پنچایتی وارڈ بندیوں میں ریزرویشن

سماج کی تقسیم در تقسیم کا خدشہ؟

12 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ریاستی حکومت کی طرف سے پنچایتی و بلدیاتی چنائو کا اعلان کردیاگیاہے اور اب انتخابات کے عمل کو انجام دینے کیلئے ہر سطح پر تیاریاں کی جارہی ہیں ۔تاہم اس حوالے سے مرتب کی گئی نئی وارڈ بندیوں اور فہرستوں میں کہیں کہیں لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے جس پر متعلقہ عوام سراپا احتجاج ہیں ۔ان انتخابات میں درج ذیل طبقوں کیلئے کچھ وارڈوں کو مختص رکھاگیاہے لیکن اس عمل میں ہر جگہ انصاف سے کام نہیں لیاگیا اور کچھ ایسے وارڈ بھی مخصوص زمروںکیلئے مختص کردیئے گئے ہیں جن میں اکثریت دوسرے طبقوںکے لوگوں کی ہے ۔یہ معاملہ خطہ پیر پنچال میں زیادہ پریشانی کا باعث بناہواہے جہاں لوگ غیر منصفانہ طور پر کی گئی وارڈ بندی کے خلاف دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں اور انہی وجوہات کی بناپر اس خطے کا سماج پہلے سے ہی تقسیم درتقسیم ہو چکا ہے ۔ حال ہی میں اس معاملے پر تھنہ منڈی میں احتجاج بھی کیاگیا جہاں دو ایسے وارڈوں کوایک مخصوص زمرے کیلئے مختص کردیاگیاہے جن میں دوسرے طبقہ کے رائے دہندگان کی تعداد بہت زیادہ بتائی جارہی ہے ۔تھنہ منڈی قصبہ کے لوگوں کا الزام ہے کہ ان کے حقوق پر شب خون ماراگیاہے اور وارڈ مختص کرکے ان سے حق رائے دہی ہی چھین لیاگیاہے ۔مقامی لوگ اس اقدام کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور وہ کبھی ایک تو کبھی دوسرے دفتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں ۔اسی طرح سے پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کے مرہوٹ گائوں کے لوگوں نے بھی ایسی ہی شکایات کی ہیں جن کے مطابق دو ایسے وارڈمخصوس طبقہ کیلئے مختص کردیئے گئے لیکن وہاں اس طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کا  کوئی ووٹ ہی نہیں ۔مرہوٹ کے لوگ بھی انصاف کیلئے کبھی ضلع ترقیاتی کمشنرپونچھ تو کبھی ڈائریکٹر دیہی ترقی جموں اور کبھی الیکشن کمیشن کے دفاتر کے چکر کاٹتے پھر رہے ہیں ۔بے تکے طور پر کی گئی حد بندی کی شکایات کئی دیگر علاقوں سے بھی موصول ہورہی ہیں اور شکایت کرنے والے لوگوں کی کہیں کوئی سنوائی نہیںہورہی جنہیں ضلع سطح سے صوبائی سطح اور پھر صوبائی سطح سے سیول سیکریٹریٹ کے طواف کروائے جارہے ہیں ۔انتخابات سے قبل ایسی صورتحال کا سامنا ہمیشہ ہی کرناپڑتاہے جس سے ان انتخابات کے صاف و شفا ف طریقہ سے انعقاد کے دعوئوں کی نفی ہوتی ہے ۔ان سب پریشانیوں کی اصل وجہ سیاسی طور پر مفادات کا حصول ہوتاہے اور اسی چکر میں ووٹوں کی تعداد میں کمی یا زیادتی دکھائی جاتی ہے ۔ووٹ کم زیادہ کئے جانے کا کوئی دوسرا نقصان ہویا نہ ہو لیکن سب سے بڑا نقصان ایک وارڈ کی سطح پر ہر دو طبقوں کے درمیان خلیج پیدا ہوجاناہے جو پھر آگے جاکر مزید گہری ہوجاتی ہے ۔اس طرح سے متعلقہ ملازمین کی جانے انجانے میں غلطیاں اور سیاسی کھیل سے سماج بری طرح سے تقسیم ہوکر رہ جاتاہے جو تشویشناک بات ہے۔2011کے پنچایتی انتخابات کے دوران بھی اس بات کا مشاہدہ کیاجاچکاہے کہ انہی معاملات کی بناپر گھر گھر میں لڑائیاں اور جھگڑے ہوئے اور بھائی بھائی بن کر رہنے والوں میں دوریاں بڑھ گئیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے سے قبل ہی تمام تر غلطیوں کا تدارک کرلیاجائے تاکہ عوام کا جمہوری اصولوں پر اعتماد پر باقی رہے اور دوطبقے پنچ و سرپنچ کے چنائو کیلئے آپس میں دست و گریبان بھی نہ ہوں ۔

تازہ ترین