تازہ ترین

پنچایتی و میونسپل انتخابات پر غیر یقینیت کے سائے

مرکزی حکومت کو ایک اورجھٹکا

11 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

منظور انجم
ستمبر  کی تیسری تاریخ تھی اور سوموار کا دن تھا ۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی کے مشترکہ آپریشن کے تحت اٹھارہ سے زیادہ دیہات کو بیک وقت محاصرے میں لیا گیا اور جنگجوئوں کا سراغ پانے کیلئے گھر گھر تلاشیاں شروع کی گئیں ۔ اس قدر وسیع محاصرہ غالباً اس نئی حکمت عملی کا تجربہ تھا کہ جنگجو مخالف آپریشن میں عوامی مداخلت کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔کسی ایک جگہ جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ہوسکتی تھی لیکن اٹھارہ دیہات کومحاصرے میں لیکر اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ نوجوانوں کو گھروں سے باہر آنے کا کوئی موقع نہ مل سکے لیکن حیرت انگیز طور پر اس کے باوجود بھی جگہ جگہ نوجوانوں نے نہ صرف گھروںسے باہر آنے میں کامیابی حاصل کی بلکہ مختلف ٹولیوںمیں اکٹھے بھی ہوئے اور حسب سابقہ مظاہرے اور پتھرائو بھی کرنے لگے۔ پھر اتھل پتھل کی وہی صورتحال پیدا ہوئی جس میں جنگجوئوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا اور گوسو نامی علاقے میں شدید پتھرائو کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور پیلٹ کا استعمال ناکافی ثابت ہونے کے بعد فائرنگ کی گئی ۔ ایک بائیس سالہ نوجوان کے سر میں گولی لگی اور وہ ہسپتال پہنچتے پہنچتے جاں بحق ہوا ۔اس طرح نئی حکمت عملی کا تجربہ بھی ناکام رہا ۔اس واقعہ کا تجزیہ یہ ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے کہ فوج کے ہر ممکن تجربوں اورکوششوں کے باوجود جنگجو مخالف آپریشن کامیابی کے ساتھ انجام دینے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا گزرتے وقت کے ساتھ ناممکن بنتا جارہا ہے اورنہ صرف کنٹرول حاصل کرنے کا خواب بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بکھرتاجارہا ہے بلکہ شہری ہلاکتوں کو روکنا بھی محال بن رہا ہے ۔یہ کشمیر کی صورتحال کا انتہائی سنگین پہلو ہے اور اس کے ساتھ دوسرے کئی پہلو بھی ہیں جوبے قابواور بھیانک صورتحال کی طرف صاف صاف اشارہ کررہے ہیں ۔
سوموار کو ہی یہ خبر بھی اخباروں میں نمایاں طورپر شائع ہوئی کہ جنگجوئوں کی تعداد تین سوکے ہندسے کو پار کرچکی ہے جو پچھلی ایک دہائی کے دوران ریکارڈ تعداد ہے ۔قومی انگریزی روزنامہ ’’ ٹریبویون‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران ہی ابھی تک ایک سو تیس نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے ۔اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے عسکریت میں شامل ہونے کا رحجان وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جارہا ہے ۔ ضلع ڈوڈہ کے ہارون رشید وانی ، جس نے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کی ہے ،نے حزب المجاہدین نامی عسکری تنظیم میں شمولیت اختیار کرکے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ رحجان اب وسعت اختیار کررہا ہے ۔ اس سے پہلے پولیس افسران اوراہلکاروں کے افراد خانہ کے گیارہ افراد کو صرف چوبیس گھنٹے کے دوران اغوا کرنے کے واقعہ نے امن و قانون کی مشنری کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔بعد میں ان تمام افراد کو بغیر کوئی گزند پہنچا ئے رہا کردیا گیا لیکن اس طرح سے یہ پیغام دیا گیا کہ جنگجو امن و قانون کی مشنری کو کسی بھی وقت مفلوج کرنے کی قوت اور صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔
زمینی حالات کی اس دھند میں کہیں بھی سیاسی عمل کی کوئی روشنی موجود نہیں لیکن ایسے واقعات او ر حالات کے درمیان چند ہی روز پہلے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے لئے تاریخوں کااعلان ہوا اور اس اعلان کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ ریاست میں ان انتخابات کے لئے ماحول سازگار ہے ۔اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ سازگار ماحول کی حکام کے پاس کیا توجیہہ ہے اورانتخابات کے انعقاد کا منصوبہ کیسے بااعتبار بناکر پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔حکومت پورے یقین کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ وہ انتخابات کے پرامن اور بلارکاوٹ انعقاد کے لئے خاطر خواہ سکیورٹی بندوبست کررہی ہے اور اس کے لئے فورسز کی مزید کمک بھی طلب کی گئی ہے ۔ لیکن جن انتخابات کیلئے پہلے سے موجود غیر معمولی فورسز کی موجود گی کے باوجود مزید کمک طلب کرنا ضروری بن جائے ،ان کے انعقاد کی اعتباریت پر کیا کوئی سوال نہیں اٹھے گا ۔ہر گلی ، ہر کوچے ، ہر سڑک کو فورسز کی حفاظت میں دیا جائے تو لوگوں کے گھروںسے باہر آنے کی کونسی صور ت باقی رہے گی اوراگر لوگ گھروں سے باہر نہ آسکیں تو انتخاب کیسے ہوگا ۔
یہاں ان انتخابات کے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان کا  نہ مسئلہ کشمیر سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ کسی سیاسی عمل کا حصہ ہیں ۔یہ صرف ایک انتظامی عمل ہے جو عوام کی روزمرہ زندگی کی ضروریات سے تعلق رکھتا ہے ۔پنچایتوں کے لئے مخصوص کروڑوں روپے کے فنڈس واگزار نہیں ہورہے ہیں جو دیہی علاقوںکی تعمیر اور ترقی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ سابق گورنر این این ووہرا ان انتخابات کے انعقاد کی شدید خواہش رکھتے تھے کیونکہ انہوں نے ہی پنچاب میں پنچایتی انتخابات کا انعقاد کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور وہ اس عمل کو ریاست میں بھی دہرانا چاہتے تھے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ہر قیمت پر ان انتخابات کے انعقاد کیلئے کوشاں ہے کیونکہ وہ جموں کے دور دراز علاقوں میں بھی عوام کو وہ تمام سہولیات اورمراعات دینا چاہتی ہے جس سے وہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں کامیاب ہوسکے۔ غالباً مرکز نے بھی اسی لئے ابتر حالات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان انتخابات کی حامی بھری ہے ۔یہ سوچا گیا ہے کہ جموں میں بھرپور طریقے پر انتخابات ہوں گے اوراگرکشمیر کے کئی علاقوں میں انتخابات نہ بھی ہوسکیں تو نقصان کشمیر کا ہی ہوگا ۔اس طرح مرکزی سرکار پارٹی مفادات کو ہی اہمیت دے کر باقی تمام حالات کو نظر انداز کررہی ہے اور کشمیر میں مزاحمتی قیادت جس نے پہلے ہی ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے، اپنے نقطہ نگاہ کو ہی اہمیت دے رہی ہے ۔نہ زمینی حالات کو کوئی اہمیت دی جارہی ہے اور نہ ہی عوامی مفادات کو پیش نظر رکھا جارہا ہے ۔جہاں ایک طرف بی جے پی لیڈران اور مرکزی قایدین کے بیانات آئے روز عوام کے جذبات کو چھلنی کررہے ہیں وہیں پر مزاحمتی خیمہ عوام کے مفادات اور ضروریات کوسرے سے نظر انداز کرنے کی روش اختیار کئے ہوئے ہے ۔
قومی سکیورٹی صلاحکار اجیت ڈوول کا یہ بیان کہ جموں و کشمیر کیلئے علیحدہ آئین ایک غلطی تھی، ایسے وقت میں آیا جب سپریم کورٹ میں دفعہ 35اے کیخلاف عرضیاں زیر سماعت ہیں ۔ اجیت ڈوول کے خیا ل میں انگریز ہندوستان چھوڑتے ہوئے اس ملک کی یکجہتی اور استحکام کا خواہشمند نہیں تھامطلب یہ کہ یکجہتی اوراستحکام ان کی نظر میں صرف یہ ہے کہ ملک کے ہر حصے کے عوام کی خواہشات اوراحساسات بھی مرکز کے ہی تابع رہے ۔آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا نظر یہ بھی یہی ہے کہ ہر فرد مرکز کے اشاروں کا محتاج رہے ۔تمام تر اختیارات مرکز کے پاس رہیں اورریاستوں کے پاس کچھ نہ ہو خاص طور پر مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر پوری طرح سے مرکز کے شکنجے میں رہے ۔
