تازہ ترین

صبغے اینڈ سنز ۔۔۔آخری قسط

طنزومزاح

11 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مشتاق۱حمد یوسفی
 حساس آدمی تھے ،اس پر بدقسمتی یہ کہ ایک ناکام کتب فروش کی حیثیت سے انہیں انسانوں کی فطرت کا بہت قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا،اسی لئے بہت جلد انسانیت سے مایوس ہوگئے ۔انہوں نے تمام عمر تکلیفیں ہی تکلیفیں اٹھائیں ۔شاید اسی وجہ سے انہیں یقین ہوچلا تھا کہ وہ حق پر ہیں ۔زندگی سے کب کے بیزار ہوچکے تھے اور ان کی باتوں سے ایسا لگتا تھا گویا اب محض اپنے قرض خواہوں کی تالیف قلوب کے لیے جی رہے ہیں ۔اب ہم ذیل میں وہ تاثرات و تعصبات مختصر اً بیان کرتے ہیں جو اُن کی چالیس سالہ ناتجربہ کاری کا نچوڑ ہیں۔
دوکان کھولنے سے چار پانچ مہینے پہلے ایک ادبی خیر سگالی وفد (ادارہ برائے ترقی انجمن پسند مصنفین) کے ساتھ سیلون ہو آئے تھے ،جسے حاسد لنکا کے نام سے یاد کرتے تھے ۔اس جزیرے کی سہ روزہ سیاحت کے بعد اٹھتے بیٹھتے ’’ترقی یافتہ ممالک‘‘کی ادب نوازی و علم دوستی کے چرچے رہنے لگے ۔ایک دفعہ برادران ِوطن کی ناقدری کا گلہ کرتے ہوئے فرمایا:’’آپ کے ہاں تو ابھی تک جہالت کی خرابیاں دور کرنے پر کتابیں لکھی جارہی ہیں مگر ترقی یافتہ ممالک میں تو اب ایسی کتابیں لکھی جارہی ہیں ،جن کا مقصد ان خرابیوں کو دور کرنا ہے جو محض جہالت دور ہونے سے پیدا ہوگئی ہیں۔صاحب ! وہاں علم کی ایسی قدر ہے کہ کتاب لکھنا ، کتاب چھاپنا ،کتاب بیچنا،کتاب خریدنا ،حد یہ کہ کتاب چرانا بھی ثواب میں داخل ہے ۔ یقین مانئے ،ترقی یافتہ ممالک میں تو جاہل آدمی ٹھیک سے جرم بھی نہیں کرسکتا ۔‘‘شامت اعمال ،میرے منہ سے نکل گیا :’’یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں کوئی کتاب اس وقت تک اچھی خیال نہیں کی جاتی جب تک اس کی فلم نہ بن جائے اور فلم بننے کے بعد کتاب پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘انہیں غصہ آگیا: ’’تین پیسے کی چھوکری‘‘کا کونا موڑ کر واپس الماری میں رکھی اور میرے لب و لہجے کی ہو بہو نقل اُتارتے ہوئے بولے :’’اور آپ کے ہاں یہ کیفیت ہے کہ نوجوان اس وقت تک اردو کی کوئی پڑھنے کی حاجت محسوس نہیں کرتے جب تک پولیس اسے فحش قرار نہ دے دے اور فحش قرار پانے کے بعد اس کے بیچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘اُن کے طنز میں طعنے کا رنگ آچلا تھا ،اس لئے میں نے جھٹ سے حامی بھرلی کہ پولیس اگر دل سے چاہے تو تمام اچھی اچھی کتابوں کو فحش قرار دے کر نوجوانوں میں اُردو ادب سے گہری دلچسپی پیدا ہوسکتی ہے ۔میرے لہجے کا نوٹس نہ لیتے ہوئے اُلٹے مجھی سے اُلجھنے لگے کہ آپ بات کی تہہ تک نہیں پہنچے ۔آپ دھڑا دھڑ کتابیں چھاپ سکتے ہیں مگر زبردست پڑھوا نہیں سکتے ۔میں نے کہا کیوں نہیں؟اُٹھا لے نصاب میں داخل کردیجئے ۔وہ بھلا ہار ماننے والے تھے ،کہنے لگے اگر ایک پوری کی پوری نسل کو ہمیشہ کے لئے کسی اچھی کتاب سے بیزار کرنا ہو تو سیدھی ترکیب یہ ہے کہ اسے نصاب میں داخل کردیجئے۔
