تازہ ترین

پیٹرولیم کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ

کانگریس اور سی پی آئی ایم نے احتجاجی مظاہرے کئے

11 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر//ریاستی کانگریس اور سی پی آئی ایم نے مہنگائی کے خلاف علیحدہ علیحدہ احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کرنے اور نجی تیل کمپنیوں پر عائد ٹیکس کو کم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔پردیش کانگریس نے پارٹی ہیڈ کواٹر سے پارٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میر کی قیادت میں احتجاجی جلوس برآمد کیا جس کے دوران مرکزی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔مظاہرین نے ٹی آر سی تک مارچ کیاجبکہ جلوس میں پارٹی کے سابق صدر پیرزادہ محمد سعید،تاج محی الدین،غلام نبی مونگا،محمد انور بٹ، محمد مظفر پرے، فاروق اندرابی،ایس ایس چنی، شمیمہ اقبال، غلام نبی میر لسجن، عبدالغنی خان اور دیگر لوگ شامل تھے۔غلام احمد میر نے نریند مودی کی سربراہی والی حکومت کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق اندھیرے میں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پیٹرول،ڈیزل، کھانے پکانے کے گیس اور دیگر چیزوں پر خطرناک ٹیکس عائد کرنے کی وجہ سے قیمتیں آسمان کو چھو گئی۔اس دوران  سی پی آئی ایم اور ریاستی کانگریس نے مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔سی پی آئی کے کارکن پارٹی کے سینئر لیڈر اور ممبر اسمبلی کولگام کی قیادت میں پریس کالونی لالچوک میں جمع ہوئے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف نعرے بلند کئے۔مظاہرین نے بینر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے،جن پر’’ بی جے پی کی سربراہی والی حکومت اور سرکار کی کسان و غریب مخالف پالسیوں‘‘ کے خلاف نعرے درج تھے۔اس موقعہ پر  خطاب کرتے ہوئے محمد یوسف تاریگامی نے کہاکہ لوگ پہلے سے ہی اشیایہ  ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جن پر پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھنے والی قیمتوں نے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ اس کیلئے مودی حکومت ذمہ دار ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کروڑو لوگوں کی زندگی پر برا اثر پڑاہے ۔تاریگامی نے کہاکہ روپے کی گرتی قیمت سے بھی یہ پتہ چلتاہے کہ بھاجپا حکومت نے ملک کو کس طرح سے معاشی بحران سے دوچار کیاہے ۔تاریگامی کاکہناتھاکہ جموں وکشمیرمیں بے روزگاری ، کیجول ورکروں اور دیگر سکیم ورکروں کو اجرت نہ دینا ، ایس ایس اے ٹیچروں کے مسائل حل کو حل کرنے سے انکار پچھلے چار برسوں کاوطیرہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بڑھاپے کی فلاح و بہبود کیلئے چلائی جارہی دیگر پسماندہ جات والی سکیمیں بالکل ناکارہ پڑی ہوئی ہیں جبکہ مختلف محکمہ جات میں کام کرنے والے کیجول ورکروں کے ساتھ بھی نارواسلوک اختیارکیاگیاہے ۔