تازہ ترین

۔2010کی ایجی ٹیشن میں جاں بحق عمر قیوم کے والد کی جد و جہد رنگ لائی

۔8سال بعد ایف آئی آر درج،سر نو جانچ کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

12 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// سال2010کی ایجی ٹیشن کے دوران مبینہ طور پولیس تشدد سے جان بحق طالب علم عمر قیوم کے والد کو8برس تک اپنے لخت جگر کیلئے انصاف کی تلاش میں اس وقت منزل ایک پہلا پڑائو مل گیاجب عدالتی احکامات کے تحت 8 برس بعد پولیس نے اس واقعے سے کیس درج کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جانچ کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو تشکیل دیا گیا ہے تاہم سرکار کی شکایتی(گریوینس ) سیل کا کہنا ہے کہ کیس  پہلے ہی بند کیا گیا ہے۔ عمر قیوم کو مبینہ طور پر سال2010کی ایجی ٹیشن کے دوران پولیس کی جانب سے تشدد کیا گیا تھااور تھانے سے رہائی کے صرف5 روز بعد صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں عمر قیوم نے آخری ہچکی لی۔ عمر قیوم کے والد عبدالقیوم بٹ کا کہنا ہے کہ8برس تک انصاف کے متلاشی رہا اور  اپنے بیٹے کی ہلاکت سے متعلق کیس درج کرنے کیلئے سرکاری دفاتروں، کمیشنوں اور پولیس تھانوں کا طواف کرتا رہا۔انہوں نے کہا کہ آخر کار چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر اعجاز احمد خان نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ کیس سے متعلق ایف آئی آر درج کرے اور سر نوجانچ کیلئے خصوصی ٹیم کو تشکیل دیں۔انہوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ پورے کنبے کو اس وقت اصل اور حقیقی انصاف ملے گا،جب انکے بیٹے کے قتل میں ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے سزا دی جائے گی‘‘۔ ایف آئی آر کاپی کو دکھاتے ہوئے انہوں نے جذباتی اندازمیں کہا  کہ انکے بیٹے کو20اگست2010کو سنگبازی کے الزام میں حراست میں لیا گیااور’’حتیٰ کہ میری پولیس افسر کے ساتھ،عمر کو تشدد کا نشانہ بنانے پر تلخ کلامی بھی ہوئی۔انہوں نے کہا’’پولیس کے تشدد کا یہ اثر تھا کہ میرے بیٹے کے گردے اور پھیپھڑے ناکاررہ ہوگئے تھے،اور اس کے منہ سے خون  بہہ رہا تھا‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ عمر کو 4 روز تک صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیااور25اگست کو اسکی موت واقع ہوئی،انہوں نے کہا’’ مجھے کیس واپس لینے کیلئے5لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم میں نے اس پیشکش کو ٹھکرادیا اور انصاف کیلئے جدوجہد کرتا رہا‘‘۔سٹی پولیس چیف امتیاز اسماعیل کا کہنا ہے ’’ ہاں ہم نے ایف آئی آر درج کیااور سر نو جانچ کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم  بھی تشکیل دی۔اس دوران عمر قیوم کے اہل خانہ کو سرکار کی شکایتی سیل نے کچھ حد تک مایوس کیا ہے۔شکایتی سیل کا کہنا ہے کیس کو بند کیا گیا ہے۔ شکایتی (گریوینس) سیل کے جواب میں کہا گیا ہے’’ضلع مجسٹریٹ سرینگر نے عمر کی موت ست متعلق جانچ کی ہدایت دی اور تحصیلدار شمال کو تحقیقاتی افسر نامزد کیا گیاجبکہ تحقیقاتی افسر کی حتمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معقول ثبوتوں اور گواہوں کے علاوہ والدین کی طرف سے پوسٹ مارٹم سے انکار کی بنیاد پر،عمر کی پراسرار موت ثابت نہیں ہو رہی ہے،اور کیس کو بند کیا گیا۔عمر قیوم کے والدین کا تاہم کہنا ہے کہ یہ جواب سچائی پر پردہ پوشی کرنے کیلئے دیا گیا ہے۔