تازہ ترین

درندگی

چلتے چلتے

12 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شہزادہ بسمل
یہ بات ماشا ء اللہ آپ کے مشاہدے میں اور نظروں کے بالکل سامنے بھی ہوسکتی ہے ،میں صرف یاد دہانی یا بہ الفاظ دیگر اعادہ کرنے کی کوشش کروں گا ۔مان لیجئے ایک خوشحال کھاتے پیتے گھرانے میں یا ایک عام سے گھرانے میں ایک دُلہن آتی ہے اور پہلی شادی کے کچھ عرصہ کے بعد ہی گھر کے دوسرے لڑکے کی بھی بات ٹھہرتی ہے تو دوسری نئی نویلی دلہن گھر میں رونق افروز ہوجاتی ہے ۔اُن دونوں دلہنوں یا دیورانیوں کی آپس میں خوب گاڑھی چھنتی ہے ۔سمجھ داری ،بہنا پا اور اُس پیار کے ماحول میں گھر میں بھی اُنس و الفت کے منجیرے بج اٹھتے ہیںاور آپسی برابری ،سوجھ بوجھ ،اعتماد اور تعاون کے اُس سازگار فضا میں والہانہ اپنائیت اور درد مندی کے گلشن کھِل اٹھتے ہیں اور بزرگوں ،گھر کے بڑوں کے دلوں سے یہی آرزویں اُمڈ تی ہیں، بقول شاعرمصحف اقبالؔ   ـ؎
سرسبز چمن میرا اے باد صبا رکھنا 
ہر پھول کھلا رکھنا ہر پات ہرا رکھنا 
اس میٹھے امن و آشتی کے ماحول کو گرچہ اپنے پرائے ،یار دوست ،رشتہ دار اور مجموعی طور پر سماج کی آنکھیں تعریف و توصیف کے ساتھ دیکھتی ہوتی ہیں مگر ایک غیبی آنکھ بھی اپنی کینہ توز نظروں سے مناسب وقت کے انتظار میں ہوتی ہے اور وہ آنکھ بلاشبہ شیطانی آنکھ ہوتی ہے اور پھر شیطان مناسب موقع دیکھ کر اپنے تیر و ترکش کے ساتھ میدان ِ عمل میں کود پڑتا ہے ۔وہ دونوں دیورانیوں میںکوئی معمولی سی بات پر پھوٹ ڈال کر سارے گھر کے اچھے ،مناسب اور میٹھے ماحول کو زہر آلود کرکے دونوں دُلہنوں کو آپس میں بھڑاتا ہے ۔دریا کے پاٹ بناکر گھر کی لٹیا ہی ڈوب جاتی ہے ۔
تھوڑے ہی وقفے کے بعد اس چخ چخ کے ماحول سے ایک دلہن کا شوہر یعنی گھر کا ایک لڑکا علاحیدگی اختیار کرلیتا ہے ،گویا گھر کی ایک چول ڈھیلی پڑ جاتی ہے اور زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ دوسرا بیٹا بھی آزاد فضائوں اور آزادانہ ماحول کو اپنا بشری حق سمجھ کر بوریا بستر لپیٹ کر الگ ہوجاتا ہے ۔گھر سے محبت کے نغمے اور پیار کے ترانے رُوٹھ جاتے ہیں ۔اپنائیت اور ہم آہنگی کے روشن چراغ بجھ جاتے ہیں ۔بچوں کی کلکاریاں بھولا بسرا خواب ہوجاتی ہیں ۔والدین اکیلے پڑجاتے ہیں اور یہی سوچ سوچ کر خلجان میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ وہ دل کو پیٹیں یا جگر کو روئیں اور آخر میں وہ یہی شکوہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں   ؎
کل چمن تھا آج ویرانہ ہوا 
دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیا ہوا 
