تازہ ترین

حق خودارادیت کے مطالبہ پر لوٹنے کیلئے این سی سے انجینئر رشید کی اپیل

10 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر//دفعہ35Aاور370سے متعلق نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے تازہ موقف کا خیر مقدم کرتے ہوئے عوامی اتحاد کے سربراہ انجینئر رشید نے نیشنل کانفرنس سے جموں کشمیر کے لوگوں کیلئے حق خود ارادیت کے اپنے اصل مطالبے پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا’’حقائق نے ثابت کیا ہے کہ 1975میں اندرا-عبداللہ ایکارڈ کے بعد تحریک رائے شماری کا ختم کیا جانا ایک ہمالیائی غلطی تھی اور اگر مرحوم شیخ عبداللہ نے استقامت دکھائی ہوتی تو حالات یکسر مختلف ہوتے‘‘۔انجینئر رشید نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے بلدیاتی اداروں، اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ خوش آئیندہ تو ہے ہی البتہ ساتھ ہی یہ اپنے آپ میں اس بات کا اعتراف ہے کہ عوام کے بائیکاٹ کے باوجود 1996میں فوج کے بل پر کرائے گئے عام انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی شرکت ایک بہت بڑی غلطی اور ہندوستان کے حق میں ایک ’’ٹرننگ پوائینٹ‘‘تھا۔انہوں نے کہا کہ بعدازاں انتخابات میں شرکت لوگوں کی ایک مجبوری بن گئی اور انہوں نے نا چاہتے ہوئے بھی اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل کیلئے اس عمل میں حصہ لینا شروع کیا۔تاہم انجینئر رشید نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو لیکر ایک دوسرے پر الزام لگانے سے کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے اور اگر فاروق عبداللہ اور انکے ساتھیوں کو نئی دلی کی ’’کشمیریوں کواستعمال کرو اور پھینک دو‘‘کی پالیسی سمجھ آئی ہے تو اس تبدیلی کا خیر مقدم کیا جانا چاہیئے۔البتہ انجینئر رشید نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ فاروق عبداللہ اور انکی پارٹی اس تبدیل شدہ اور مبنی بر حقیقت موقف پر ثابت قدمی دکھائے۔انہوں نے کہا’’فاروق عبداللہ کا دفعہ35Aکے دفاع میں کھڑا ہونا وہی ہے کہ جو ہر کشمیری کی آواز ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مختلف الخیال سیاسی پارٹیاں نئی دلی کو 70سال پرانے مسئلہ کشمیر کے متنازعہ و معلق مسئلے کو حل کرنے پر کس طرح آمادہ کرے۔چونکہ نیشنل کانفرنس نے 1947سے کشمیری کی پوری تاریخ میں،اچھا یا برا، ایک اہم رول نبھایا ہے لہٰذا یہ پارٹی ریاستی عوام کی خواہشات سے واقف ہے جن کا احترام اس پر واجب ہے۔وقت آگیا ہے کہ نیشنل کانفرنس وقت گذاری کے سبھی نعروں کو ترک کرکے لائن آف کنٹرول کے دونوں حصوں میں رائے شماری کے اپنے اصل ایجنڈاپر واپس لوٹ آئے‘‘۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے فاروق عبداللہ سے تازہ موقف پر ثابت قدمی دکھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اٹانومی کے فرسودہ نعرے کو چھوڑ کر تحریکِ رائے شماری کو بحال کرنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ ایسے میں نہ صرف عوامی اتحاد پارٹی اور دیگر ہم خیال پارٹیاں ہی نیشنل کانفرنس کی حمایت کرینگی بلکہ ہر قوم پرست کشمیری انکی آواز کو مضبوط بنانا چاہے گا۔البتہ انجینئر رشید نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگ سیاسی طور کافی بالغ النظر ہوچکے ہیں اور انہیں دہائیوں قبل کے حالات کی طرح دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ہے بلکہ وہ اگر اچھا کہنے اور کرنے پر کسی بھی لیڈر کی حمایت کرسکتے ہیں تو ایک موقف پر قائم نہ رہنے والوں کو بروقت رد بھی کرسکتے ہیں۔