تازہ ترین

اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟

ککروسہ کی نڈھال بزرگ ماں کا اپنے بیٹے کی جدائی پر سوال

11 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشرف چراغ
ککروسہ (ہندوارہ)// ککروسہ ہندوارہ میں دو چچازاد بھائی گزشتہ 28سالو ں کے دوران لاپتہ ہیں اور لواحقین اپنو ں کی جدائی میں نڈھال ہیں ۔ککروسہ کے بیگ خاندان سے وابستہ دو نوجوان بھی 28سال سے لاپتہ ہیں اور آج تک ان کے بارے میں کوئی اتہ پتہ نہیں ہے کہ انہیں زمین نگل  گئی یا آسمان کھا گیا۔لواحقین کا کہنا ہے کہ علاقہ میں فوجی کیمپو ں سے بھی رابطہ کیا تاہم ان کی گرفتاری سے متعلق انکار کر دیاگیا ۔ککروسہ کے ایک کنبہ کا کہنا ہے کہ عبد الغنی بیگ ولد حبیب اللہ بیگ جو اس وقت بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا گھر سے سکول گیا اور بعد میں واپس نہیں لوٹا ۔انہو ں نے کہا کہ جس روز عبد الغنی کو لاپتہ کر دیاگیا اسی روز رامحال کے کئی نوجوان لاپتہ ہوگئے اور آج تک بھی ان کے بارے میں کوئی پتہ نہیں چلا ۔لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ 1990کی بات ہے جبکہ وادی میں نامساعد حالات عروج پر تھے  اور ہر طرف کریک ڈائو ن اور تلاشی کاروائیو ں کا سلسلہ جاری تھا ۔اس دوران  عبد الغنی بیگ سکول کے لئے نکلا اور آج تک اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں مل گیا ۔عبد الغنی کی بزرگ ماں زونہ بیگم کا کہنا ہے کہ ہم ہر روز صبح و شام عبد الغنی کی یاد میں مرتے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ وہ ایسا کوئی جیل نہیں ہوگا جہا ں ہم نے عبد الغنی کی تلاش نہیں کی لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں ملا  ۔زونہ بیگم کا کہنا ہے کہ انہیں عبد الغنی کے بارے میں پتہ تک نہیں ہے کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں ،جس کے نتیجے میں ان کے اہل خانہ گزشتہ دو دہائیو ں سے زائد عرصے سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور ان کی تلاش میں ہر جگہ سے مایوس ہوکر واپس لو ٹ آتے ہیں ۔عبد الغنی کے بھائی جا وید احمد کا کہنا ہے کہ لواحقین ایک مسلسل عذاب اور شدید غم کی کیفیت میں مبتلا ہیں ۔جاوید کا کہنا ہے کہ وہ بہت چھو ٹا تھا جب ان کا بھائی لاپتہ ہو گیا۔نا ہی ان کے بھائی کے سرحد پار جانے کے ثبوت ہیں اور ناہی وہ کسی جیل میں بند ہیںاور ہم گزشتہ 28سالو ں کے دوران سخت پریشان ہیں ۔اس دوران ککروسہ کے بیگ خاندان کے ہی ایک اور نوجوان نذیر احمد بیگ ولد رحمت اللہ بیگ کو بھی لاپتہ کر دیا گیا ۔لواحقین کا کہنا ہے نذیر احمد بیگ 90کی دہائی میں ہتھیارو ں کی تربیت حاصل کر نے کے لئے پاکستان چلے گئے اور وہا ں آکر کچھ عرصہ کے بعد فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔لواحقین نے بتایا کہ ہتھیار ڈالنے کے بعد نذیر نے ایک پر امن شہری کی زند گی گزارنی شروع کی تاہم بعد میں نذیر کو بھی لاپتہ کر دیا گیا لیکن آج تک بھی دو نو ں چچا ذاد بھائیو ں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے ۔عبد الغنی بیگ کے بھائی جاوید نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ کچھ عرصہ قبل ضلع انتظامیہ کی جانب سے مسلح تحریک کے دوران لاپتہ کر دیئے گئے افراد کی ایک لسٹ شائع ہوئی جنہو ں نے سرکار سے با ضابطہ طور ایکس گریشا ریلف بھی حاصل کی تاہم ان کے بھائی کا نام آج تک نہ ہی سرکاری اداروں میں درج ہے اور نہی مقامی پولیس تھانہ میں جو ایک المیہ ہے ۔