۔220کے وی ترسیلی لائن بچھانے کا شاخسانہ

گاندربل ضلع کے جنگلات تہہ تیغ، 11کمپارٹمنٹوں میں سرسبز درخت کاٹنے کے سرکاری احکامات

10 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

غلام نبی رینہ

 صرف 2کمارٹمنٹوں میں 396درخت کاٹے جائیں گے

 
کنگن//کنگن اور گاندربل میں بجلی کی ترسیلی لائن پہنچانے کیلئے جنگلات کے درختوں کی بے تحاشہ کٹائی جاری ہے اور قابل افسوس امر یہ ہے کہ حکام خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، جیسے کچھ نہیں ہورہا ہے۔ریاستی فاریسٹ ایکٹ کے مطابق سرسبز جنگلات کو بچانے کیلئے ان جنگلات کے نزدیک بستیوں کو ہٹانے کیلئے بڑے پیمانے پر مہم چلا ئی گئی ،اور جنگلات کے نزدیک کسی بھی طرح  کے کٹائو کو روکنے کیلئے ہر طرح کی تعمیراتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہے۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کنگن علاقے میں کچھ اور ہی قانون لاگو ہے۔کشمیر عظمیٰ کومعلوم ہوا ہے کہ لداخ سے آلسٹینگ علاقے تک220کے وی ترسیلی لائن بچھا ئی جا رہی ہے،جس کی وجہ سے گاندربل کے سندھ جنگلاتی رینج کے درجن بھر کمپارٹمنٹوں میں سرسبز درختوں کو نیست و نابود کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ترسیلی لائن کی زد میں سندھ فارسٹ ڈویژن گاندربل کے کمپارٹمنٹ نمبر،68, 22, 23A, 23B, 23C, 27, 28, 37,  65A, 5B  اور63Aشامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کے پاس یا تو عملے کی کمی ہے یا پھر کوئی ساز باز ہے جس کی وجہ سے ان کمپارٹمنٹوں میں سر سبز درختوں کی بے دریغ کٹائی صرف نظر کی جارہی ہے۔اگر چہ فارسٹ پروٹیکشن فورس سے بھی مدد طلب کی گئی ہے تاہم یہ عمل بھی بے سود دکھائی دے رہی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان جنگلات میں درختوں کی اس تعداد میں کٹائی کی وجہ سے ماحولیات میں بھی عدم توازن پیدا ہونے کا احتمال ہے،جس کا خمیازہ بھی مقامی آبادی کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ ایک مقامی باشندے نظام الدین ٹھیکری نے بتایا کہ ایک طرف محکمہ جنگلات کے اہلکار بالن کیلئے سوکھی لکڑیاں چننے کی بھی اجازت نہیں دے رہے ہیں،اور دوسری جانب اس پیمانے پر پیڑوں کی کٹائی ہو رہی ہے،جو معنی خیز ہے۔ مشتاق احمد بجاڈ کا کہنا تھا کہ وہ بجلی کی ترسیلی لائن پہنچانے کے خلاف نہیں ہیں،تاہم اس کیلئے کوئی اور متبادل راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے،جس سے جنگلات صفایا  ہونے سے بچ سکیں۔فارسٹ آفیسر گنہ ون عبدالغنی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 220KVترسیلی لائن کی زد میں آنے والے درختوں کی کٹائی کا کام سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن کو سونپ دیا گیا ہے لیکن درختوں کی کٹائی کے دوران محکمہ جنگلا ت اور فارسٹ پروٹکشن فورس کے اہلکاروںکو ان جگہوں پر صرف نگرانی کرنے کے لئے تعینات رکھا گیا ہے تاکہ جن درختوں کی پہلے ہی مارکنگ کی گئی ہے ان درختوں کے علاوہ دوسرے درختوں کی کٹائی نہ کی جائے۔عبدالغنی کا کہنا تھا کہ 22C اور 23C کمپارٹمنٹوں سے 396درختوں کی کٹائی  ہوگی اور یہ کام جاری ہے ۔ادھر ماہرین ماحولیات بھی گاندربل کے جنگلاتی علاقے میں درختوں کی اس قدر بے دریغ کٹائی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ان ماہرین کا کہنا ہے کہ درختوں کے کٹائو کی وجہ سے ماحولیات کیلئے حساس علاقے میں توازن بگڑنے کا خطرہ ہے۔
 

تازہ ترین