شیطان لعین کا یہ ایجنڈا ہے کہ جہاں بھی ،جس جگہ بھی آپسی یگانگت ،ہم آہنگی اور اُنس و الفت ہو ،خدائے برتر و عزو جل کا کوئی نام لیوا ہو ،مومن مسلمان ہو،اُس کو راہ سے بھٹکانا ،گمراہ کرنا بلکہ دوسروں کو بھی اُس پر اس انداز سے تکلیف پہنچانا ،حملہ کرانا ،تاکہ وہ خدا ترس خدا کا پجاری نہ صرف مال و جائداد سے تہی دست ہوجائے بلکہ وہ زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اور اس ضمن میں ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ عالم اسلام کو اتنا نقصان گزشتہ سوا چودہ سو برس سے زیادہ میں نہیں ہوا جتنا بلکہ اُس سے ہزارگنا زیادہ صرف سابقہ دو تین دہائیوں میں ورلڈ پولیس مین کے ہاتھوں سے بھگتنا پڑا۔یہی شیطان ملعون جب ورلڈ پولیس مین کے جسم ناپاک میں حلول کر گیا تو اولاًاُس نے افغانستان پر نشانہ سادھا ۔وہاں کے سیدھے سادھے لوگوں نے اس پر بھروسہ کیا،اپنی سادہ دلی میں اُس کو اپنا مسیحا سمجھ لیا ۔انہوں نے اُس سے ہتھیار لئے بلکہ مناسب جنگی یا فوجی تربیت بھی حاصل کرلی اور افغانستان پر حملہ آور ہوئے روس کو ناکوں چنے چبوائے اور جب گورا اپنے مشن میں کامیاب ہوا ،روس کو افغانستان میں بدترین ہزیمت اور مالی و جانی نقصان ہوا تو ورلڈ پولیس مین پھر خود اُسی ملک پر حملہ آور ہوا اور اُسی ملک کے باشندوں پر کبھی یہ بہانہ کبھی وہ بہانہ لگاکر اُس کی نسل کشی کرتا رہا ،گویا لینے کے دینے پڑگئے، یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس عاشقی میں عزت ِ سادات بھی گئی۔
ورلڈ پولیس مین نے گوانتابامے اور ابو غریب جیلوں میں معصوم اور بے گناہ افغانیوں پر ایسے مظالم ڈھائے کہ ایذاء رسانی اور انسانیت سوز مظالم کی معلوم تاریخ میں گجرات کے سوا اُن خباثت کا دور دور کہیں نشان نہیں ملتا ۔خود ورلڈ پولیس مین کے ملک کے انسانی دل رکھنے والے اشخاص نے برملا اور چیخ چیخ کر کہا کہ ان درندوں نے اخلاقی اقدار کو دشنام طراز کرکے انسانیت کو شرمسار کیا ہے ۔نسل کشی کرنے کے اُن شرمناک بہانوں کو اب کافی وقت بیت گیا مگر لگتا ہے کہ شیطان کی پیاس ابھی نہیںبُجھی ہے ۔آج بھی آئے دن کبھی اس بہانے کبھی اُس بہانے اپنے فوجیوں کی موجودگی میں بموں کی بارش کرکے خونِ مومن کو پانی کی طرح بہایا جاتا ہے ۔ابھی حال ہی میں ایک مدرسے میں حافظ قرآن کی دستار بندی کے موقع پر شیطان لعین نے اُسی ورلڈ پولیس مین کی شکل میں جو ننگا ناچ رچا ،جس خباثت اور درندگی کا ثبوت دیا، اُس کی مثال ملک شام کے بغیر اور کہیں نہیں ملتی ۔مسلمانوں کے لئے یہ کتنی کرب ،دل چیر نے بلکہ پائوں تلے روندھنے سے بھی زیادہ ہتک اور تذلیل آمیز بات ہے کہ چھوٹے چھوٹے معصوم اور کمسن حافظ قرآن اپنے ہاتھوں میں سند اور سر پر چھوٹے چھوٹے دستارِ فضیلت رکھے بمباری ،آمریت ،فسطائیت اور رجعت پسندی کی بے حیائی کے شکار ہوکر حفظ اپنے ساتھ ہی لے کر بدترین درندگی کے ٹارگٹ بن گئے ۔
اللہ ہم پر رحم کرنا ۔ آمین ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مسلمان اتنا بے دست و پا اور لاچار ہوکے کیوں رہ گیا ہے ؟شاید اپنی ہی خطائوں کی وجہ سے، ورنہ رب الکریم نعوذباللہ کسی پر ظالم نہیں ہے ۔ظلم ہم خود اپنے آپ پر کرتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنا فطری لایحہ عمل چھوڑ کر اور تارکِ قرآن ہوکر خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ۔خود ہی اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او رینگر-190001،کشمیر
  موبائل نمبر:-9419475995 
