تازہ ترین

پولیس چیف کی عارضی تقرری

سپریم کورٹ کا مداخلت سے انکار ،مرکز سے جواب طلب

12 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
نئی دہلی//سپریم کورٹ نے منگل کو ریاست جموں وکشمیر میں پولیس سربراہ کی تعیناتی کے عمل میں مداخلت کرنے سے انکار کیا ،تاہم معاملے کی نسبت مرکزی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کی گئی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا  ،جسٹس اے ایم خان ولکاراور جسٹس ڈی وائی چندر چونڈ پر مشتمل بنچ نے جموں وکشمیر میں ریاستی پولیس کے سربراہ کی تعیناتی کے حوالے سے مرکز سے جواب طلب کیا اور معاملے کی نسبت نوٹس جاری کی ۔واضح رہے کہ حکومت نے6 ستمبر کوآئی پی ایس آفیسر دلباغ سنگھ کو عارضی بنیادوں پر ریاستی پولیس کے سربراہ کے بطور ایس پی وید کی جگہ تعینات کیا ،جنہیں ٹرانسپورٹ کمشنر تعینات کیا گیاتاہم اس دوران گنجلک سیکورٹی خدشات کی وجہ سے وضع کردہ طریقہ کار کی اتباع نہیں کی گئی۔7ستمبر کو ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کا رخ کیا اور سابقہ احکامات میں ترمیم کا مطالبہ کیا جس کی رو سے کسی ریاست کے ڈی جی پی کی تعیناتی سے قبل تین سینئر افسران کے نام مرکزی پبلک سروس کمیشن کو بھیجاجانا لازمی ہے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال جو سپریم کورٹ میں مرکزکی جانب سے پیش ہوئے نے عدالت کو بتایا کہ ڈی جی پی کی عارضی تعیناتی پر ممانعت کو اس وجہ سے نافذ کیا گیا تھا کہ ڈی جی پی کی دو سالہ مدت کار کا غلط استعمال نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ متعدد ریاستیں ڈی جی پی کو عارضی بنیادوں پرتعینات کرتے تھے اور انکی سبکدوشی کے وقت انہیں مستقل کیا جاتا تھا ۔سپریم کورٹ نے ایک عرصہ قبل مرکزی حکومت کی جانب سے دائر عرضی پر فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کچھ ریاستیں عارضی بنیادوں پر ڈی جی کو تعینات کرتی ہیں اور انکی سبکدوشی کے کچھ عرصہ قبل انہیں مستقل کیا جاتا ہے تاکہ انہیں دو برسوں کی مراعات سے مستفید کیا جاسکے اور انہیں مزید دو برسوں کا 62برسوں تک کی مدت ملازمت مل سکے ۔ایڈوکیٹ شعیب عالم جموں وکشمیر حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ڈی جی پی کی تقرری کیلئے یونین پبلک کمیشن (یو پی ایس سی) کی کلیئرنس کی شرط میں ترمیم کی جائے ۔انہوں نے جموں وکشمیر کی امن وقانون کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ہم ریاستی پولیس فورس کو بغیر سربراہ نہیں رکھ سکتے ۔اس موقعے پر دونوں طرف کی دلائل سماعت کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے فی الحال ڈی جی پی کی تعیناتی کے حوالے سے مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم مرکزی سرکار کو اس حوالے سے جواب دینے کیلئے کہا۔کیس کی اگلی سماعت اگلے ہفتے مقرر کی گئی ۔