تازہ ترین

بلدیاتی چناؤ کا انعقاد غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کی تجویز

حکومتی حلقوں میں سنجیدہ غور و فکر، عنقریب پتہ چلے گا:چیف الیکٹورل آفیسر

10 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

عمر مقبول
 
سرینگر//ریاستی حکومت بلدیاتی انتخابات غیر سیاسی و غیرجماعتی بنیادوں پر منعقد کرنے کیلئے پر تول رہی ہے تاکہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ممکنہ طور پر عدم شرکت کے اثرات کو زائل کیا جاسکے۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی طرف سے بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان اور پی ڈی پی کی ان انتخابات میں شرکت پر مخمصہ کے بعد غیر سیاسی اور غیر جماعتی سطح پر  بلدیاتی انتخابات منعقد کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا’’ہم اس خیال پرسنجیدگی کے ساتھ غور و فکر رہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کو غیر سیاسی بنیادوں پرمنعقد کرئے جائیں، کیونکہ جب بڑی سیاسی پارٹیوں نے اس عمل سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس میں کوئی دانائی نہیں ہے کہ انتخابات کو سیاسی بنیادوں پر منعقد کرایا جائے‘‘۔اس معاملے پر چیف الیکٹورل افسر شالن کابرا نے ردعمل پیش کرنے سے معذرت ظاہر کرتے ہوئے کہا’’ اس معاملے میں آپ کو عنقریب پتہ چلے گا‘‘۔ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ حکومت نے چنائو کرانے کا حمتی فیصلہ کیا ہے، اس امر کے باوجود کہ این سی نے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا ’’ سوموار سے چنائو کے شیڈول کا اعلان کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے کیونکہ نئی دہلی اس بات میں سنجیدہ ہے کہ زمینی سطح کے ادارے مضبوط ہوں ‘‘۔جموں کشمیر میں مجموعی طور پر79 بلدیاتی ادارے ہیں، جبکہ سرمائی اور گرمائی دارالحکومت میں میونسپل کارپوریشن ہیں۔وادی میں41 بلدیاتی اداروں میں20 بلدیاتی ادارے جنوبی کشمیر کے4 اضلاع میں ہیں،جہاں سرکار ضمنی پارلیمانی انتخابات منعقد کرانے میں ناکام ہوئی ہے۔ریاست میں مجموعی طور پر4ہزار490پنچایتیں ہیں،جن میں سے وادی میں2ہزار389اور جموں میں2ہزار121پنچایتیں شامل ہیں،جبکہ مجموعی طور پر35ہزار پنچ وارڈ بھی موجود ہیں،جن میں کشمیر میں18ہزار785اور جموں میں16ہزار311وارڑ شامل ہیں۔ریاست میں 4دہائیوں کے بعد سال2011میں آخری بار پنچایتی انتخابات ہوا تھا۔نیشنل کانفرنس کے بائیکاٹ کے بعد بھی الیکشن محکمہ انتخابی تیاریوں میں مشغول ہیں۔یکم ستمبر کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایک تقریب کے دوران لوگوں کو پنچایتی و بلدیاتی انتخابات میں شرکت کرنے کی اپیل کی،تاہم صرف4روز بعد ڈاکٹر فاروق  نے5ستمبر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پارٹی کے کور گروپ اجلاس میں اعلان کردہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،جب تک نہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں دفعہ35اے کو لیکر اپنی پوزیشن واضح کریں گی اور عدالت کے اندر اور باہر اس دفعہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کارگر اور ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھائیں گے۔8ستمبر کو ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی برسی پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایک قدم اور بڑا کر اعلان کیا کہ اگر 35ائے سے متعلق تحفظات کو دور نہیں کیا گیا تو اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ بھی کیا جائے گا۔وزیر اعظم ہند کے اعلان کے بعد31اگست کو ریاستی گورنر انتظامیہ نے بھی جموں کشمیر میں طویل مدت سے التواء میں رکھے گئے پنچایتی و بلدیاتی انتخابات اکتوبر سے ڈسمبر تک منعقد کرانے کا اعلان کیا۔ انتظامیہ نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ ریاست میں بلدیاتی انتخابات یکم اکتوبر سے5اکتوبر تک4مرحلوں میں منعقد کرائے جائے گے،جبکہ پنچاتی انتخابات8نومبر سے4دسمبر سے8مرحلوں میں منعقد کرائے جائے گے۔