تازہ ترین

سوپور اور پٹن میں گرینیڈ دھماکے، لنگیٹ میں 2جنگجو جاں بحق

نماز جنازہ میں لوگوں کی بھاری شرکت،ہندوارہ میں پر تشدد مظاہرے اور ہڑتال، تعلیمی ادارے اور انٹر نیٹ سروس بند

12 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشرف چراغ
 کپوارہ//شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کے گلورہ لنگیٹ میں فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان تصادم آرائی کے دوران 2مقامی جنگجو جا ں بحق ہوگئے ۔ لنگیٹ اور کرالہ گنڈ قصبوں میں ہڑتال کے دوران گا ڑیو ں کی آمد و رفت معطل رہی جبکہ انتظامیہ نے سکول اور کالج بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔اس دوران قصبے میں پر تشدد مظاہرے بھی ہوئے جبکہ انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی۔

تصادم کیسے شروع ہوا؟

پولیس کے مطابق 30راشٹریہ رائفلز، 92سی آر پی ایف اور سپیشل آپریشن گروپ ہندوارہ نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر پیر کی رات گلورہ لنگیٹ علاقہ کو محاصرہ میں لیا ۔ فوج نے دوران شب محاصرے میں لیکر جنگجوئو ں کے فرار ہونے والے تمام راستو ں کو بند کیا ۔ منگل کی علی الصبح فجر کے وقت فوج نے علاقہ میں نقل و حمل دیکھی جس کے بعد فوج نے گھیرائو تنگ کیا ۔ جو ں ہی فوج نے جنگجوئو ں کی تلاش کے سلسلہ میں آگے بڑھنے کی کوشش کی تو وہا ں میوہ با غات میں چھپے بیٹھے جنگجوئو ں نے فوجی اہلکارو ں پر فائرنگ کی اور فوج نے بھی جوابی کاروائی کی۔طرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ کافی دیر تک جاری رہا جس کے دوران 2مقامی جنگجو جا ں بحق ہوئے جن کا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا جاتا ہے۔ ان کی شناخت فرقان رشید لون ولد عبد الرشید لون المعروف عادل ساکن شاٹھ پورہ لنگیٹ عمر18سال اور ہرون سوپور کے لیاقت احمد لون ولد مرحوم غلام محی الدین لون کے بطور ہوئی ۔فوج نے لنگیٹ کے مضافاتی علاقوں میں سہ پہر تک تلاشی کارروائی جاری رکھی ۔

جاں بحق جنگجو

فرقان کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ وہ بارہویں جماعت میں زیر تعلیم تھا اور رو اں سال 25مئی کو وہ گھر سے لاپتہ ہوگیا اور کچھ روز بعد ان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس سے پتہ چلا کہ وہ جنگجوئو ں کی صفو ں میں شامل ہو گیا ہے۔وہ قریب3 مہینہ سے زائد عرصے کے بعد جھڑپ کے دوران جا ں بحق ہوگیا ۔ہارون سوپور کیلیاقت احمد لون عرف صاحبہ عرف عمر خالد ولد غلام محی الدین  روان برس برہان وانی کی دوسری برسی کے دن 8جولائی کو گھر سے فرار ہوکر جنگجوئوںکی صف میں شامل ہوا تھا۔معلوم ہوا ہے کہ وہ شادی شدہ تھا اور اسکے تین بچے بھی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ جنگجو اور اسکے ساتھی غنی خواجہ ساکن کرالہ گنڈ اور ماجد میر ساکن نو پور ہ سوپور نے ہی 8ستمبر 2018کے روز حریت (گ) کے کارکن حکیم الرحمن سلطانی ساکن بومئی سوپور کا قتل کیا اور اس سلسلے میں پولیس نے پہلے ہی ایف آئی آر زیر نمبر70/2018زیر دفعات 307 آر پی سی،7/25آرمزایکٹ کے تحت پولیس اسٹیشن بومئی سوپور میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔

سپرد خاک

سہ پہر کو فرقان المعروف عادل کی نعش اس کے آ بائی گائو ں لنگیٹ پہنچائی گئی تو وہا ں ہزارو ں لوگ جمع ہوئے اور لاش مرکزی عید گاہ لنگیٹ پہنچائی گئی جہا ں انکی نمازہ جنازہ پڑھائی گئی۔ بعد میں انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔واضع رہے کہ گزشتہ مہینے عید الالضحیٰ کے روز لنگیٹ سے تعلق رکھنے والا جنگجو مظفر بشیر میر رفیع آ باد میں ایک جھڑپ کے دوران جا ں بحق ہوا تھا ۔مظفر جنگجوئو ں صفو ں میں شامل ہونے کے محض 3روز بعد جا ں بحق ہوگیا تھا۔ ان کی نعش اگرچہ رفیع آباد کے جنگل میں سپرد خاک کی گئی تاہم بعد میں لو احقین کے اسرار پر مظفر کی قبر کشائی کے بعد لواحقین کے حوالہ کر دی گئی ۔ادھر لیاقت احمد لون کی لاش جب ہارون سوپور لائی گئی تو یہاں بھی سینکڑوں لوگ جمع ہوئے اور مظاہرے کئے۔جاں بحق جنگجو کے جلوس جنازہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔بعدازاں انتہائی جذباتی اور رقت آمیز مناظر کے بیچ دونوں لیاقت احمد لون کو بھی سپرد لحد کیا گیا ۔

مظاہرے

 ہندوارہ ،لنگیٹ ،کرالہ اور سوپور میں جاں بحق جنگجوئوں کی ہلاکت پر ہڑتال رہی ۔ہڑتال کے دوران شمالی کشمیر کے ان علاقوں میں دکانات ،کاروباری ادارے اور تجارتی مرکز بند رہے جبکہ انتظامیہ کی ہدایت پر تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل معطل رکھا گیا ۔انتظامیہ نے ہند وارہ ،لنگیٹ ،کرالہ گنڈ اور سوپور میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات بھی معطل رکھیں ۔ جنگجوئوں کی ہلاکت کے بعد ہندوارہ ،کرالہ گنڈ اور سوپور میں بعض علاقوں میں پُرتشدد احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ۔ نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں ،جنہوں نے احتجاجی مظاہروں کے دوران مشتعل ہو کر فورسز اہلکاروں پر خشت باری کی ۔جوابی کارروائی میں فورسزاہلکاروں نے ٹیر گیس شلنگ کی ،جس ساتھ یہاں کئی علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھا ۔مشتعل مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

 گرینیڈ دھماکے

شمالی قصبہ سوپور میں جنگجوئوں نے فورسز کیمپ پر گرینیڈ سے حملہ کیا ۔ منگل کو دوپہر سوپور گورنمنٹ ڈگری کالج کے نزدیک قائم سی آر پی ایف کیمپ کو نشانہ بناکر یو بی جی ایل گرینیڈ داغا۔ گرینیڈ زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ گرینیڈ حملے کے فوراً بعد علاقہ کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن کیا گیا۔ ادھر جنوبی قصبہ ترال کے امیر آباد گائوں کا محاصرہ کرکے تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی ۔تلاشی کارروائی کا یہ عمل کئی گھنٹوں تک جاری رہا ،تاہم اس دوران جنگجوئوں اور فوج وفورسز کے درمیان آمنا سامنا نہیں ہوا۔ادھر پٹن پولیس تھانے پر بھی گرینیڈ سے حملہ کیا گیا۔ شام دیر گئے جنگجوئوں نے پٹن پولیس سٹیشن پر گرینیڈ پھینکا جو نشانہ چوک کر تھانے کے باہر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