تازہ ترین

انتخابات ’انتظامی شگوفہ‘: حالات ساز گار نہیں،فیصلہ ہائی کمان کریگا:کانگریس

13 ستمبر 2018 (56 : 03 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// ریاستی کانگریس نے پنچایتی و بلدیاتی انتخابات کو’’انتظامی شگوفہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چنائو میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ مرکزی ہائی کمان کریگا۔تاہم ساتھ ہی کہا کہ ہر کوئی یہ بات محسوس کرسکتا ہے کہ ریاست خاص کر وادی کے حالات اس طرح کے کسی بھی جمہوری عمل کیلئے قطعی طور پر ساز گار نہیں ہیں۔سرینگر میں پارٹی ہیڈ کوارٹر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کہا’’عنقریب ہی ایک ٹیم کو نئی دہلی روانہ کیا جائے گا،جو پارٹی ہائی کمان کو ریاست کی زمینی صورتحال اور پارٹی لیڈروں کی آراسے آگاہ کرے گی‘‘۔ میر نے کہا کہ پنچایتی و بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر گورنر انتظامیہ کی نیت بھی واضح نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’میں بلدیاتی انتخابات کے اعلان کو صرف ایک شگوفہ سمجھتا ہوں،کیونکہ ایسا نظر آرہا ہے کہ زمینی صورتحال کی جانچ کیلئے صرف انتخابی عمل کا شگوفہ چھوڑا جا رہا ہے‘‘۔میر نے کہا کہ ابھی ان انتخابات کیلئے مقامی الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی بھی واضح موقف اختیار نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ زمینی صورتحال اور دیگر معاملات کو لیکر انہوں نے گزشتہ10دنوں میں3بار گورنر کے ساتھ ملاقات کی،اور اپنے خدشات سے انہیں کرایا،تاہم ابھی تک اٹھائے گئے ایک سوال کا جواب بھی نہیں دیا گیا۔ میر کا کہنا تھا’’ گورنر انتظامیہ پنچایتی و بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کنفیوژن اور غیر یقینی کاماحول پیدا ہوا ہے‘‘۔غلام احمد میر نے کہا کہ گزشتہ روز رام مادھو کی گورنر سے ملاقات کے بعد ہی صورتحال میں مزید تبدیلی پیدا ہوئی،اور حالات بدلے بدلے سے نظر آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ2017میں بھی زمینی سطح کی صورتحال کا احاطہ کئے بغیر ہی پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات منعقد کرائے گئے جس کا نتیجہ خون خرابہ اور سب سے کم ووٹنگ شرح نکلا،اور دوسری نشست پر انتخابات کو موخر کرایا گیا،اور آج تک وہ انتخابات ہی نہیں کرائے گئے۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے آئین ہند کی شق35اے کو تحفظ فراہم کرنے سے انتخابات کو مشروط کردیا ہے تو انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ کرنے والوں میں سے ایک جماعت وہ  ہے ،جس  کے دور حکومت میں یہ معاملہ سامنے آیا۔میر نے کہا’’اگر محبوبہ مفتی نے سرکار میں ہوتے ہوئے اس کا فیصلہ لیاہوتا تو ،اس فیصلے میںوزن ہوتا اورمیں ان کو سلام کرتا،تاہم وہ اس وقت ان عناصر کے ساتھ مل کر اقتدار میں تھی،جن عناصر کی70برس بعد حوصلہ افزائی کی گئی،جبکہ اسی دور میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل35اے سے متعلق عرضی  دائرکی گئی‘‘۔انہوں نے کہا ’’ بند کمروں میں کاغذی بیان داغنے سے حالات ٹھیک نہیں ہونگے‘‘۔