کتب فروشی کی بدولت صبغے کا سابقہ ایسے ایسے پڑھنے اور نہ پڑھنے والوں سے پڑا    ع
ہزاروں سال نرگس جن کی بے نوری پہ روتی ہے 
ان میں خیام کے وہ دلدادہ بھی شامل تھے جو اصل رُباعیوں میں ترشے خوبیوں کو تلاش کرتے پھرتے تھے ۔ان میں وہ سال خوردہ کتاب خواں بھی تھے جو کجلائے ہوئے کوئلوں کو دہکانے کے لئے بقول مرزاؔ،عریاں ناولوں سے منہ کالا کرتے اور سمجھتے کہ ہم اردو کی عزت بڑھا رہے ہیں ۔(یہ قول اُنہی کا ہے کہ فحش کتاب میں دیمک نہیں لگ سکتی کیونکہ دیمک ایسا کاغذ کھاکر افزائش نسل کے قابل نہیں رہتی )ان میں وہ خوش نصیب بھی تھے ،جن کے لیے کتاب بہترین رفیق ہے اور وہ کم نصیب بھی جن کے لیے واحد رفیق!
اور اس بے نام قبیلے میں وہ جدت پسند پڑھنے والے بھی شامل تھے، جو ہر لحظہ تازہ بہ تازہ ،نو بہ نو کے طلب گار تھے ۔حالانکہ ان جیسوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ فقط ڈکشنری ہی ایک ایسی کتاب ہے جسے وہ جب بھی دیکھیں ،انشا ء اللہ نئی معلوم ہو گی لیکن ایک حد تک صبغے کی بھی زیادتی تھی کہ نئی اردو کتابوں کو اپنے دل اور دوکان میں جگہ دینا تو بڑی بات ہے ،چمٹے سے پکڑ کر بھی بیچنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ایک دن خاقانِ ہند استاد ذوقؔ کے قصائد کی گرد ہفتہ وار ٹائم سے جھاڑتے ہوئے کٹکٹاکر کہنے لگے کہ آج کل لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ادب ایک ’’کیپ سول‘‘میں بند کرکے ان کے حوالے کردیا جائے ،جسے وہ کوکا کولا کے گھونٹ کے ساتھ غٹک سے حلق اتار لیں۔انسانی تہذیب پتھر اور بھوج پتر کے عہد سے گزر کر اب ریڈرز ڈائجسٹ کے دور تک آگئی ہے ۔ سمجھے؟ یہ مصنفوں کا دور نہیں ،صحافیوں کا دور ہے !صحافیوں کا ؟؟میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا : ’’مگر صحافت میں کیا قباحت ہے؟‘‘
بولے: کچھ نہیں ،بڑا مصنف اپنی آواز پبلک تک پہنچاتا ہے مگر بڑا صحافی پبلک کی آواز پبلک تک پہنچاتا ہے۔‘‘
مصنفوں کا ذکر چھڑ گیا تو ایک واردات اور سنتے چلئے ۔سات آٹھ مہینے تک مرزاؔ اردو افسانوں کا ایک مجموعہ بیچتے رہے،جس کے سرورق پر مصنف کے دستخط بقلم خود ثبت تھے اور اوپر یہ عبارت ۔’’جس کتاب پر مصنف کے دستخط نہ ہو وہ جعلی تصور کی جائے۔‘‘ایک روز اُنہیں رجسٹری سے مصنف کے وکیل کی معرفت نوٹس ملا کہ ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آپ ہمارے موکل کی کتاب کا ایک مصدقہ ایڈیشن عرصہ آٹھ ماہ سے مبینہ طور فروخت کررہے ہیں ،جس پر مصنف مذکور کے دستخط بقید تاریخ ثبت ہیں۔