تازہ ترین

اساتذہ کا ایجی ٹیشن میں شدت لانے کا فیصلہ

بھوک ہڑتال جاری،16ستمبر کو کینڈل لائٹ مارچ ہوگا:قیوم وانی

11 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //7ویں تنخواہ کمیشن کی ادائیگی ،تنخوائوں کو ڈی لنک کرنے اور دیگر مطالبات کے حق میں جاری احتجاج میں مزید تیزی لانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹیچر زجوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھوک ہڑتال جاری رکھتے ہوئے 11مارچ کو کینڈل لائنٹ احتجاج کے ساتھ ساتھ 16ستمبر کو شیر کشمیر پارک سرینگر سے راج بھون تک بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سوموار کو ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے ریاستی سطح کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس کی سربراہی ایجیک صدر عبدالقوام وانی نے انجام دی اس دوران میٹنگ میں موجود تمام عہدیداران نے سرکار کی مسلسل خاموشی پر شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ سرکار ایس ایس اے اور رمسا اساتذہ ،ماسٹروں اور ہیڈماسٹروں کو 7ویں پے کمیشن اور اُن کی تنخواہوں کو ڈی لنک کرنے کے جائز مطالبات کو حل کرنے کے حوالے سے خاموش تماشاہی بنی ہوئی ہے ۔میٹنگ میں وانی نے کہا کہ پچھلے چار ماہ سے ریاست کے تینوں خطوں میں پرامن احتجاج ہو رہا ہے جبکہ جموں اور سرینگر میں بھوک ہڑتال بھی جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کی ہٹ دھرمی کے پیش نظر ٹیچر زجوائنٹ ایکشن کمیٹی نے فیصلہ کیاہے کہ 11ستمبر کو سرکار کی خاموشی کے خلاف کینڈل لایٹ احتجاج پرتاب پارک سے راج بھون سرینگر تک کیا جائے گا جبکہ ایسا ہی احتجاج گنیش کھجوریہ اور ویند شرما کی سربراہی میں پریس کلب جموں میں بھی ہو گا۔انہوں نے کہا کہ عام لوگوں، سیول سوسائٹی ، تاجروں، یونین یولٹیکل جماعتوں ،مذہبی تنظیموں، کشمیر اکنامکس الائنس ، چمبرآف کامرس ،پرائیوٹ سکول ایسوسی ایشن ،جرنلسٹ ،غیر سرکاری تنظیموں ،وکلاء، پنشنرس ،ویلفیر ایسوسی ایشن کے علاوہ مختلف طبقوں کی طرف سے ٹی جے اے سی کو حمایت ملنے کے بعد انہوں نے ورکنگ ڈے کے دوران اپنے پروگرام کو تبدیل کرتے ہوئے جموں پریس کلب اور شیر کشمیر پارک سے راج بھون تک 16ستمبر یعنی اتوار کو بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی جے اے سی نے احتجاج کا جو پروگرام رکھا ہے اُس میں سب اساتذہ کی شرکت لازمی ہونی چاہئے ۔ وانی نے کہا کہ ہمارے مطالبات جائز ہیں اور اُس میں کوئی بھی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں ہے کہ حکومت اُن کے مسائل حل کرنے میں تاخیر سے کام لے ۔ٹی جے اے سی لیڈران نے کہا کہ ہم لڑائی نہیں چاہتے ہیں اور ہم سرکار کے ساتھ بامعنی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں تاکہ نوجوان نسل کا مستقبل برباد نہ ہونے پائے ۔لیڈران نے کہا کہ ہم سکول بند کر کے سڑکوں پر نہیں آنا چاہتے لیکن اگر حکومت نے اُن کے مطالبات پورے نہ کئے تو وہ طلباء تنظیموں ،والدین اور سیول سوسائٹی تاجروں اور مذہبی تنظیموں صحافیوں ،قانونی ماہرین سے بات کر حتمی فیصلہ لیں گے ۔قیوم وانی نے اس دوران والدین بچوں اور میڈیا کی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس احتجاج کی حمایت کی۔انہوںنے اس اُمید کا اظہار کیا کہ وہ اپنی اس حمایت کو جاری رکھیں گے ۔میٹنگ میں ٹی اے جے سی کے تمام عہدیداران بھی موجود تھے ۔