تازہ ترین

دونوں گردے خراب ہوئے مگر سرکار پر کوئی اثر نہیں

حراستی تشدد کے شکارشہری کو صرف 20ہزار روپے سرکاری اعانت ملی

13 ستمبر 2018 (19 : 04 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//لولاب میں مبینہ طور دوران حراست تشدد سے اپنی دونوں گردے کھونے والے شہری نصر اللہ خان کو سرکار کی طرف سے20ہزار روپے امداد دئے جانے کا نکشاف ہوا ہے۔کپوارہ کے دیو رلالوب میں گزشتہ برس31اگست کو مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ فوج نے ایک مقامی نوجوان کو دوران حراست لاپتہ کیا ہے،جبکہ ایک اور نوجوان کو اس قدر زد کوب کیا کہ اس کے گردے ہی ناکارہ ہوگئے۔اس سلسلے میں بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں انٹرنیشنل فورم فر جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو نے عرضی دائر کرتے ہوئے مذکورہ نوجوان کو انصاف فرہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے جو رپورٹ پیش کی ہے،اس میں کہا گیا ہے کہ نصر اللہ کو ممکنہ طور پر کیمپ کے اندر لایا گیا اور غلط طریقے سے انہیں زبردست طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا،تاکہ اس کو موت کی نیند سلا دیا جائے۔اس دوران ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ نے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ’’ زخمی ہوئے شہری نصر اللہ خان ولد شریف الدین خان ساکن دیور لولاب کو ضلع ریڈ کراس فنڈ میں سے20ہزار روپے کی رقم فراہم کی گئی۔اس سے قبل پولیس نے کمیشن میںرپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو31اگست کوشام کے10بجکر45منٹ پر یہ خبر ملی کہ ایک شہری نصر اللہ خان ولد شریف خان ساکن دیور لولاب کو ترمکھ بہک سے سے مقامی لوگوں نے تشویشناک حالات میں سب ڈسڑک اسپتال سوگام لایا۔رپورٹ کے مطابق خبر ملتے ہی پولیس کو وہاں روانہ کیا گیا ،جبکہ ابتدائی تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ نصر اللہ ترمکھ ٹاپ پر بہک میں گیا تھا،اور حسب معمول فوجی کیمپ میں اپنا نام درج کرنے کیلئے،تاہم انہیں زبردستی کیمپ میں پہنچایا گیا،اور وہاں پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق بعد میں لوگوں کی طرف سے اس سلسلے میں زبردست شور مچانے کے بعد انہیں کیمپ کے عقب سے زخمی حالت میں باہر پھینک دیا گیا،جبکہ پولیس نے اس سلسلے میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر62/2017درج کیا،جبکہ مذکورہ شہری کو بعد میں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ منتقل کیا گیا۔پولیس کی طرف سے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں پیش کئے گے رپورٹ میں کہا گیا،اس سلسلے میں ایڈیشنل سپر انٹنڈنٹ آف پولیس کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی ٹیم دی گئی،جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا،اور گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کئے۔ ڈائریکٹر صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ نے بھی بشری حقوق کے ریاستی کمیشن کے سامنے رپورٹ پیش کی،جس میں کہا گیا کہ نصر اللہ اسپتال میں تشویشناک حالات میں زیر علاج تھا،اور27دنوں کے اندر مریض کی حالت بہتر ہوئے او ر گردوں کی ناکامی شدت کے ساتھ تھی۔تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شہری کے گردے اب ٹھیک سے کام کر رہے ہیں۔عرضی گزار محمد احسن اونتو نے ضلع انتظامیہ کے جواب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نصر اللہ کے دو گردوں کی قیمت20ہزار روپے لگائی گئی،جو کہ انکے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ نصرا للہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا،اور وہ معجزاتی طور پر بچ نکلا۔