آپ کو بذریعہ نوٹس ہذا مطلع کیا جاتا ہے کہ محولہ بالا کتاب اور دستخط دونوں سراسر جعلی ہیں ۔اصل ایڈیشن مصنف کے دستخط سے ہیں ہی نہیں۔اس واقعے سے انہوں نے ایسی عبرت پکڑی کہ آئندہ کوئی ایسی کتاب دوکان میں نہیں رکھی،جس پر کسی کے بھی دستخط ہوں،بلکہ جہاں تک بن پڑتا ،انہی کتابوں کو ترجیح دیتے جن پر مصنف کا نام تک درج نہیں ہوتا ۔مثلاً الف لیلیٰ ،ضابطہ فوجداری ،ریلوے ٹائم ٹیبل ،انجیل۔
تباہی کی جو طبع زاد راہ بلکہ شاہراہ انہوں نے اپنے لئے نکالی ،اس پر وہ تو کیا قارون بھی زیادہ دیر گامزن نہیں رہ سکتا تھا کیونکہ منزل بہت دور نہیں تھی ۔آخر وہ دن آہی گیا جس کا دشمنوں کا انتظار تھا اور دوستوں کو اندیشہ ۔دکان بند ہوگئی ،خزانچی جی کی تنخواہ ڈھائی مہینے سے چڑھی ہوئی تھی ۔لہٰذا خالی الماریاں ،ایک عدد گولک چوبی جو نادہندوں کی فہرستوں سے منہ تک بھری تھی ۔چاندی کا خوبصورت سگریٹ کیس ، جسے کھولتے ہی محسوس ہوتا تھا کوئی بیڑی کا بندل کھل گیا ،نسنی جس کی صرف اوپر کی تین سیڑھیاںباقی رہ گئی تھیں ،خواب آور گولیوں کی شیشی ، کراچی ریس میں دوڑنے والے گھوڑوں کے شجرہ ٔہائے نسب ،نومبر سے دسمبر تک کا مکمل کیلنڈر کے سمیت۔یہ سب خزاجی نے صبغے کی اولین غفلت میں ہتھیا لئے اور راتوں رات اپنی تنخواہ کی ایک ایک پائی گدھا گاڑی میں ڈھو ڈھو کر لے گئے۔دوسرے دن دوکان کا مالک بقایا کرایے کی مد میں جو جائداد منقولہ و غیر منقولہ اُٹھا کر یا اُکھاڑ کر لے گیا ،اس کی تفصیل کی یہاں نہ گنجائش ہے نہ ضرورت۔ہمارے پڑھنے والوں کو بس اتنا اشارہ کافی ہو گا کہ ان میں سے سب سے قیمتی چیز بغیر چابی کے بند ہونے والا ایک قفل فولادی ساختہ جرمنی تھا ۔پرانا ضرور تھا مگر ایک خوبی اس میں اسی پیدا ہوگئی تھی جو ہم نے نئے سے نئے جرمن تالوں میں بھی نہیں دیکھی یعنی بغیر چابی کے بند ہونا اور اسی طرح کھلنا۔صبغے غریب کے حصے میں صرف اپنے نام (مع فرضی فرزندان) کا سائن بورڈ آیا ،جس کو سات روپے مزدوری دے کر گھر اُٹھوا لائے اور دوسرے دن سوا روپے میں محلے کے کباڑی کے ہاتھ فروخت کرڈالا مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور دو مہینے تک اپنی ہتھیلی کا شبانہ روز مطالعہ کرنے کے بعد ایک ٹریننگ کالج میں سکول ماسٹروں کو پڑھانا شروع کردیا ۔مرزا ؔکے الفاظ میں صبغے کی کتب فروشانہ زندگی کے باب کا انجام نہایت افسانوی رہا ۔جس افسانے کی طرف یہاں مرزا کا اشارہ ہے ،وہ دراصل کائی لنگ کی ایک مشہور چینی کہانی ہے جس کا ہیرو ایک آرٹسٹ ہے ۔ایک دن وہ اپنی ایک ماڈل لڑکی کی خوبصورتی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسی وقت اپنے سارے برش اور کینوس سمیت سمیٹ کر جلا ڈالے اور ایک سرکس میں ہاتھیوں کو سدھانے کا کام کرنے لگا ۔ (ختم شد )
