ہے، چونکہ یہ گلگت بلتستان سے گذرتی ہے جن پر دہلی کا دعویٰ بدستورقائم ہے۔ 
’’آزاد کشمیر ‘‘اور گلگت بلتستان پر بھارت کا دعویٰ بھارتی کشمیر میں شدید مزاحمت کے سبب کھو کھلا لگتا ہے۔کشمیری مزاحمت بھارتی دعوے کیلئے ایک چلینج ہے۔ چونکہ بھارت کیلئے اُس حصے پہ قابو پانا دشوار ہوتا جا رہا ہے جو اُس کے زیر نگین ہے چہ جائیکہ ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ جو اُس کی دسترس اور پہنچ سے باہر ہے۔کشمیری مزاحمت جہاں بھارت کیلئے ایک سیاسی و سفارتی چلینج ہے وہی ایک اخلاقی چلینج بھی ہے۔ دہلی سرکار کشمیری مزاحمت کو ایک سیاسی مسلٔہ سمجھنے کے بجائے اسے نقص امن کا مسلٔہ سمجھتی ہے او ر اسے ’’کراس بارڈر ٹرریزم‘‘ کا عنوان دیا جاتا ہے۔ دہلی سرکار کی کوشش یہی ہے کہ بے روک ٹوک طاقت کا استعمال کر کے مزاحمت کو سختی سے دبایا جائے۔ بھارتی قیادت اگر زور و زبردستی سے حالات پہ قابو پانے کے قابل ہو بھی جائے پھر بھی دیر یا سویر مزاحمت میں شدت کسی نہ کسی پیرائے سے ہوتی رہی گی جس کی بنیادی وجہ دائمی ومنصفانہ کشمیر حل کی وہ آرزو ہے جو موجودہ سیاسی جدوجہد کا محرک بنی ہوئی ہے ۔بھارت کی سیاسی قیادت اور نوکر شاہی البتہ ابھی تک اِس سیاسی روش کو اپنائے ہوئی ہے کہ کشمیر کو ہر قیمت پہ اپنے ساتھ رکھنے میں ہی بھارت کے بقا ء کا ارازمضمر ہے۔دہلی سرکار کی آج تک یہی کوشش رہی ہے کہ مسلٔہ کشمیر کے بنیادی پہلوؤوں سے انکار پہ قائم رہتے ہوئے مسلئے کا حل کھٹائی میں ڈالا جائے۔ اس روش کار سے دہلی کے تئیں ریاست جموں و کشمیر کے عوام الناس کی اکثریت میں ایک جذباتی دوری یا احساس بیگانگی اس حد تک عیاں ہے کہ اسے بیان کی ضرورت ہی نہیں ۔ بھارت کے کئی نامور دانشوروں نے جن میں اوروں کے علاوہ ارون دھتی رائے،شوبھا دے،مردو رائے شامل ہیں، اس حقیقت کا برملا اظہار بار بار کر چکے ہیں۔
مسلٔہ کشمیر کے حل کی جانب قدم بڑھانے کے بجائے ریاست جموں و کشمیر میں دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاونی قائم کی گئی ہے جہاں کم و بیش ہر دس افراد کے لئے ہتھیاروں سے لیس ایک فوجی اہل کار موجود ہے، جو آبادی کے تناسب سے گھنی فوجی نظارت ہے۔اس کے باوجود وقفے وقفے سے وادی کشمیر میں احتجاج کی لہریں فضا میں تناؤ کی کفیت طاری کردیتی ہیں اور کبھی کبھی احتجاج ایک مسلسل کیفیت لئے عیاں ہوتا ہے، جیسا کہ پچھلے کئی سالوں سے مسلسل ہوتا آ رہا ہے۔ اس ناگفتہ بہ صورت حال نے زندگی کی نارملسی کو اس حد تک متاثر کیا ہوا ہے کہ عملاً گزشتہ کئی سال سے کاروبارِ زندگی معطل پڑا ہوا نظر آ رہا ہے۔ لوگ ایجنسیوں کے بنے ہوئے انتخابی جال میں پھنس بھی جاتے ہیں ۔ لوگوں کی شراکت خالص ایک انتظامیہ کی تشکیل کیلئے ہوتی ہے جوروز مرہ امور پہ نظر رکھ سکے البتہ اِسے اُس سیاسی ڈھانچے کی تائید کے طور پہ عالمی بازار میں بیچا جاتا ہے جو دہلی سے سرینگر تک پھیلا ہوا ہے۔ محلی انتظامیہ ایک محدود دائرے میں کام کرتی رہتی ہے جو کہ ایک مکمل جمہوری نظام میں ایک میونسپل انتظامیہ کے اختیاری دائرے سے بیش تر نہیں ،جب کہ حقیقی طاقت کی حامل دہلی سرکار ہے جو اپنے گماشتوں پر اپنی دیکھ ریکھ بنائے رکھتی ہے۔
