تازہ ترین

بارہمولہ کے کئی علاقوں میں متعدد واٹر سپلائی اسکیمیں برسوں سے تشنہ تکمیل

فلٹریشن پلانٹ اور پائپیں خستہ حال ،لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ،بیماریوں کا خطرہ

10 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

فیاض بخاری
 
بارہمولہ//بارہمولہ کے کئی علاقوں میں سینکڑوں واٹر سپلائی اسکیمیں کئی دہائیوں سے تشنہ تکمیل ہیں،جبکہ کئی جگہوں پر فلٹریشن پلانٹ اور پائپیں خستہ حال ہوچکی ہیں جس کے نتیجے میں ضلع میں پینے کے صاف پانی کو لیکر ہر سو ہا ہا کار مچی ہوئی ہے  اور مقامی لوگوں کو پانی کی عدم دستیابی کو لیکر سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔بارہمولہ ،پٹن ،سوپور ،ٹنگمرگ ،رفیع آباد ،نارواو ،بونیار اور اوڑی کے سینکڑوں دیہات کے لوگوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں و اٹر سپلائی اسکیموں کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوپارہا ہے کیونکہ ان علاقوں میںکہیں  10 تو کہیں15 سال گذرجانے کے باوجود بھی اسکیموں کا کام مکمل نہیں ہوپایا ہے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگا تے ہوئے کہاکہ محکمہ پی ایچ ای کے کچھ انجینئر وںکے ساتھ ساز باز کرکے ٹھیکیدار اپنی بلیں واگذار کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں،لیکن ان دیہات کے لوگ صاف پانی کے ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں ، جس وجہ سے لوگ گندہ اور ناصاف پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس سے مہلک بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خطرہ لاحق ہے۔نارواو کے ایک مقامی شہری غلام حسن بٹ نے کشمیر عظمیٰ بتایا کہ علاقے  میں دس سال قبل کئی  واٹر سپلائی اسکیموں پر کام شروع کیا گیا تھا جن پر کروڑوں روپے کی لاگت آئی۔ تاہم ان واٹر سپلائی اسکیموں کو پورا کرنے کیلئے ٹھیکیداروں کو الگ الگ کام سونپے گئے تھے ۔ کئی ٹھیکیدار کو واٹر ریزروائر تعمیر کرنا تھا، کئی ٹھیکیدار کو پائپیں بچھانی تھی لیکن 10سال مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک یہ واٹر سپلائی اسکیمیں مکمل نہیں ہوپائی  جس کی وجہ سے علاقے  کے درجنوںیہات کے لوگ ابھی بھی صاف پانی سے محروم ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ انہوں نے اس سلسلے میں کئی بار متعلقہ محکمہ کو مطلع کیا  تاہم انہوں نے لوگوں کی گذارشات کا کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا ۔ لوگوں کے مطابق اگر چہ سرکاری خزانہ سے رقومات واگذارکی جاچکی ہیں لیکن کام ابھی بھی مکمل نہیں ہوپایا ہے۔ متاثرہ دیہات کے لوگوں نے گورنر انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے علیٰ آفسران سے مطالبہ کیا ہے کہ ان علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں کی تکمیل میں تاخیری کے معاملے کی انکوائری عمل میں لاکر ملوث افسروں اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کے حوالے درپیش مشکلات سے نجات مل سکے۔  اس سلسلے میں اسسٹنٹ اگزیکیٹیو انجینئر بارہمولہ عبدالاحد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ دراصل  رقومات کے واگزاری میں دیری کی وجہ سے ان واٹر سپلائی اسکیموں پر کام رُکا پڑا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت ان اسکیموں پر کام جاری ہے اور اُمید ہے کہ چند مہینوں کے اندراندر باقی کام مکمل کیا جائے گا۔