تازہ ترین

۔2دن کیلئے گھروں سے باہر نکالے گئے

بور کیرن کے36کنبے 28برسوں سے دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور،دادرسی کون کرے؟

10 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
 سرینگر//90کی دہائی میں اپنے آشیانوں سے بے گھر کئے گئے بور کیرن کے متاثرین 28برس بعد بھی بازآبادکاری او ر نقل مکانی کی اسناد سے محروم ہیں تاہم محکمہ باز آباد کاری نے ایک مرتبہ پھر پلو جھاڑتے ہوئے کہا کہ اُن کی فائل کو جانچ کیلئے سکریننگ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے اور کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد ہی اُس پر عمل کیا جائے گا ۔معلوم رہے کہ بور کیرن کے لوگوں کو ’’8دسمبر 1990کو فوج نے انہیں رات کو 12بجے یہ دلیل دے کر اپنے گھروں سے باہر نکالا کہ یہاں سیکورٹی صورتحال ٹھیک نہیں اور آپ کو 2دن کیلئے گھروں سے باہر جانا ہو گا‘۔تاہم دو دن کیلئے گھر سے بے گھر ہوئے افراد 28برس بعد بھی اپنے آشیانوں میں داخل نہیں ہو سکے ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے 28برسوں سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔انہوں نے ڈی سی آفس سے لیکر سیاسی لیڈران اور عہدیداران کے دروازے بھی کھٹکھٹائے ہیں لیکن اُن کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ سال جموں میں جاری اسمبلی سیشن کے دوران پی ڈی پی بے جے پی سرکار نے لوگوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے بے گھر ہوئے افراد کی باز آبادکاری کیلئے سرکار سنجیدہ ہے اور ایسے لوگوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور اُس کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا ۔معلوم رہے کہ 13اکتوبر1992کو منعقدہوئی 8ویں سٹیٹ کیلامٹی فنڈ میٹنگ کی سفارشات کی بنا پر11جنوری 1993کو ایک آرڈرزیر نمبر Rev (ER)/113/1993کے تحت ان متاثرین کے حق میں ریلیف پیکیج منظور کیاگیا جس کے تحت متاثرین کو ماہانہ 10روپے فی نفری اور زیادہ سے زیادہ 1000روپے ، ماہانہ9کلوگرام راشن فی نفر، 2کلوگرام فی نفر ماہانہ آٹا اور 1کلوگرام چینی فی کنبہ ، کیمپوں میں مفت طبی اور شہری سہولیات، مفت بجلی پینے کا صاف پانی، فراہم کئے جاتے رہے ہیں تاہم یہ سہولیات مئی2001 کے بعد نامعلوم وجہات کی بنا پر بند کر دی گئیں ۔لوگوں کے احتجاج اور مطالبہ کے بعد ان کنبہ جات کے اندراج کا معاملہ سکریننگ کمیٹی کی 29جنوری2018کو منعقد ہوئی میٹنگ میں زیر بحث لایاگیا جس میں یہ فیصلہ کیاگیاکہ ان کنبہ جات کی مجموعی صورتحال میں روزگار، موجودہ رہائش گاہ، غیر منقولہ جائیدادکی صورتحال بارے مکمل تفصیل ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ سے مانگ کی گئی ہے تاکہ کسی منطقی انجام تک پہنچا جاسکے تاہم پچھلے کئی برسوں سے ضلع ترقیاتی کمشنروں نے اس حوالے سے کئی بار سرکار کو رپوٹ بھی پیش کی لیکن معاملہ ابھی بھی جوں کا توں ہے اور لوگ برسوں سے انصاف کے منتظر ہیں ۔انتظامیہ کے مطابق 8جولائی 2008کو فائنانشل کمشنر(ریونیو)جموں وکشمیرکے فیصلہ کے مطابق 9کنبہ جات کے حق میںیکمشت ریلیف منظور کی گئی۔ اس میں تین کنبوں کے حق میں1لاکھ 30ہزار فی کس اور باقی چھ کے حق میں ایک ایک لاکھ روپے منظو رہوئے ہیں تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ ابھی 27کے قریب کنبے کی باز آبادکاری نہیں کی گئی ہے ۔امداد وباز آبادکاری کے کمشنر M) (نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بور کے لوگوں کی فائل سکریننگ کمیٹی کو بھیج دی گئی ہے اور اب کمیٹی کو ہی اُس پر فیصلہ لینا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں ہی ایک میٹنگ ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار ایسے لوگوں کی باز آباد کاری کیلئے وعدہ بند ہے اور ہم اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے متاثرین کو امداد فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بور کے بے گھر لوگوں کو فوج کی طرف سے زمین کا معاوضہ مل رہا ہے البتہ وہ اپنے گھروں سے بے گھر ہیں اس لئے مایوسی کا سامنا کر رہے ہیں تاہم اُن کی فائل سکریننگ کمیٹی کو روانہ کر دی گئی ہے ۔