 جموں و کشمیر کی ریاستی سرکار اپنی ساکھ بنائے رکھنے کیلئے کبھی کبھی نرم رو ی کا روپ دھارتے ہوئے کشمیر حل کی بات بھی چھیڑتی ہے، مگر اس پیش کش کی تان بھارتی قانون اساسی کے دائرے پر ہی ہمیشہ ٹوٹتی رہتی ہے ، نتیجہ یہ کہ کشمیری قائدین اور دلی کے درمیان مکالمہ آرائی کی نوبت ہی نہیں آتی۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پاکستان سے کشمیر مدعے پر بات چیت کرنے کی یقین دہانیوں کے بیانات منظر عام پر آ جاتے ہیں لیکن یہاں بھی بات چیت زیادہ تر بھارت کا اپنا پسندیدہ حل اسلام آباد سے منوانے تک محدود ہوتی ہے۔ عملی طور یہ زمینی حالات کو جوں کا توں رکھنے کا ایک گیم پلان ہی قرار پاسکتا ہے اور دوسرے لفظوں میں پیغام یہ ملتا ہے کہ ریاست کا جو حصہ آپ کے زیر انتظام ہے وہ آپ رکھیں اور جو ہمارے یہاں ہے وہ ہم رکھیں گے، بس بحالیٔ اعتماد کے نام پر کشمیر کے آر پار آمد ورفت کی سہولیات رہیں اور محدود تجارت کو فروغ حاصل ہو ۔ آج تک کی تاریخ یہ رہی ہے کہ اس نمائشی حل کے خریدار نہ ہی عرصہ دراز سے کشمیر کی مزاحمتی تحریک بن سکی ہے اور نہ ہی مسئلے کا ایک اور فریق پاکستان اس حل کو تسلیم کر نے پر اراضی ہوا ہے ۔مشرف فارمولہ کی ترتیب کم و بیش انہی خطوط ہوئی تھی ،اس اضافے کے ساتھ کہ آر پار فوجی موجودگی کی سطح کو کم سے کم کیا جائے۔کشمیرکی مقاومتی تحریک کے ایک دھڑے نے اس حل کی مخالفت کی اور پاکستان میں بھی مشرف کے بعد اس حل کو پذیرائی حاصل نہ ہو سکی، گر چہ آج بھی آر پار کے کچھ حلقے اس مجوزہ حل کی تائید وحمایت کرتے نظر آتے ہیں۔دیکھا جائے توآرپار محدودآمد و رفت اور محدود تجارت کے ضمن میں جو بھی اقدامات آج تک کئے گئے ہیں، اُن کی ہیئت اتنی ضعیف ہے کہ زمینی سطح پر کوئی واضح فرق نظر نہیں آیا۔ نیزآر پار آمدورفت میں اتنی مشکلات حائل ہیں کہ بہت کم لوگ اس کے ذریعے مائل بہ سفر ہوتے ہیں جب کہ تجارت میں زرِ مبادلہ کی شرح کیا ہونی چاہیے ،اُس پر آج تک کوئی تصفیہ نہیں ہو سکا۔
ریاستی سرکار کی مجموعی ساخت چونکہ محدود اختیارات سے ماوراء نہیں، اس لئے اُسے کسی بھی سیاسی تجزیہ کاری سے خارج ہی رکھنا چاہیے۔اس انتظامیہ میں اتنا دم خم نہیں کہ یہ مرکز سے اپنی بات منوا سکے۔کہا جا سکتا ہے کہ دہلی کو ریاستی سرکار کی کوئی بات سننے کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ جموں و کشمیر کی مین اسٹریم احزاب میں جو علاقائی پارٹیاں ہیں، اُن کو سانس لینے تک کے لئے دہلی سے آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو ایک دوسرے سے خدا واسطے کا بیر ہے ،لہٰذا حکومت سازی کیلئے اُنہیں یا تو کانگریس کی ضرورت پڑتی ہے یا بھاجپا کی اور یہ دونوں پارٹیاں دہلی کی زباں بولتی ہیں۔ ویسے بھی جب علاقائی سیاسی دائرے میںپی ڈی پی کے جنم سے پہلے صرف نیشنل کانفرنس کا وجود قائم تھا ،تب بھی غیبی ہاتھوں نے عبداللہ پریوار کے اند ر دراڑ ڈ ال کے غلام محمد شاہ کو فاروق عبداللہ کے مد مقابل کھڑا کیا اور یہ باور کرایا کہ یہاں کے مین اسٹریم میں وہی ہو گا جو دہلی چاہے گی1953ء میں شیخ عبداللہ کو وزارت عظمٰی سے بے د خلی و قیدوبندکے بعد بھارت سرکار نے یہاں کے مین اسٹریم میں کسی ایسی آواز کو اُبھرنے کا موقعہ نہیں دیا، جو یہاں کے لوگوں کے سیاسی جذبات کی ترجمانی کر سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مزاحتی جذبات اُبھرنے لگے جن کا ترجمان خود 22؍سال تک شیخ عبداللہ بنے رہے،ا گر چہ بعد میں اسے سیاسی آوارہ گردی سے تعبیر کیا گیا۔ 
ریاست کے اختیارات میں امن عامہ اور داخلی امور بھی شامل ہوتے ہیں لیکن داخلی امور پر ریاستی سرکار کی کس حد تک دسترس ہے، وہ افسپا جیسے کالے قانون کو لاگو رکھنے پر سیکورٹی اداروں کے اصرار سے عیاں ہوتا ہے۔ عمر عبداللہ سے لے کے مفتی سعید تک نے افسپا کو کچھ ضلعوں سے آزمائشی طور کالعدم قرار دلوانے کے وعدے اور دعوے کئے تھے اور عمر عبداللہ کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیرداخلہ پی چدمبرم نے بھی مرکزی کابینہ میں یہ بات چھیڑی تھی اور پارلیمنٹ میں بھی اس موضوع پر تقریر کی تھی۔ آج سے کئی سال پہلے انہوں نے معروف ٹی وی اینکر کرن تھاپر کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میںاِس بات کا اعتراف کیا تھا کہ فوج کی مخالفت کے وجہ سے افسپا کے بارے میںبات آگے نہیں بڑھی، جس سے بھارت میںسیکورٹی اداروں کے بڑھتے اثر و رسوخ کی وسعت ظاہر ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت ا ور بھارتی تجزیہ نگار پاکستان پہ یہ الزام لگاتے آئے ہیں کہ وہاں نام کی جمہوری حکومت ہے جب کہ سکہ فوج کا چلتا ہے اور فوج کی رضاوخوشی کے بغیر حکومت کوئی بھی کام اپنے دم پر کرنے سے قاصر ہوتی ہے ۔اگر یہ بات پاکستان کے بارے میں سچ ہے تو اسے مرکز کے بارے میں بھی اس حد تک سچ ماننا ہو گا کہ یہاں ایک منتخب شدہ جمہوری حکومت فوج کی مرضی کے بغیر اپنے طورافسپا کو کالعدم قرار دینے سے قاصر ہے۔ بہرحال امن عامہ اور ریاست کے داخلی امور پہ آزادانہ دسترس نہ ہونے کے سبب جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت کاوجود تعلیم و صحت جیسے متعلقہ امور تک محدود ہے جو کہ سوشل سیکٹریعنی سماجی امور کے محکمہ جات ہوتے ہیں۔
