تازہ ترین

بڑھتی مہنگائی پر کانگریس کے بھارت بند کا ملا جلا اثر

۔21مختلف سیاسی پارٹیوں نے اپنی حمایت دی ، مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف متحدہوکر لڑنے کی ضرورت: اپوزیشن

11 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی//پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف کانگریس کے اعلان پر  بھارت بند کا ملک کی مختلف ریاستوں میں ملا-جلا اثر رہا۔ متعدد ریاستوں میں دوران بند توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ بند کو 21مختلف سیاسی پارٹیوں نے اپنی حمایت دی  حاصل تھی ۔قومی دارالحکومت دہلی میں کانگریس صدر راہل گاندھی کی قیادت میں اہم اپوزیشن پارٹیوں نے دہلی میں راج گھاٹ سے رام لیلا میدان تک ریلی نکالی۔ریلی کے رام لیلا میدان پر پہنچنے کے بعد وہاں دھرنا دیا گیا۔دھرنے میں ترقی پسند اتحاد(یوپی اے )کی سربراہ سونیا گاندھی ،سابق وزیراعظم من موہن سنگھ،کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل،نیشنلسٹ کانگریس کے صدر شرد پوار،جنتا دل(یونائیٹیڈ)کے لیڈر شرد یادو ،عام آدمی پارٹی کے لیڈر کے سنجے سنگھ،ترنمولکانگریس کے لیڈر سوکھیندو شیکھررائے اور دیگرلیڈر شامل ہوئے ۔بہار میں بھارت بند کی حمایت میں کانگریس،راشٹریہ جنتا دل(آرجے ڈی)،ہندوستانی عوام مورچہ(ہم)،جن ادھیکار پارٹی(جاپ) ،سماجوادی پارٹی (ایس پی) اور لوکتانترک جنتا دل(ایل جے پی) کے لیڈر اور کارکنان صبح سے ہی سڑکوں پر اتر آئے ۔بند کے حامیوں نے کئی مقامات پر سڑک اور یلوے ٹریفک روکنے اور دکانوں کو بند کرانے کی کوشش کی۔جاپ کے کارکنان نے راجیندر نگر ٹرمینل پرمشرقی وسطی ریلوے کے ملازمین کو حاجی پور لے جانے والی بس کے شیشے توڑ دئے ۔پٹنہ میں بند حامیوں نے ڈاک بنگلہ چوراہے پر مظاہرہ کرکے روڈ ٹریفک میں رکاوٹ پیدا کردی اور کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دئے ۔ریاست کے دانا پور،بیلی روڈ اور منیر میں سڑک پر ٹائر جلاکر ٹریفک میں رکاوٹ پیدا کی۔گیا،جہان آباد،دربھنگہ،کٹیہار،سمستی پور،ارریا،کشن گنج اور دیگر اضلاع میں بند کا وسیع پیمانے پر اثر دیکھا جارہا ہے ۔تمل ناڈومیں عام لوگوں کے معمولات زندگی پر بند کا اثر نظر نہیں آیا۔بند کے دوران دکانیں اور کاروباری ادارے کھلے رہے ۔بسیں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول سے چلتے رہے ،حالانکہ کیرالہ اور کرناٹک جیسی پڑوسی ریاستوں کے درمیان چلنے والی انٹر اسٹیٹ بسیں احتیاط کے طورپر تمل ناڈو کی سرحد تک ہی چلائی گئیں۔اسکول-کالج اور تعلیمی ادارے کھلے رہے اور سبھی سرکاری دفاتر،بینکوں اور دیگر تجارتی اداروں میں روزانہ کی طرح کام کاج ہوا۔صحت ،بجلی،دودو اور دیگر خدمات جاری رہیں۔ریاست میں کئی مقامات پر اکا دکا واردات کی رپورٹ ملی ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو عوام مخالف بتاتے ہوئے اسے بے حس قرار دیا ہے اور کہا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے باہر کرنے کے لئے ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے یواین آئی