تازہ ترین

۔35اے اور مجوزہ انتخابات پرکل جماعتی اجلاس

تشار مہتا کو فوری طور کیس سے الگ کیا جائے ،نئی حکومت کے قیام تک سماعت بند کرنے کی درخواست کی جائیگی

14 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید

 ’’ ریاستی سرکارپنچایتی اور بلدیاتی چنائو کرانا چاہتی ہے تو شوق سے کرائے‘‘

 
سرینگر //سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے آرٹیکل 35Aکی سپریم کورٹ میں پیروی کرنے والے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل تشار مہتا کو فوری طور تبدیل کرنے اور نئے انتخابات تک کیس کی سماعت  بند کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔جمعرات کو نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر سیاسی لیڈران کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں 35Aکے دفاع کے علاوہ سیاسی اور سیکورٹی صورتحال بھی بات چیت کی گئی ۔میٹنگ کے فوراً بعدعمر عبداللہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سپریم کورٹ میں ریاستی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے وکیل تشار مہتا نے حکومت کے مؤقف سے ہٹ کر بات کی ، جس کا اعتراف حکومت نے بھی کیا ہے جو سراسر غلط ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں اپنی بات کرنے کیلئے وہاں نہیں بھیجا گیا تھا ،نہ وہ کسی سیاسی تنظیم کی بات کرنے کیلئے وہاں گئے تھے اور نہ وہ مرکز کے نمائندے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کو ریاست کی نمائندگی کرنی چاہئے تھی ،وہاں پر انہیں ریاست کے موقف کے تحت وضاحت کرنی تھی لیکن انہوں نے ریاست کے موقف سے ہٹ کربات کی، اس وجہ سے اُن پر بھروسہ نہیں رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں تمام لیڈران نے فیصلہ لیا اور اس پر اتفاق پایا گیا کہ مہتا کو اس کیس سے ہٹا کر اس کی جگہ اس سے قبل کے وکیل جو اس کیس کی پیروی سپریم کورٹ میں کر رہے تھے، انہیں مقرر کیا جائے تاکہ آنے والے جنوری کے مہینے میں شنوائی کے دوران وہ اس کیس کی صحیح طریقے سے پیروی کر سکیں ۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ریاست کی سبھی سیاسی پارٹیوں نے مرکزی سرکار سے کہا ہے کہ وہ آرٹیکل 35Aکے متعلق اپنا موقف واضح کریں، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ابھی تک مرکز نے اس دفعہ کو لیکر اپنی پوزیشن واضح نہیں کی اور نہ ہم یہ جانتے ہیں کہ جب جنوری میں اس پر دوبارہ سپریم کورٹ میں شنوائی ہو گی تو اس کے دفاع کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں موجود تمام لیڈران نے فیصلہ لیا ہے کہ وہ مرکزی سرکار اور سپریم کورٹ سے کہیں گے کہ فی الحال آرٹیکل 35Aکے کیس کو اُس وقت تک ٹال دیا جائے جب تک ریاست میں انتخابات نہیں ہوتے ۔انہوں نے کہا کہ  ہم نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ 9جنوری کو سپریم کورٹ سے اس بات کی درخواست کی جائے گی کہ ریاست میں نئی عوامی حکومت کے قیام تک سماعت بند کی جائے۔ ریاست میں الیکشن ہونگے، نئی حکومت بنے گی اور وہ صحیح طریقے سے کیس کا دفاع کریگی اور اس کا دفاع نئی حکوومت کی ہی ذمہ داری ہو گی  ۔ انہوں نے مرکزی سرکار پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار نے ابھی تک اس حوالے سے اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے اور مرکز کی طرف سے جو اقدامات ہو رہے ہیں اُس سے ہمارے ذہن میں یہ خدشات تقویت پارہے ہیں کہ مرکز صحیح طریقے سے اس کیس کا دفاع نہیں کر رہی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے دفعہ35اے کو پنچایتی انتخابات سے نہیں جوڑا بلکہ مرکز نے ہی سپریم کورٹ میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کی بنیاد پر سماعت ملتوی کروائی۔’’ مرکزی سرکار نے ہی دفعہ35اے کو الیکشن کیساتھ جوڑا۔ ہم سے بار بار پوچھا جارہاہے کہ آپ نے کرگل الیکشن میں حصہ لیا تو پنچایتی و بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا جارہا ہے‘‘؟ اگر مرکز نے کرگل الیکشن کو بھی دفعہ35اے کیساتھ جوڑا ہوتا تو ہم اُس میں بھی حصہ نہیں لیتے۔ مرکز نے ہی ان انتخابات کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی کروائی ، اس کے بعد ہمیں فیصلہ لینا پڑا۔ ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست کی سب سے بڑی 2سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی ہیں ، اگر اس کے باوجود بھی حکومت کو لگتا ہے کہ انتخابات کا انعقاد کرانا صحیح ہے تو بے شک وہ الیکشن کرائیں۔نیشنل کانفرنس کی موجودگی ریاست کے تینوں خطوں میں ہے اور پی ڈی پی کی بھی اپنی اہمیت ہے ۔ ریاست کے سابق 3وزرائے اعلیٰ ان ہی دو جماعتوں سے رہے ہیں۔ اگر ان دو جماعتوں کے بنا الیکشن واقعی کوئی معنی رکھتے ہیں تو ریاستی حکومت شوق سے الیکشن کروائیں، ہم نے کسی کو ووٹ ڈالنے کیلئے نہیں روکا ہے۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ دفعہ35اے سے متعلق صرف علیحدگی پسند اور مین سٹریم کا ہی ایک موقف نہیں بلکہ اس دفعہ کو بچانے کیلئے ریاست کا ہر ایک باشندہ کوئی بھی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔اجلاس میں نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ، جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، تاج محی الدین، محمد یوسف تاریگامی، غلام حسن میر اور دیگر لیڈران بھی موجو دتھے۔
 