ریاستی سرکار کی خستہ حالی کبھی بھی اس حد تک عیاں نہیں تھی جتنی کہ 2014ء سے یہاں عیاں رہی ،جب پی ڈی پی نے بھاجپا کو کولیشن سرکار بنانے کیلئے گلے لگایا۔کولیشن کی خانہ پُری کیلئے ایک لمبا چوڑا ایجنڈا آف الائنس بھی منظر عام پہ لایا گیا لیکن اس حکومتی گٹھ بندھن کا نام جتنا نام لمبا رہا، اتنا ہی ا س کاکام چھوٹا نکلا ۔ایجنڈا آف الائنس میں ریاست کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی بات کی گئی تھی جس میں مزاحمتی تحریک کے علاوہ پاکستان سے مذاکراتی عمل شروع کرنے کا نقطہ بھی شامل تھا۔ریاست کے پاور پروجکٹس کی واپسی کی بات بھی کی  گئی تھی لیکن یہ وعدے وعید جو ایجنڈا آف الائنس کے خوشنما دستاویز میں شامل تھے، محض خانہ پُری تک ہی محدود رہے۔ بیچ بیچ میں بھاجپا کے ریاستی امور پہ ناظر رام مادھو جی بھی یہاں آتے رہے تاکہ ریاستی امور پر دہلی کی نظارت کی روایات کو فروغ دے سکیں ۔انجام کار دو ماہ پہلے مرکزی سرکار نے یہی فیصلہ کیا کی پی ڈی پی کا پتہ بیچ میں سے صاف کرتے ہوئے تمام امور کی مجموعی ذمہ واری دہلی سرکار کے مقررکردہ گورنر کے وسیلے سے نمٹا دئے جائیں ۔پس نہ بھانس رہی نہ بھانسری بجی اور اب نت نئے راگ الاپنے کا کام دہلی سرکار خود ہی کر رہی ہے۔نئی راگنی میں ریاست کی مجموعی سیاسی صورت حال کو نظر انداز کر تے ہوئے میونسپل اور پنچایتی الیکشن کے دیرینہ ساز کو پھر سے چھیڑا جا رہا ہے ۔ 2014ء کی اسمبلی کو چند سانسیں اور لینے کیلئے بحال رکھتے ہوئے بلدیاتی اور پنچایتی الیکشن عمل کو منظر عام پہ لایا جا رہا ہے لیکن سیاسی صورت حال کی بے یقینی نے دہلی کے گماشتوں کو اس حد تک ذہناًماؤف کیا ہوا ہے کہ وہ الیکشن عمل سے ہی دور بھاگ رہے ہیں۔اپنی بے بسی اور بے حالی پہ پردہ ڈالنے کیلئے اب دفعہ35-Aکو ڈھال بناتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ الیکشن عمل کو تب تک موخر رکھا جائے جب تک کہ دہلی سرکار اس دفعہ کے بارے میں اپنا موقف عیاں نہیں کرتی ۔پوچھا جا سکتا ہے کہ جہاں مین اسٹریم جماعتوں نے ازخود بھارتی آئین  مین درج ریاست سے متعلق کی گوناگوں دفعات اور شقوں کو آئینی ترمیمات کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر پہ لاگو کروانے میںہمیشہ دہلی کا ساتھ دیا ، یہاں تک کہ ریاست کے علحیدہ قانون اساسی کو جان کنی کی حالت تک پہنچایا گیا،وہیں لوگ آج دفعہ35-Aکی اتنی فکر کیوں  کر نے لگے ہیں؟ در اصل ریاستی عوام کی سیاسی بیداری سے مین اسٹریم اِس حد تک بد حواس ہیں کہ اُن کے کیفیت بقول شخصے نہ جائے رفتن است نہ ماندن ہوچکی ہے ، یعنی نہ ہی اُنہیں چلنے کی جگہ میسر رہی ہے نہ رکنے کی ۔ یہ جماعتیں مخمصے کی حالت میں ہیں۔الیکشن عمل کی نفی کے بعد ریاست میں جمہوریت کے تمام نقلی نقاب کھسکنے کا احتمال ہے اور ایسے میں گورننس یعنی ریاستی امور کو چلانے میں دہلی کااگلا اقدام کیا ہوگا یہ جانناایک اہم سوال کی صورت میں اُبھر رہا ہے۔
 Feedback on: iqbal.javid46@gmail.com