تازہ ترین

پی ڈی پی کا چناؤ بائیکاٹ کا فیصلہ

گورنر لوگوں کی منشاء کے برعکس فیصلہ پر نظر ثانی کریں:محبوبہ

11 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر// نیشنل کانفرنس کے بعد پی ڈی پی نے بھی بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ کو اس مرحلے پر لوگوں کی منشا ء کے برعکس انتخابات کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔پی ڈی پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ کے بعد سابق وزیر اعلیٰ اور پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ انکی جماعت کچھ عرصہ سے ریاست کی سیاسی صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہے،اور اس تناظر میں پارٹی نے کئی سطحوں پر اپنے سنیئر لیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں آرٹیکل35اے سے متعلق کیس کو پنچایتی و بلدیاتی انتخابات کے ساتھ جوڑنے کی وجہ سے لوگوں کے اذہان میں خدشات پیدا ہوئے ہیں،اور لوگ اس کو ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت پر حملہ تصور کرتے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارٹی نے متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ اس موڑ پر پی ڈی پی کسی بھی طرح کی انتخابی عمل سے دور رہے گی۔ انہوں نے سرکار کو مشورہ دیا کہ لوگوں کی مرضی کے بغیرموجودہ حالات میں بلدیاتی انتخابات کے فیصلے کا سر نو جائزہ لیا جائے،اور اس کے بدلے اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ انکی جماعت یہ محسوس کرتی ہے کہ ریاست کی خصوصی حیثیت،جموں کشمیر کے لوگوں،سماج اور جمہوری نظام کے وجود کا مسئلہ ہے۔پی ڈی پی صدر نے کہا’’ خوف اور خدشات کے موجودہ ماحول میںکسی بھی انتخابی عمل کی کوشش،ان اداروں اور عمل کے اعتماد کو سخت زک پہنچائے گی،اور یہ اس مقصد(انتخابات) کی ناکامی ہوگی‘‘۔ ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس وقت ماحول ساز گار نہیں ہے اور ہر سو خوف و ہراس کے حالات ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہاانتخابات سے فرار ہونا اگرچہ عقلمندی نہیں ،تاہم سابق مخلوط سرکار کے دوران بھی جب یہ معاملہ سامنے آیا تھا، تو اس وقت واضح کیا گیا تھا کہ انتخابات کیلئے ماحول ٹھیک نہیں ہے،جبکہ بعد میں آرٹیکل35اے کے معاملے نے ماحول کو مزید خراب کیا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم لوگوں کے پاس ووٹ مانگنے کس منہ سے جائیں،کیونکہ ہرسو عدم تحفظ کا ماحول ہے‘‘۔محبوبہ مفتی سے جب پوچھا گیا کہ مین اسٹریم جماعتوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے،دیگر لوگ انتخابی دنگل میں کود سکتے ہیں،تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ کچھ ایسے عناصر بھی سامنے آئیں گے،جو سماج دوست نہیں ہیں،تاہم فی الوقت سب سے بڑا مسئلہ آئین ہند کی شق35A کاہے،اور وہی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی سیاسی سطح پر دفعہ35اے کا دفاع کرے گی۔محبوبہ مفتی نے کہا’’ بطور وزیر اعلیٰ میں نے وزیر اعظم ہند سے ملاقات کی تھی،اور ان پر واضح کیا تھا کہ اگرآرٹیکل35اے کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی توپی ڈی پی حکومت سے علیحدہ ہوجائے گی‘‘۔قومی سلامتی صلاح کار اجیت دوول کی طرف سے ریاستی آئین سے متعلق بیان پر ردعملل طاہر کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے کہا’’جس کسی نے بھی ایسا بیان دیا،اس نے جلتی آگ میں پیٹرول چھڑکنے کا کام کیا‘‘۔ محبوبہ نے واضح کیا کہ ریاستی عوام دفعہ35اے اور ریاست کی خصوصی حیثیت کی دفاع کیلئے کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا ’’دفعہ35 اے میں اگر زیر و زبر کا بھی اضافہ کیا گیا تو اس کے خلاف پی ڈی پی لڑے گی،کیونکہ یہ ہماری وجود کا معاملہ ہے‘‘۔ راج بھون میں اردو اخبارات کی ترسیل پر پابندی عائد کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا ہے،تو یہ افسوناک ہے،کیونکہ یہ ریاست کے تشخص کا معاملہ ہے،اور اردو یہاں کی سرکاری زبان ہے، ریاستی گورنر اس فیصلے کا سر نو جائزہ لیں۔
 

اعلانیہ بغاوت کرنیوالے جاوید بیگ کی گھرواپسی 

بلال فرقانی
 
سرینگر//عمران انصاری، عبدالمجید پڈر اور دو ممبران قانون سازکونسل کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں محبوبہ مفتی پرپارٹی میں خاندانی راج پروان چڑھانے کاالزام عائدکرنے والے ممبراسمبلی بارہمولہ جاوید بیگ نے سوموارکی صبح گپکارروڑپرمنعقدہ پی ڈی پی میٹنگ میں شرکت کی ۔معلوم ہوا ہے کہ جاویدبیگ کی واپسی میںسینئرلیڈرمظفرحسین بیگ کاعمل دخل ہے۔ذرائع نے بتایاکہ حالیہ دنوں میں جاویدحسین بیگ نے پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی کیساتھ ملاقات بھی کی ،اورصلح صفائی کے بعدسوموارکووہ محبوبہ مفتی کی زیرصدارت پارٹی کے سینئرلیڈروں ، ممبران قانون سازیہ اورعہدیداروں کی میٹنگ میں شامل ہوئے ۔خیال رہے19جون2018کومخلوط سرکارٹوٹنے کے بعدعمران انصاری ،عابدانصاری ،جاوید بیگ ،عبدالمجیدپڈر،محمدعباس وانی ،ممبرقانون ساکونسل سیف الدین بٹ اوریاسرریشی نے پارٹی قیادت بالخصوص محبوبہ مفتی کیخلاف اعلانیہ بغاوت کی تھی ۔