عمر عبداللہ گورنر سے ملاقی

نیوز ڈیسک
 
سر ینگر// سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقات کی۔عمر عبداللہ نے گورنر کو ریاست میں امن و قانون ، تعلیم اور ترقیاتی منظر نامے کے موجودہ صورتحال کے بارے میں اپنے نکتہ نگاہ سے آگاہ کیا ۔اُنہوں نے آنے والے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے بارے میں گورنر کو اپنی جماعت کے بارے میں بھی جانکار ی دی۔گورنر نے بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے ذریعے لوگوں کو بااختیار بنانے کی اہمیت ، امن کی بحالی اور نوجوانوں کی جامع ترقی کے لئے کئے جارہے اقدامات پر عمر عبداللہ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔
 
 

پی ڈی کی عدم شرکت ایجنڈا نہیں بتایا گیا: ترجمان

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//نیشنل کانفرنس کی جانب سے بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ میں پی ڈی پی نے شرکت نہیں کی ۔پی ڈی پی نے کہا ہے کہ  انہیں میٹنگ کے ایجنڈا کے بارے میں نہیں بتایا گیاتھا۔ میٹنگ میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے پی ڈی پی ترجمان اعلیٰ رفیع احمد میر نے کہا ہے ’’ ہمیں میٹنگ کے ایجنڈا کے بارے میں کوئی علمیت نہیں تھی جس کی وجہ سے ہم نے میٹنگ میں شرکت نہیں کی‘‘۔ انہوں نے کہا ’’نیشنل کانفرنس نے نہیں بتایا کہ میٹنگ دفعہ 35Aکے بارے میں ہے یا پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات پر،جو انہیں بتانا چاہیے تھا‘‘ ۔میر نے مزید کہا ’’جب ہم سرکار میںتھے ،تب بھی دفعہ35Aکے متعلق ہمار موقف مضبوط اور صاف تھا اور آج بھی پی ڈی پی اس موقف پر کھڑی ہے ‘‘۔ رفیع میر نے بتایا گونر ریاست میں بڑی علاقائی سیاسی پارٹیوں کے انتخابات میں بائیکاٹ کے باوجودانتخابات منعقد کرنے جا رہے  ہیںجس سے عوامی سرکار اور گورنر راج میں فرق محسوس ہوتی ہے ۔