دفعہ ۳۵؍ الف

یہ لڑائی ہے دیئے کی اور طوفان کی

11 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

علی اسرار
ہند کے دفعہ ۳۵ ؍الف کا معرکہ جموں کشمیر ریاست کے عوام کی آئینی جدوجہد کا محض ایک جز ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا میں ۳۵ ؍الف اور ۳۷۰؍ کی مثل پر پہلے بھی کئی بار تاریخیں لگ چکی ہیں اور ایک سے زائد مرتبہ ریاستی عوام کے حق میں ہی فیصلہ سنایا گیا تھا۔ اس سال کے اوائل میں بھی، آنریبل سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ آئین ہند کی دفعہ ۳۷۰؍ کو مستقل حیثیت حاصل ہے۔ اس وجہ سے ۳۵ ؍۱لف کو ہٹانا ناممکن ہوسکتا ہے لیکن عدالت عظمیٰ میں پھر بھی نئی عرضیوں پر کارئوائی جاری رکھی گئی ہے اور تاریخ پیشی کو کئی بار التوا ء میں ڈالنے کے بعد اب اس کیس کی شنوائی اگلے برس جنوری میںطے ہے۔ اس بارتاریخ تبدیلی کا سبب جموں کشمیر میں مجوزہ  پنچایتی انتخابات کی عمل آوری مانا گیا ہے۔ حا لانکہ پنچائت الیکشن کی ثانوی حیثیت ہوتی ہے،تاہم اگر ریاستی سرکار نئے سرے سے اسمبلی الیکشن کے انعقاد کو تاریخ پیشی ٹالنے کی وجہ بتاتی تو بہت حد تک دونوں میں مماثلت ہوجاتی، کیونکہ دفعہ ۳۷۰؍ کے معاملے میں مرکزی سرکار کا کوئی بھی ایکشن پلان ریاست کے قانون سازیہ کے حتمی فیصلے کی بنیاد پر ہی تیار کیا جاسکتا ہے۔ تاہم الیکشن کے ضمن میں نئی دلی سے لے کر سرینگر تک سبھی سیاسی حلقے با خبر ہیں کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا اسلام آباد(اننت ناگ) پارلیمانی حلقہ کیلئے ۲۰۱۷ء میں موخر کئے گئے چنائو دوبارہ منعقد کرانے کیلئے ابھی تک ’’سازگار حالات‘‘ انتظار طلب ہے۔ سرکار ہند پر یہاں تک بھی عیاں ہے کہ سال ۲۰۱۷ء میں ہی سرینگر پارلیمانی حلقہ سے کامیاب قرار پائے اُمیدوار ڈاکٹر فاروق کو محض چھ فیصد ووٹ ملے تھے۔ اگر انتخابات کا مقصد واقعی طور جمہوریت کی بنیادوں کو مستحکم بنانا ہوتا ہے تو اس مقصد کی آبیاری کیلئے ابھی تک بھی کشمیر کو ہموار میدان میں تبدیل نہیں کیا جا سکا ہے اور ماہ ِجنوری وارد ہوجانے تک بھی حالات میں سدھار لانا شائد ہی سرکار کے بس کی بات ہو ۔ سال رواں کے دوران ملی ٹینسی سے جڑی تصادم آرائیوں کی نوعیت ، تعداد اور ملی ٹنٹوں، عام شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکتوں سمیت دیگر نقصانات کے حوالے سے بھی زمینی حالات گزشتہ سال کے مقابلے میں ابتر ہونے کا ہی پتہ چلتا ہے۔ حالانکہ سرکاری ایجنسیوں نے پہلے سے طے اپنے اس مفروضے سے ہاتھ کھینچ لئے ہیں کہ وہ ’’اپنے ہی ناراض لوگوں‘‘ کے خلاف نبرد آزما ہے۔ اب گولی باری کی کسی بھی کاروائی کے دوران جیسے سرحد پر دشمن ملک کے خلاف ایکشن لیا جا سکتا ہے، اندرون میں بھی اُسی انداز سے حالات سے نمٹا جاتا ہے۔ یہ بات بھی اتنی ہی برحق ہے کہ کشمیر کے حالات دفعہ ۳۵ ؍الف کے موضوع بحث بنا ئے جانے سے بہت پہلے سے ناسازگار ہے ہیں اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کی تمام تر حکمتوں کے باوجود بھی سنبھالے نہیں جا سکے ہیں۔مانا کہ فوجی جمود کے بل پر وادی میں بھی ۱۹۸۳ء کے آسام ٹائپ انتخابات عمل میں لائے جاسکتے ہیں۔ وہاں اُس سال آسامیوں کے شدید تر ین بائیکاٹ کال کو نظر انداز کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات منعقد کرائے گئے تھے لیکن شاز ونادر ہی کوئی ایک اُمیدوارتین ہندسوںکے برابر ووٹ حاصل کرسکا تھا۔ چیف منسٹر سمیت وزارتی کونسل میں شامل کسی بھی ممبر کو سو برابر بھی ووٹ نہیں ملے تھے۔ انتخابات کی شکل کچھ بھی ہو، کسی بھی سطح کے چنائو فی الحال کشمیر کے کسی بھی زخم کا مرہم نہیں ہوسکتے ہیں۔ یوں یہ کہنا بھی بجا ہوگا کہ مختلف ادوار میں منعقدہ پولنگ مشغلے اس ریاست کے ماحول میں اضافی کھلبلی مچاتے ر ہے۔ اس کا سب سے بڑاسبب جمہوریت میں یقین رکھنے والے عوام کے اعتماد کو بار بار ٹھیس پہنچانا ہے۔الیکشن منعقد کرانے کیلئے جب کبھی سازگار ماحول میسر ہوا بھی، برسراقتدار حکمران اس خوشگوار ماحول سے اپنے اپنے ہاتھ گرمانے کی فکر میں لگنے کے علاوہ کچھ اور نہ سوچ سکے ، لیکن جب قیامت خیز مظالم اور غیر آئینی اقدامات کا شکار ووٹر لوگ روٹھ کر گھر بیٹھ جاتے ہیں تو حکمران اُنہیں کہیں للچانے کیلئے اور کہیں ڈرانے کیلئے طرح طرح کی ترکیبیں وضع کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ ایک الیکشن کے بعد نیا الیکشن تاریخ آنے تک عوام کو پہلے سے ملے زخم اور بھی زیادہ گہرے ہوتے رہے ہیں۔ اس بدقسمت ریاست کی الیکشن تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالنے سے اس نوعیت کا کچھ نہ کچھ سبق مل ہی جاتا ہے اور کم سے کم یہاں کے پُرامن عوام کو زور زبردستی سے ملی ٹینسی کا لباس پہنانے والے سرکاری کارندوں کو اَناپ شناپ بولنے میں کچھ نہ کچھ شرم محسوس ہوگی۔ اور جو افراد اور انجمنیں الیکشن عمل کو ہی کشمیریوں کے ہر درد کی دوا قرار دیتے ہیں، شاید سمجھ جائیں کہ کشمیری عوام کے ذہن کو پریشان کرنے کی سب سے بڑی وجہ وقت وقت پر الیکشن فراڈ کھیلنا بنتا رہاہے۔ انسان کو پرانی باتیں یاد رکھنے کیلئے مضبوط حافظہ چاہیے۔ فطرت کا بھی یہی تقاضا ہے اور ہم ستم رسیدہ لوگ بھی رستے زخموں کا درد سہتے سہتے جبر کی اس تاریخ کا صفحہ صفحہ بھلا چکے ہیں۔ ہم اپنے ستم گرووں سے اس بارے میں کیا شکوہ کریں؟  یہاںالیکشن معاملات کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے یہاں ۱۹۵۷ء اور ۱۹۶۲ء کے اسمبلی انتخابات خالص قوت بازو کے کھیل تھے۔ عوام کو ووٹ کا حق دلانے کے پس پردہ سرکارِ ہند کے ارادے کبھی بھی نیک نہیں تھے ۔ الیکشن نام کے ان معرکوں میںمٹھی بھر منظور نظر ووٹر ہی فوٹو سیشن کا مسالہ بنتے پھرتے تھے، جب کہ الیکشن ریکارڈ میں ووٹروں کی تعداد ہزاروں گنا بڑھا چڑھا کر درج کی جا تی تھی۔۱۹۶۲ء کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت کا دل اپنے ’’مرد آہن‘‘ کی وفاداریوں سے بھی بھر گیا تھا اور نظریں ’’قانون کی عمل آوری‘‘ کے قصے بیان کرنے والے جی ایم صادق پر مرکوز کردی گئی تھیں۔صادق جی کو جمہوریت کے کسی بھی ضابطہ سے گزرے بغیر نہ صرف وزیر اعظم جموں کشمیر کی کرسی نوازی گئی بلکہ اُس کو بخشی کانفرنس سے وابستہ تمام کے تمام ممبران اسمبلی بھی جیسے جہیز میں عنایت کئے گئے تھے۔یہی وہ ممبرانِ بخشی کانفرنس تھے جو کچھ لاٹھی کے خوف سے اور باقی پیسے کی جھنکار سے کانگریس کے ترازو میں تلنے پر تیار کئے گئے تھے۔ پھر اڑچن کیسی، قانون کی عمل داری کے سبز باغ دکھانے والے صادق جی نے اپنے آقائوں کے احسان کا صلہ چکانے کیلئے وزیر اعظم نام کا لیبل ہٹا کر وزیر اعلی کی کرسی میں سمانا قبول کرلیا تھا۔ صدر ریاست کے اختیارات بھی واپس لوٹا کر گورنر نام سے مرکز کے عنایت کردہ کسی بھی سیاسی، غیر سیاسی شخصیت کو ریاست کے آئین کا سربراہ مقرر ہونا تسلیم کیا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ریاست جموں کشمیر کو سپریم کورٹ آف انڈیا کی تحویل میں رکھنے کے اشٹامپ پر اپنا پنجہ بھی لگا دیا تھا۔ اندرونی ایڈمنسٹریشن کو بھی مرکزکی براہ راست تابعداری میں دینے کیلئے آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی الف ایس جیسے کیڈروں کے آفیسران کی خدمات حاصل کر لی تھیں لیکن ستم زدہ اور لوٹ مار کا شکار کشمیری عوام کے حق میں دلی سے کبھی کوئی ایک آواز تک نہیں سنائی دی تھی۔ سارا قصور سرکار کا ہوتا تھا لیکن لاٹھی عوام کے سر برسائی جاتی تھی۔ ریاست کی آئینی بالادستی کا جنازہ نکالتے وقت کسی کی طرف سے اُف تک نہیں کیا گیا تھا۔ لے دے کے زندگی کے آخری پڑائو پر صادق جی کو ہی یاد آیا تھا کہ مرکزی الیکشن کمیشن کی نیک نیتی اور انصاف پسندی قابل تعریف ہوتے ہوئے ریاستی نظام کے تحت منعقدہ فراڈ انتخابات کے ساتھ کیوںکر نبھاہ کیا جائے؟حکم ہوا کہ مرکزی الیکشن کمیشن کے دائرہ میں آنے کے بعد کسی کو بھی دھاندلیاں کرنے کا کوئی موقع میسر نہیں ہوگا۔ صادق جی سے کون پوچھ لیتا کہ وہ خود اور اُس کے سب کے سب ممبران قانون سازیہ بھی اسی مقامی الیکشن نظام کے تابع منعقدہ ووٹنگ عمل کی پیدا وار تھے اوراب جو اس غیر منصفانہ حکمت کو تسلیم بھی کیا تھا تو اپنی نشستوں اور عہدوں سے مستعفی بھی ہو جاتے ، لیکن اس طرح کا کوئی سوال اُٹھنے سے پہلے ہی ۱۹۷۲ء میں صادق کی موت واقع ہوگئی۔ پھر میر قاسم کو نئے وزیر اعلی ہونے کا حلف دلایا گیالیکن میر قاسم نے الیکشن کی مرکزی گائے کے تھنوں سے اپنے لئے وہی پرانے برانڈ کا گھی مکھن نکالا۔ حالانکہ تب تک ۱۹۷۱ء کی پاک بھارت جنگ اور شملہ سمجھوتہ طے ہوجانے کے نتیجے میں ریاست کے سیاسی فضاؤں میںکچھ نہ کچھ تبدیلی رونما ہونے لگی تھی اور عوام میں شامل ہر دل عزیز کچھ لیڈروں نے بھی ۱۹۷۲ء کے اسمبلی انتخابات میں شمولیت کرنے کی حامی بھر لی تھی لیکن وہ مرکز کی نظروں میں مشکوک تھے اور اُن پر الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی گئی اور کئی ایک کو الیکشن میں حصہ لینے کی خواہش رکھنے پر پابند سلاسل کیا گیا تھا۔ اس طرح سے کانگریس نے قومی الیکشن کمیشن کے لیبل چڑھا کر الیکشن عمل میں پھر سے غیر جمہوری کھیل کھیلا تھا۔۱۹۶۷ء اور ۱۹۷۲ء کے انتخابات کے دوران مفتی سعید خود بھی کانگریس کا سرگرم کارکن بن گیا تھا۔ وہ الیکشن دھاندلیوں کے نئے نئے دائو پیچ کھیلنے میں ماہر تھا۔ خالق میڈ ممبران اسمبلی کا خود ہی خالق بن گیا تھا اور مفتی کی ’’ الیکشن ہنرمندی‘‘ پر میڈم اندراگاندھی بھی نازاں نظر آتی تھیں۔ یہی وہ دور تھا جب ۱۹۷۵ء سے ۱۹۷۷ء کے دوران میڈم گاندھی کو ایمرجنسی نافذ کرنے پر عوامی غم و غصے کا زبردست سامنا کرنا پڑاتھا اور وہ ۱۹۷۷ء کے پارلیمانی الیکشن میں وہ خود بھی ہزیمت کا شکار ہوئیںاور کانگریس پارٹی کا بھی بیڑہ بھی وقتی طورغرق ہوگیا تھا۔اب مرارجی ڈیسائی کی قیادت میں بھارت میں جنتادل کی حکومت برسر اقتدار آگئی تھی ۔ ریاستی کانگریس پارٹی کے لیڈر کی حیثیت سے مفتی سعید نے شیخ محمد عبداللہ کی حکومت سے اپنی جماعت کا اعتماد واپس لے کر اپنی سربراہی میں نئی حکومت بنانے کیلئے گورنر سے رجوع کیا تھا لیکن گورنر ایل کے جہا نے مستعفی ہوئے وزیراعلیٰ کی سفارش کو منظور کرتے ہوئے اسمبلی کو برخواست کردیا اور اس طرح سے نئی حکومت بننے تک ریاست کو پہلی مرتبہ گورنر راج کی تحویل میں دیا گیا تھا۔
جولائی ۱۹۷۷ء میں الیکشن عمل مکمل ہوا اورشیخ محمد عبداللہ کی سربراہی میں نیشنل کانفرنس کو اسمبلی میں دو تہائی اکثریت مل گئی تھی۔مفتی سعید اس بار بھی اپنے آبائی حلقہ بیجبہاڑہ سے بری طرح سے ہار گیا تھا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد ۱۹۷۷ء میں یہ پہلی حکومت تھی جس کو عوام کے ووٹ کی بنیاد پرمنتخب کیا گیا تھا۔ اسی نوعیت کا ایک اور الیکشن ۱۹۸۳ء میں بھی منعقد ہوا تھا، جس میں فاروق عبداللہ کو بھی بھاری کامیابی ملی تھی۔ تاہم اندرا گاندھی کی جی حضوری نہ کئے جانے کے جرم میں اس حکومت کا گیارہ ماہ بعد ہی مفتی سعید کی کوششوں سے جنازہ نکالا گیا اور تب سے ریاست میں دوبارہ مرکز میڈ حکومتوں کا چلن شروع ہوگیا۔ ۱۹۸۳ء کے انتخابات میں میرواعظ مولانا مولوی محمد فاروق کی بلواسطہ شراکت داری کے نتیجے میں امید بندھی تھی کہ کشمیری عوام کو بھی سکھ چین کی کچھ گھڑیاں نصیب ہوں گی لیکن اندرا کی انا اور مفتی کی خود غرضی نے حالات کا پھر سے پانسہ پلٹ دیا تھا اور سیاسی افراتفری کا دوبارہ بول بالا ہوگیا تھا۔ اسی کے ساتھ فاروق عبداللہ کے ماتھے پر کانگریس کا لیبل چپکانے کے نتیجے میں فاروق کی سیاسی ساکھ بہت حد تک متاثر ہوئی تھی ۔ وہ ۱۹۸۷ء کے الیکشن کے دوران عوام سے کٹ کر رہ گیا تھا اور اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مفتی سعید نے ۱۹۸۷ء میں ہوئی الیکشن دھاندلیوں کی زور و شور سے ڈفلی بجا ئی ۔ حالانکہ وزیر اعظم راجیو گاندھی نے مفتی سعید کو ہی الیکشن انچارج مقرر کیا تھا۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرکے پی ڈی پی کے پلیٹ فارم سے ابھی تک بھی اس فراڈ الیکشن کی آوازیں بلند کی جاتی ہیں ۔ ۱۹۹۶ء کے انتخابات کے خلاف کشمیری عوام نے مثالی اور مکمل بائیکاٹ کیا تھا۔ تب حالات پر گورنر انتظامیہ کا کوئی کنٹرول باقی نہیں رہا تھا اور گورنر کی سفارش پر ضرورت کے مطابق الیکشن عملہ بھی بیرون ریاست سے منگوانا پڑا تھا۔بعض ذرائع کے مطابق اس الیکشن کیلئے سرینگر کے اکثر حلقوں میں ۴؍ فیصد کے آس پاس ووٹ ڈالے گئے تھے اور مضافات اور دیہی حلقوں میں بھی کوئی نمایاں فرق نہیں پایا گیا تھا۔ انتخابی نتائج کی بنیاد پر فاروق سرکار کا وجود عمل میں لایا گیا ۔ اس کے بعد۲۰۰۲ء میں اگرچہ پہلے کے مقابلے میںکچھ زائد ووٹروں نے الیکشن عمل میں حصہ لیا بھی تھا، تاہم مرکز کی کوششوں سے کشمیریوں کے ووٹ بنک کو پہلی مرتبہ بٹوارے کا شکار بنانے کی سازش جڑ پکڑ چکی تھی ۔ مظفر حسین بیگ کے مطابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے مبینہ طور پی ڈی پی کو درجن بھر نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے اور اقتدار میں لانے میں مدد کی تھی۔اب تک عوام کو اگر چہ ووٹ کی قیمت کا اندازہ ہو چکا تھا لیکن نتیجے اور نقصان سے بے خبر ووٹروں کو ووٹ کا بٹوارہ کرنے کی ترغیب بھی جڑ پکڑ گئی تھی۔ ووٹ کا بٹوارہ ہوجانے سے مرکزی حکومت کو ریاست کے اندرونی معاملات میں اور بھی زیادہ مداخلت کرنے کا موقع مل گیااور تب سے کسی نہ کسی مرکزی سیاسی جماعت کو یہاں کے اقتدار میں شامل ہوجانے کا موقع بھی ملتا رہا ہے۔ ۲۰۰۸ء میں امرناتھ شرائین بورڈ زمین منتقلی نام سے شروع عوامی ایجی ٹیشن کے دوران کوئی ۱۲۰؍ کشمیریوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا تھا، پھر جب سال کے آخر پر الیکشن عمل شروع کیا گیا، ووٹ کا پھر سے بٹوارہ کرنے کی ضرورت کو نظر انداز نہیں ہونے دیا گیا۔ کانگریس پہلے جہاں ۲۰۰۲ء سے پی ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت میں شامل تھی، اب ووٹ کے بٹوارے سے ۲۰۰۹ء سے فائدہ حاصل کرکے نیشنل کانفرنس کا ساجھی دار بننے کا موقعہ ملا تھا۔۱۹۱۲ء تک عمر عبداللہ حکومت کو عوامی دبائو اور نقصِ امن کا زبردست سامنا رہا تھا اور ملی ٹنٹوں اور سرکاری بندوق سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی تھیں ۔ سال بھر بعد ہی پھر سے الیکشن کا بگل بجنے سے قبل ریکارڈ توڑ سیلاب نے کشمیری عوام کی مشکلات میں زبردست اضافہ کردیا۔ پھر جب لوگ ووٹ دینے نکلے تو سیلاب کو روکنے میں ناکامی کا الزام عمر سرکار کے سر باندھا جانے لگا۔ پی ڈی پی نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے کھاتے سے بھی سیاسی منافع کمایا اور بی جے پی کے بڑھتے قدموں کو روکنے کی دہائی دے دے کر بھی ووٹروں کو اپنے جال میں پھانسنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ تاہم پی ڈی پی نے دونوں محاذوں پر لغو بیانی کر کے عوام کا اعتماد حاصل کیا تھا۔اس پارٹی کے قائدین نے عوام کو جن قدموں کی آہٹ سے ڈرایا تھا اور زبردست خوف کا ماحول پیدا کیا تھا، حصول کرسی کیلئے خود اُنہی قدموں  تلے بیٹھ کر اور ہاتھ باندھے اقتداری ہوجانے کا حکم نامہ وصولنے کے انتظار میں بنے رہے تھے۔،لیکن جھوٹ اور فریب کو کب تک چھپایا جاسکتا تھا۔ مفتی سعید کی سرکار بننے تک لوگ سمجھ گئے تھے کہ اُن کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں سر زمین کشمیر کو پھر سے نوجوانوں کے خون سے لالہ زار میں تبدیل کیا گیا ہے۔ جو سرکار دو سال کے طویل عرصہ کے دوران ایک پارلیمانی حلقے میں الیکشن کا انعقاد نہ کرسکی، اب کس بنیاد پر ساری ریاست میں پنچایتی انتخابات عمل میں لانے کی ڈھولکی بجا ئی جا رہی ہے؟ یہ پارٹی کس منطق کی بنیاد پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویزیں دے رہی ہے، فی الحال پوری ریاست کا نظام مرکز کے نامزد گورنر کے ہاتھوں میں دیا جاچکا ہے۔ پھر پنچایتوں اور دیگر لوکل باڈیز کے الیکشن عمل میں لانے کی جلدباز ی کیوں؟ ریاستی انتظامیہ نے کم اہمیت کے اس مسٗلے کو کیونکر انصاف کی فراہمی کے راستے کا پتھر بنادیا ہے؟ کیا سرکار نے وادی بھر میں کئی دنوں کیلئے ہڑتال، مظاہروں اور عوامی اضطراب کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا؟ الیکشن دل کے کسی بھی درد کا علاج نہیں ہوسکتا ہے اور ابھی الیکشن عمل آوری کی شاید ہی کوئی جلدی تھی۔ 

 
 

تازہ ترین