 اس سے یہ بات عیاں ہے کہ ریاست کی خصوصی حیثیت کوبرداشت کرنا اس کے باوجود کہ اس کے خلاف شدید تر عوامی ردعمل پیدا ہوا ہے، موجودہ مرکزی حکومت کیلئے دشوار ہے ۔ ایسے میں مرکز کی جارحانہ یلغار کا مقابلہ اور ریاستی عوام کے مفادات کا تحفظ کیسے کیا جائے، اس کا دور اندیشی اور گہری منصوبہ بندی پر مبنی نظریہ قیادت کے پاس نہیں ہے ۔اس مرحلے پر اس سوال پر بھرپوربحث ہونی چاہئے تھی کہ کیا ملی ٹنسی ، ہڑتالوں اور انتخابی بائیکاٹوں سے اس یلغار کا کامیابی سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور عوام کے مفادات اور ضروریات کا بھی تحفظ کیا جاسکتا ہے ۔ انتہائی ناسازگار حالات کے باوجود بھی بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان یہ ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے کہ سنگین ترین اور بے قابو حالات کو کوئی اہمیت نہیںدی جارہی ہے غالباً اس لئے کہ اس کے اثرات محدود ہیں اور اس خطے کو ہی اس کے حال پر چھوڑنے کی سٹریٹجی اختیار کی جارہی ہے جو ابتر حالات کا شکار ہے ۔اس کے مقابلے میں کونسی سٹریٹجی اختیار کی جاسکتی ہے، مخالف فریق نے اس بارے میں اگر کچھ سوچا ہے تو عوام اس سے بے خبر ہیں ۔
مین سٹریم جماعتوں نے خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیخلاف ایک کڑا موقف اختیار کیا تھا جو مزاحمتی قیادت کے موقف سے پوری طرح ہم آہنگ تھا ۔ایسے میں پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کا اعلان ہوا تو یہ الگ معاملہ نہیں تھا ۔ گو کہ دونوں قوتوں کے نظریات پوری طرح سے ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن دونوں جس زمین پر کھڑے ہیں ،اسی کی بقاء کا سوال سامنے ہے ،اس لئے کچھ معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل ریاست کے عوام کے ساتھ ساتھ دونوں کیلئے بہتر ہوتا کیونکہ ریاست پر آنے والی ہر آفت دونوں کی آفت ہے اور اگر عوامی مفاد ترجیح ہے تو اس موقعے پر عوام کے حالات کے ہر پہلو کو مدنظر رکھ کر ہی فیصلے کرنے ہوں گے ۔
 نیشنل کانفرنس نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا ۔ بائیکاٹ کا فیصلہ اتنی اہمیت نہیں رکھتا جتنی اہمیت اس شرط کو حاصل ہے کہ جب تک حکومت ہند دفعہ 35اے سے متعلق اپنی پوزیشن واضح نہیں کرتی اور عدالت و عدالت سے باہر اس کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی نیشنل کانفرنس انتخابات میں حصہ نہیں لے گی ۔اس طرح نیشنل کانفرنس نے ریاست کی خصوصی حیثیت کا علمبردار ہونے کا ایک ثبوت پیش کیا ہے ۔ اب میدان میں پی ڈی پی اور کانگریس ہے ۔ کانگریس کیلئے بائیکاٹ ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن اس سے زیادہ مشکل انتخاب میں شمولیت ہے۔پی ڈی پی کے لئے اب کوئی چارہ نہیں کہ وہ نیشنل کانفرنس کی پہل کی تقلید کرے ۔ یوں بھی اس کے لئے انتخاب لڑنا دشوار ہے کیونکہ جہاں اس جماعت کی زمین ہے وہاں سے اسے امیدوار ملنا بھی مشکل ہے ۔ گوکہ مین سٹریم جماعتوں کیلئے انتخابات اب لوہے کے چنے چبانے کے برابر ہیں اسی لئے وہ فرار کا راستہ اختیار کرنے کی راہیں تلاش کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ بات اہم ہے کہ مرکزی سرکار کو یکے بعد دیگرے ریاست کی خصوصی حیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے نتائج معلوم ہورہے ہیں ۔اب اس بات کے امکانات محدود ہوچکے ہیں کہ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا انعقاد ہوسکے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کے بعد مرکز کی سوچ میں کیا تبدیلی آسکتی ہے ۔
( بشکریہ ہفت روزہ نوائے جہلم سرینگر)
